Politics & Current Affairs.🌎 “First Pakistan, then Politics.” (Philanthropist & Realist) 🇵🇰(SS)

Joined April 2025
تو محنت کر، محنت دا صلہ جانے، خدا جانے۔۔توں ڈیوا بال کے رکھ چا، ہوا جانے، خدا جانے۔ اے پوری تھیوے نہ تھیوے، مگر بیکار نئیں ویندی۔۔دعا شاکر توں منگی رکھ، دعا جانے، خدا جانے۔
2
3
8
4,914
2
40
286
1,511
8
34
1
178
747
2
6
28
341
5
10
144
947
مسلمہ بن عبدالملک، حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کی عیادت کے لیے حاضر ہوئے۔ انہوں نے حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ عنہ کی بیوی فاطمہ سے کہا: ’’میرا خیال ہے کہ امیرالمؤمنین کا جسم بہت کمزور اور لاغر ہو چکا ہے۔ اگر آپ ان کے کپڑے بدل دیں تو بہتر ہوگا۔‘‘ فاطمہ خاموش رہیں۔ مسلمہ بن عبدالملک نے دوبارہ یہی بات دہرائی تو انہوں نے کہا: ’’اللہ کی قسم! امیرالمؤمنین کے پاس اس قمیص کے سوا کوئی دوسری قمیص نہیں ہے۔‘‘ حوالہ: ابن ابی الدنیا، اصلاح المال، صفحہ ۳۸۶۔
1
7
38
1,348
اپنے نفس پر سب سے بڑا ظلم کرنے والا وہ شخص ہے جو ایسے انسان کے سامنے عاجزی اختیار کرے جو اُس کی عزت نہ کرتا ہو، اور اُس شخص کی محبت کا طلب گار ہو جس سے اُسے کوئی فائدہ نہ پہنچتا ہو۔ — امام شافعی رحمہ اللہ
1
17
632
ابنِ خلدون پر اللہ تعالیٰ کی رحمت ہو، جب انہوں نے کہا: ’’دشمنی ایک احساسِ کمتری سے جنم لیتی ہے جو انسان کے اندر چھپا ہوتا ہے؛ کیونکہ طاقت ور شخص کسی کا دشمن نہیں ہوتا۔‘‘ دشمنی دراصل کمزوری کی وہ چیخ ہے جو طاقت کا لبادہ اوڑھ کر سامنے آتی ہے۔ جو شخص تم سے دشمنی کرنے کی کوشش کرتا ہے، وہ خود کو چھوڑ کر تمہارے پیچھے لگ گیا ہے۔ لیکن طاقت ور انسان وہ ہے جس نے اپنے آپ سے صلح کر لی ہو، چنانچہ اب اسے اپنی برتری ثابت کرنے کے لیے کسی حریف کی ضرورت نہیں رہتی۔
1
3
15
868
زندگی کا سب سے عجیب راز یہ ہے کہ ہم دنیا کو بدلنے نکلتے ہیں، مگر واپسی پر خود پہلے جیسے نہیں رہتے! تم کسی شخص کی زندگی میں داخل ہوتے ہو تو شاید تمہیں گمان ہوتا ہے کہ تم صرف اُس کی کہانی کا ایک معمولی سا کردار ہو، مگر کون جانتا ہے کہ تمہارا ایک جملہ اُس کے ٹوٹے ہوئے حوصلے کو پھر سے زندہ کر دے؟ تمہاری ایک مسکراہٹ کسی کے دل سے برسوں کی اداسی دھو ڈالے؟ یا تمہاری بے رخی کسی ایسے دل میں خاموشی اُگا دے جو کبھی تمہارے لیے دھڑکتا تھا! ہم اپنے لمس سے صرف چیزیں نہیں بدلتے، ہم اپنے رویّوں سے لوگوں کے اندر موسم بدل دیتے ہیں۔ کسی کے حصے میں بہار لکھ جاتے ہیں، کسی کے اندر خزاں چھوڑ آتے ہیں، اور کبھی کسی کی زندگی میں ایسا چراغ روشن کر دیتے ہیں جس کی روشنی میں خود ہمیں بھی اپنا راستہ دکھائی دینے لگتا ہے۔ لیکن کہانی کا دوسرا رُخ بھی ہے! جن لوگوں کو ہم بدلنے کی کوشش کرتے ہیں، وہ بھی ہمیں بدل دیتے ہیں۔ کسی کی محبت ہمیں نرم دل بنا دیتی ہے، کسی کی بے وفائی ہمیں محتاط کر دیتی ہے، کسی کی جدائی ہمیں خاموشی کا مفہوم سمجھا دیتی ہے، اور کسی کی رفاقت ہمیں بتاتی ہے کہ سکون ہمیشہ بڑی بڑی خوشیوں میں نہیں، کبھی کسی کے پاس خاموشی سے بیٹھ جانے میں بھی ہوتا ہے۔ پھر ایک دن ہم پلٹ کر اپنی زندگی کو دیکھتے ہیں تو احساس ہوتا ہے کہ ہم وہ انسان نہیں رہے جو کبھی ہوا کرتے تھے۔ ہماری ترجیحات بدل چکی ہوتی ہیں، ہماری خواہشوں کے معنی بدل چکے ہوتے ہیں، اور جن چیزوں کے لیے کبھی ہم راتوں کو جاگتے تھے، اب اُن کے چھن جانے پر بھی دل میں پہلے جیسی ہلچل نہیں اٹھتی۔ یہی تو تبدیلی ہے! وقت صرف چہروں پر جھریاں نہیں ڈالتا، وہ دلوں میں نئی سمجھ، آنکھوں میں نئی بصیرت اور روح میں نئے موسم بھی پیدا کرتا ہے۔ اس لیے ہر تبدیلی کو نقصان مت سمجھو۔ کچھ دروازوں کا بند ہونا تمہیں اُن راستوں سے بچا لیتا ہے جن پر چل کر تم خود کو کھو دیتے۔ کچھ لوگوں کا چلے جانا تمہیں اپنی ذات سے ملوا دیتا ہے۔ کچھ خوابوں کا ٹوٹنا تمہیں حقیقت کی وہ زمین دکھا دیتا ہے جہاں تمہارے قدم پہلے کبھی ٹھہرے ہی نہیں تھے۔ اور ہاں، اگر تمہیں زندگی نے بدل دیا ہے تو اپنے اندر جھانک کر دیکھنا؛ کہیں ایسا تو نہیں کہ تم پہلے سے زیادہ سمجھ دار ہوگئے ہو، پہلے سے زیادہ مہربان ہوگئے ہو، یا اب تم نے یہ سیکھ لیا ہے کہ ہر جنگ لڑنا ضروری نہیں، ہر شخص کو جواب دینا لازم نہیں، اور ہر اُس چیز کو بچانا بھی ضروری نہیں جسے بچاتے بچاتے تم خود ٹوٹنے لگو۔ مگر ایک بات یاد رکھنا: تبدیل ضرور ہونا، لیکن اپنی روح کی خوب صورتی کو داؤ پر لگا کر نہیں۔ تجربات تمہیں گہرا کریں، تلخ نہیں؛ لوگوں کی بے وفائیاں تمہیں محتاط بنائیں، بے رحم نہیں؛ اور زندگی کی سختیاں تمہیں مضبوط کریں، سنگ دل نہیں۔ کیونکہ زندگی کا کمال یہ نہیں کہ تم کبھی بدلو ہی نہیں؛ کمال یہ ہے کہ بدلتے ہوئے بھی اپنے اندر کی انسانیت کو محفوظ رکھو۔ آخرکار، ہم سب ایک دوسرے کی کہانیوں سے گزرتے ہوئے آگے بڑھ جاتے ہیں۔ کوئی ہمیں سبق دے کر رخصت ہوتا ہے، کوئی دعا دے کر، کوئی زخم دے کر اور کوئی ایسا خوب صورت نشان چھوڑ جاتا ہے جسے وقت بھی مٹا نہیں پاتا۔ سو، جہاں رہو، وہاں خیر کا سبب بنو؛ جسے چھوؤ، اُسے کچھ بہتر کرکے چھوڑو؛ اور جب زندگی تمہیں بدلنے لگے تو دعا کرنا کہ تمہارا دل پہلے سے زیادہ روشن، تمہارا ظرف پہلے سے زیادہ وسیع، اور تمہارا تعلق اپنے رب سے پہلے سے زیادہ مضبوط ہوجائے۔ کیونکہ دنیا میں بہت سی چیزیں بدلتی رہتی ہیں، مگر سب سے خوب صورت تبدیلی وہ ہے جو انسان کو اپنے رب کے قریب اور اُس کی مخلوق کے لیے زیادہ رحمت بنا دے۔
3
1
15
334
سبحان اللہ
1
12
64
879
﴿يَوْمَئِذٍ تُحَدِّثُ أَخْبَارَهَا﴾ ”اس دن زمین اپنی خبریں بیان کرے گی۔“ وہ مقامات جہاں تم اپنے رب کو یاد کرتے ہو، قیامت کے دن تمہارے حق میں گواہی دیں گے، اُس دن جب تمہیں گواہی کی ضرورت ہوگی۔ لہٰذا، ہر جگہ اپنے گواہ بو دو! — ادہم شرقاوی
2
10
406
کبھی غور کرنا کہ اللہ تعالیٰ جب کسی بندے سے محبت فرماتا ہے تو ضروری نہیں کہ اُس کے لیے دنیا کے تمام دروازے کھول دے، اُس کی ہر دعا فوراً قبول کر لے، یا اُس کی زندگی سے تمام آزمائشیں ختم کر دے۔ کبھی اُس کی محبت کی سب سے خوب صورت نشانی یہ ہوتی ہے کہ وہ بندے کے دل میں اپنا ذکر اتار دیتا ہے؛ پھر وہی دل، جو دنیا کی ہزار الجھنوں میں بھٹکتا تھا، اللہ کے نام سے سکون پانے لگتا ہے۔ پھر ایک عجیب تبدیلی آتی ہے! وہی شخص جو کبھی لوگوں کی توجہ کا محتاج تھا، اب تنہائی میں بھی خوش رہنے لگتا ہے۔ وہی دل جو کبھی کسی کے ایک جملے سے ٹوٹ جاتا تھا، اب قرآن کی ایک آیت سے سنبھل جاتا ہے۔ وہی آنکھیں جو دنیا کے لیے بہتی تھیں، اب سجدے میں اپنے رب کے سامنے برسنے لگتی ہیں۔ اور پھر اُسے معلوم ہوتا ہے کہ سکون کسی انسان کے پاس نہیں تھا، کسی عہدے میں نہیں تھا، کسی دولت میں نہیں تھا؛ سکون تو اُس رب کے ذکر میں تھا جسے وہ دنیا بھر میں تلاش کرتا رہا، مگر اپنے دل میں جگہ دینا بھول گیا تھا۔ اے میرے عزیز! اگر تمہیں تنہائی میں اللہ یاد آنے لگا ہے، اگر گناہ کے بعد تمہارا دل بے چین ہو جاتا ہے، اگر قرآن کی آیات تمہارے اندر کچھ بدلنے لگی ہیں، اگر تمہاری زبان بے اختیار سُبْحَانَ اللّٰهِ، اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ، اَللّٰهُ أَكْبَرُ کہنے لگتی ہے، تو اپنے اس حال کی قدر کرو۔ ہر شخص کے حصے میں یہ نعمت نہیں آتی کہ اُس کا دل اپنے خالق کی یاد سے مانوس ہو جائے۔ بہت سے لوگ دنیا کی محفلوں میں بیٹھ کر بھی تنہا ہیں، اور کچھ لوگ مصلّے پر بیٹھ کر پوری کائنات سے زیادہ آسودہ ہوتے ہیں۔ قرآن نے اسی حقیقت کو کتنے مختصر مگر گہرے لفظوں میں بیان کیا ہے: أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ ’’خبردار! اللہ کے ذکر ہی سے دلوں کو اطمینان حاصل ہوتا ہے۔‘‘ (سورۃ الرعد: ۲۸) سو، جب دنیا تمہیں تھکا دے تو اللہ کی طرف لوٹ آنا۔ جب لوگ تمہیں نہ سمجھیں تو اپنے رب سے باتیں کرنا۔ جب آنکھوں میں آنسو ہوں اور لفظ ساتھ نہ دیں تو خاموشی سے سجدے میں گر جانا؛ کیونکہ اللہ کو تمہارے الفاظ سے پہلے تمہارے دل کا حال معلوم ہے۔ اور یاد رکھنا، اللہ کے ذکر میں سکون ملنا ایک عظیم نعمت ہے، مگر اس نعمت کی حفاظت بھی ضروری ہے۔ ذکر کو صرف پریشانی کے وقت کا سہارا نہ بناؤ، اسے اپنی زندگی کا معمول بنا لو؛ تاکہ خوشی میں شکر، آزمائش میں صبر، تنہائی میں پاکیزگی اور ہر حال میں اپنے رب سے تعلق قائم رہے۔ آخرکار، محبت کی سب سے حسین منزل شاید یہی ہے کہ بندہ دنیا سے بھاگ کر نہیں، بلکہ دنیا میں رہتے ہوئے اپنے رب کے ساتھ جینا سیکھ لے۔ پھر اُس کے پاس سب کچھ نہ بھی ہو، تب بھی اُس کے پاس وہ ذات ہوتی ہے جس کے ہوتے ہوئے کوئی محرومی آخری محرومی نہیں رہتی۔ کیونکہ جس دل کو اللہ کی یاد سے اُنس مل جائے، وہ دل دنیا کے شور میں بھی اپنے رب کی قربت کا راستہ پہچان لیتا ہے۔
1
3
22
561
5
21
209
ہائیو میریا ڈاڈیاں ربا، میرے سجناں دے کول مینوں رکھنا ھے
3
4
46
802
خَاتَمُ النَّبِیّٖن صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: نرمی جس چیز میں بھی ہوتی ہے اس کو زینت بخش دیتی ہے اور جس چیز سے بھی نرمی نکال دی جاتی ہے اسے بدصورت کر دیتی ہے۔ (صحیح مسلم: 6602)
4
5
33
512
وَاسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلَاةِ ​ (اے ایمان والو) صبر اور نماز سے مدد لیا کرو ​English: And seek help through patience and prayer. ​Reference: (سورة البقرة: 45 / 153)
3
23
221
حضرت یوسف جانتے تھے کہ سب دروازے بند ہیں لیکن پھر بھی وہ بندہ دروازوں کی طرف دوڑ پڑے اور اللہ نے ایک ایک کر کے سب دروازے کھول دیئے تو اگر کبھی تمہیں لگے کہ دروازے بند ہیں تمہارے لئے تو جان لو تمہارا اور یوسف کا خدا ایک ہے
2
5
42
655
الحمداللہ فوری انصاف پہ پنجاب کو سلام
2
1
25
915
*لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا* *غم نہ کرو، بے شک اللہ ہمارے ساتھ ہے۔* _(سورۃ التوبہ - آیت 40)_
9
4
53
595
حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے نام اللہ تعالیٰ کا سلام، اور جنت میں ایک گھر کی بشارت ❤️ رسول اللہ ﷺ تشریف فرما تھے کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام حاضر ہوئے اور عرض کیا: ’’اے اللہ کے رسول! یہ خدیجہ آ رہی ہیں۔ ان کے پاس ایک برتن ہے جس میں سالن، کھانا یا کوئی مشروب ہے۔‘‘ پھر حضرت جبرائیل علیہ السلام نے عرض کیا: ’’جب وہ آپ کے پاس آئیں تو انہیں ان کے رب کی طرف سے سلام کہیے، اور میری طرف سے بھی سلام کہیے۔‘‘ یہ سلام محض الفاظ نہ تھے، بلکہ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے مقام و مرتبے کی ایسی عظیم بشارت تھی کہ دنیا میں ہی انہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے سلام پہنچایا گیا۔ 📚 حوالہ: صحیح البخاری، حدیث 3820؛ صحیح مسلم، حدیث 2432۔
2
11
75
702
سورہ الانبیاء: 107 وَمَاۤ اَرۡسَلۡنٰكَ اِلَّا رَحۡمَةً لِّـلۡعٰلَمِيۡنَ ۞ اے محمدؐ ، ہم نے آپ کو نہیں بھیجا مگر تمام دنیا والوں کے لئے رحمت بنا کر۔ تنبی ﷺ کی بعثت دراصل نوع انسانی کے لیے خدا کی رحمت اور مہربانی ہے، کیونکہ آپ نے آ کر غفلت میں پڑی ہوئی دنیا کو چونکایا ہے، اور اسے وہ علم دیا ہے جو حق اور باطل کا فرق واضح کرتا ہے، اور اس کو بالکل غیر مشتبہ طریقہ سے بتادیا ہے کہ اس کے لیے تباہی کی راہ کونسی ہے اور سلامتی کی راہ کونسی۔ کفار مکہ حضور ﷺ کی بعثت کو اپنے لیے زحمت اور مصیبت سمجھتے تھے اور کہتے تھے کہ اس شخص نے ہماری قوم میں پھوٹ ڈال دی ہے، ناخن سے گوشت جدا کر کے رکھ دیا ہے۔ اس پر فرمایا گیا کہ نادانو، تم جسے زحمت سمجھ رہے ہو یہ درحقیقت تمہارے لیے خدا کی رحمت ہے۔ (تفہیم القرآن ) @GhazalaTallat
1
1
7
177