Pinned Tweet
First on the List, Possibly One of the Greatest All rounder, The most Charismatic Lion from Lahore ,The Great Imran khan
Muhammad Ali retweeted
اصلی اینکیڈو کا اکاونٹ بند ہوئے آج تین سال ہوگئے ہیں۔ عمران خان اور تحریک انصاف کے نام پر ہزاروں لاکھوں دوکانیں چلتی ہیں لیکن ہمارے اس کھوکھے کا شٹر اسکے ساتھ ساتھ حضرت اصلی اینکیڈو کی مہربانی سے بھی کھلتا ہے اور ہمارا چورن بکتا ہے تو ہم دل کی اتھاہ گہرائیوں سے انکے شکرگزار ہیں۔
جب فوج نے اصلی اینکیڈو کا اکاونٹ بند کروایا تو اس وقت چند جرنیل برے تھے ، باقی فوج اچھی تھی۔ فوج کے اکاونٹ کے رپلائیز بھی بند نہیں تھے۔ عام شہری فوجی ٹرکوں کو روک کر تم ہمارے دشمن ہو نہیں کہتے تھے۔ لوگ شاکی تھے لیکن ننگی گالیوں کا سلسلہ ابھی شروع نہیں ہوا تھا۔ فوج کی پوسٹس کو دیکھ کر فیس پر ہنسی کے ٹرک نہیں الٹتے تھے۔
نو مئی کے بعد کی وحشت تھی۔ یہ بھی بک جاتا تھا کہ فوج سب ٹھیک کرلے گی۔ کٹھ پتلی جماعتیں مقبول ہوجائیں گی اور عمران خان کے کپڑے بھی اس کا ساتھ چھوڑ جائیں گے۔ لیکن پھر کیا ہوا ؟ کیا زبردستی اکاونٹ بند کروانے سے آوازیں بند ہوگئیں ؟ یا سختی اور دباؤ سے نفرت میں اضافہ ہوا ؟ کیا ردعمل میں اضافہ نہیں ہوا ؟ کیا فوج کی مشکلات میں بھی اضافہ نہیں ہوا ؟ ہوا ، سب ہوا۔ مزید برا ہوگا ، کیونکہ طریقہ واردات آج بھی وہی ہے اور سبق نہیں سیکھا گیا۔
اینکیڈو انکل ، آپ اس جنگ کے پائنیر ہیں ، اساطیری ہیرو ، لیونگ لیجنڈ ، مشعل راہ ، گلے شکوے شکایتیں مشکلات سب اپنی جگہ ، کبھی فرصت ملے تو آئیے نا ، آپ کو بہت سارے لوگ بہت سارا مس کرتے ہیں۔ آجائیں کسی دن ، پلیز۔
Muhammad Ali retweeted
Hell will be illuminated by bright stars like you 🔥🔥🔥🔥
Our sister @asmashirazi is the shining star. Haters can go to Hell! 🥊
Muhammad Ali retweeted
جب ٹویٹ کو عقیدت کے بغیر پڑھا جاتا تو ٹویٹ کو کچھ یو ں ہونا چاہے ۔
The teacher beat him black and blue with a shoe across the face .
محترمہ نے فارم پینتالیس کی طرح ہی جملے میں سبجیکٹ کو غائب کردیا ۔ جملے کوimpertive بنادیا اور محترمہ کے مریدوں کا اصرار ہے کہ باقی پاکستان اب محترمہ کی انگریزی سیکھے ۔
Muhammad Ali retweeted
کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ انگریزی کا ایک عام سا جملہ دیکھ کر بھی اس میں قوسین، فاعل اور پورا قصہ خود سے بھر دیتے ہیں۔
مریم کے ٹویٹ میں لکھا تھا:
“Beat him black and blue across his face with a shoe.”
یہ صاحب اس میں سے یہ مطلب نکال لائے کہ استاد نے بچے کو مارا ہے، پھر باقی سب کو بیوقوف قرار دے دیا کہ تمہیں اتنی سی انگریزی بھی نہیں آتی۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ اصل جملے میں حکم ہے، ماضی کی کوئی خبر نہیں۔ مگر جذبے نے گرامر کو اتنا زور سے مروڑا کہ حکم رپورٹ بن گیا۔
یہ ترجمہ نہیں، عقیدت ہے۔ اور عقیدت جب ترجمہ کرنے لگے تو انگریزی کا کیا، عقل بھی محفوظ نہیں رہتی۔
Muhammad Ali retweeted
پٹواری مطیع اللہ جان کو انگریزی پڑھا رہے ۔۔ اس کی ٹویٹ کے نیچے پٹواریوں کے کمنٹس پڑھ کر آئی ہوں ۔ توبہ توبہ
کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ انگریزی کا ایک عام سا جملہ دیکھ کر بھی اس میں قوسین، فاعل اور پورا قصہ خود سے بھر دیتے ہیں۔
مریم کے ٹویٹ میں لکھا تھا:
“Beat him black and blue across his face with a shoe.”
یہ صاحب اس میں سے یہ مطلب نکال لائے کہ استاد نے بچے کو مارا ہے، پھر باقی سب کو بیوقوف قرار دے دیا کہ تمہیں اتنی سی انگریزی بھی نہیں آتی۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ اصل جملے میں حکم ہے، ماضی کی کوئی خبر نہیں۔ مگر جذبے نے گرامر کو اتنا زور سے مروڑا کہ حکم رپورٹ بن گیا۔
یہ ترجمہ نہیں، عقیدت ہے۔ اور عقیدت جب ترجمہ کرنے لگے تو انگریزی کا کیا، عقل بھی محفوظ نہیں رہتی۔
Muhammad Ali retweeted
Notice from the Grammar Teacher:
Dear Student,
In the translation you so confidently presented, you:
1. Inserted a subject that was never there
2. Changed the tense from imperative to past
3. Filled in parentheses of your own invention
4. Then issued certificates of English incompetence to everyone else
When the discussion returned to actual grammar, you switched to medical advice and prayers for recovery.
Please remember:
• An imperative sentence is a command, not a report.
• “Beat him” means “hit him,” not “he hit someone.”
• Adding the word “Shame” does not convert a command into a past-tense statement.
Next time you come to class, leave the diagnosis and the prayers outside.
Bring only the sentence.
Grammar Teacher
Muhammad Ali retweeted
استانی صاحبہ کی طرف سے نوٹس:
محترم طالب علم،
آپ نے جو ترجمہ پیش کیا تھا اس میں:
1. فاعل خود سے لگایا
2. زمانہ ماضی خود سے بنایا
3. قوسین خود سے بھرے
4. اور پھر دوسروں کو انگریزی نہ آنے کا سرٹیفکیٹ جاری کر دیا
اب جب بات گرامر پر آئی تو آپ نے “اللہ شفا دے” کا نسخہ لکھ دیا۔
یاد رکھیں:
• Imperative sentence حکم ہوتا ہے، رپورٹ نہیں۔
• “Beat him” کا مطلب “اسے مارو” ہوتا ہے، “اس نے مارا” نہیں۔
• “Shame” لگانے سے حکم ماضی میں تبدیل نہیں ہوتا۔
اگلی کلاس میں آئیں تو بغیر تشخیص اور بغیر دعا کے آئیں۔
صرف جملہ لے کر آئیں۔
گرامر ٹیچر
Muhammad Ali retweeted
ورلڈ بینک کی رپورٹ کیمطابق پاکستان میں ہر تیسرا شخص دو وقت کی روٹی افورڈ نہیں کرسکتا ۔۔ اس سسٹم پر بزور بندوق قابض لوگ ایک غریب کی سال بھر کی آمدنی سے بھی زیادہ اپنے برے کاموں کی جسٹیفکیشن کے لئے پانچ سے چھ لاکھ ایک ٹویٹ کا دیتے ہیں ۔
یہ ٹاوٹ پانچ لاکھ لیکر کیا کرتے ؟
لکھتے معیشت مستحکم ہورہی ۔۔ مہنگائی کم ہورہی ۔۔۔
یہ سسٹم غریب کے خلاف بنایا گیا ہے جو صرف چند خاندانوں چند ٹولوں اور چند ایجنیسوں کے ٹاوٹوں کے لئے کام کرتا ۔
Muhammad Ali retweeted
محترمہ عاصمہ شیرازی صاحبہ مقبول بیانیے کے خلاف کھڑے ہونے کی بہادری کا نیا نعرہ دراصل عاصم منیر اور نواز شریف کے مظالم اور غیر آئینی اقدامات کے دفاع کے لیے تراشا گیا ایک نیا بہانہ ہے
صحافی کا مقبول یا غیر مقبول بیانیے سے کیا لینا دینا؟ صحافی کا کام سچ بولنا ہے، ظلم کے خلاف کھڑا ہونا ہے، نہ کہ یہ دیکھنا کہ سچ بولنے سے نواز شریف کو فائدہ ہوگا یا عمران خان کو
اگر کل نواز شریف کے خلاف آئین توڑنا غلط تھا تو آج عمران خان کے خلاف بھی غلط ہے، اگر کل سیاسی انتقام ظلم تھا تو آج بھی ظلم ہے، اگر کل چادر اور چار دیواری کی پامالی، الیکشن چوری اور عدلیہ پر حملے جمہوریت کا قتل تھے تو آج بھی ہیں، یہ کیا تماشا ہے کہ کل یہیں سب کچھ ظلم تھا اور آج نواز شریف کو فائدہ پہنچ رہا ہے تو اسے جائز ثابت کرنے کے لیے مقبول بیانیے کی مخالفت کا لبادہ اوڑھ لیا جائے
اگر کل کسی عمل کو ظلم کہنے کے لیے آپ کے پاس سو دلیلیں تھیں تو آج اسی ظلم کے دفاع میں ایک دلیل بھی نہیں ہونی چاہیے، ظلم کی تعریف نواز شریف کے اقتدار میں آنے یا جانے سے نہیں بدلنی چاہیے
اصل بہادری عوام کے مقبول بیانیے کو للکارنا نہیں، بلکہ اپنے پسندیدہ حکمران کے ظلم کو اس کے منہ پر ظلم کہنا ہے، چاہے اس سے آپ کے محبوب قائد کی ساری سیاست ہی کیوں نہ ڈوب جائے
محترمہ جو کل ظلم تھا، وہ آج بھی ظلم ہے، سیاسی مفادات کے لیے اصول بدل کر طاقتور کے مظالم کا دفاع کرنا صحافت نہیں بدترین خوشامد ہے اور اس بے اصولی کو مقبول بیانیے کے خلاف کھڑے ہونے کی بہادری کہنا فکری بددیانتی اور صحافت کے منہ پر طمانچہ ہے، طمانچہ کے علاوہ کوئی اور لفظ استعمال کیا تو آپ کو برا لگے گا
باقی بہادری عوام کے مقبول بیانیے کو للکارنے میں نہیں، طاقتور ظالم کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر سچ بولنے میں ہے، باقی سب طاقتوروں کی نوکری ہے، صحافت نہیں
Muhammad Ali retweeted
Yes Jeffrey Sachs is also a haqeeqi azaadi propagandist working on the payroll of Waqas and Ryan Grim.
Chomsky too has been on Haqeeqi Azaadi payroll.
At this point the whole world is on Haqeeqi Azaadi propaganda payroll.
(Jeff Sachs article link in the comments below)
Muhammad Ali retweeted
یہ حب الوطنی کا چورن بیچ کر قوم پر قابض رہنے کا دھندا بند کرو!
جو ریاست مجھے تعلیم نہیں دے سکتی، انصاف نہیں دے سکتی، علاج نہیں دے سکتی، تحفظ نہیں دے سکتی، وہ مجھ سے وفاداری کا مطالبہ کس منہ سے کرتی ہے؟
ملک پتھروں، پہاڑوں، دریاؤں اور درختوں کا نام نہیں ہوتا، ملک وہاں بسنے والے انسانوں کا نام ہوتا ہے۔
لیکن آپ نے پاکستان کا مطلب چند طاقتور جرنیل، حکمران، اشرافیہ اور ان کے مفادات بنا دیا ہے، پھر چاہتے ہو کہ عوام ان کی وفاداری کے حلف اٹھاتے پھریں؟
میں اس ملک کا شہری ہوں، کسی کے باپ کا نوکر نہیں کہ اپنے حقوق بھی نہ مانگوں اور وفاداری کے سرٹیفکیٹ بھی پیش کرتا پھروں!
اور سنو! جس دن پاکستان کا مطلب واقعی پاکستان کے عوام ہو گیا، اُس دن کسی کو مجھ سے وفاداری مانگنے کی ضرورت ہی نہیں پڑے گی۔
کیونکہ عوام سے محبت کے لیے کسی سرٹیفکیٹ کی ضرورت نہیں ہوتی، اور حکمرانوں کی غلامی کا نام حب الوطنی نہیں ہوتا!
مطیع اللہ جان صاحب نے باہر بیٹھے ہوئے سوشل میڈیا ایکٹیویسٹس کی تاہید کی ہے کہ میرا ان سے بہت چیزوں پر اختلاف ہے لیکن وہ جو بات کر جاتے ہیں وہ آپ پاکستان میں ہوتے نہیں کر سکتے اور اسی بات کی عسکری صحافیوں کو تکلیف ہے اور عسکری تحریک انصاف کو بھی تکلیف شائد شروع ہو جائے
Muhammad Ali retweeted
یعنی اگر صحافی یہ پوچھے کہ ایک صوبے کا وزیراعلیٰ اور اسمبلی کا سپیکر 13 دن لاپتہ ہے، بتائیں وہ کہاں ہے؟
تو وہ صحافی ”مقبول بیانیے“ کا شکار ہو گیا، وہ کسی پارٹی کا ترجمان ہو گیا۔ سبحان اللہ۔
میڈیا میں الطاف حسین کا نام لینے پر پابندی لگائی گئی تب بولے۔
نواز شریف کو تاحیات نااہل کرنے کا عدالتی کھیل کھیلا گیا تب بولے۔
اب عمران خان اور اُن کی جماعت کے ساتھ بھی وہی ہو رہا ہے تو خاموش رہیں۔ اگر، مگر - چونکہ، چنانچہ کریں، کیوں بھئی؟
جو گزشتہ کل غلط تھا اور اُس کو غلط کہا، تو آج بھی غلط ہے، اور کہتے رہیں گے۔
Muhammad Ali retweeted
تیریاں ریساں کون کرے
علی وزیر کے سامنے امیدوار کھڑا نہیں کیا کہ پشتون قوم پرستوں کو آئسولیٹ کرنے کی بجائے قومی دھارے میں لایا جائے۔ ثمر بلور کے ضمنی الیکشن میں امیدوار کھڑا نہیں کیا کہ اسکا شوہر دہشتگردی کا شکار ہوا ہے۔ اختر مینگل نے اعتراف کیا کہ عمران خان نے 400 لاپتہ بلوچ افراد بازیاب کروائے۔ گلالئی اسماعیل کے والد کو باہر جانے کے لیے مدد دی گلالئی کا شکریے والا ٹویٹ آج بھی بطور ثبوت موجود ہے۔
ہر جماعت نے عمران خان کے خلاف بار بار لانگ مارچ نکالے، کسی لانگ مارچ پر کریک ڈاون نہیں ہوا کہیں تشدد نہیں ہوا ، کبھی ورکرز کے گھر نہیں توڑے۔ نواز شریف نے بیمار ہونے کی ایکٹنگ کی تو ترس آگیا اور نواز شریف فیصل واڈا کے کتے کے خون کا سیمپل دے کر باہر چلا گیا۔ مطیع اللہ جان کو فوج نے اٹھایا تو فوری بازیاب کروایا۔
غلطیاں کمیاں کمزوریاں کوتاہیاں بھی رہیں لیکن ایسی مثالیں آپ کو پاکستان کی اسی سالہ تاریخ میں کہیں نہیں ملیں گی۔ المیہ یہ رہا کہ شاید ہی ان میں سے کوئی ایسا ہو جس نے بعد میں عمران خان کو ڈسا نہ ہو۔
Muhammad Ali retweeted
پراڈو والے کو پولیس اہلکار نے پکڑ رکھا ہے اور پٹرول پمپ کا ملازم اسے تھپڑ مار رہا ہے۔ یہ انصاف نہیں وحشیوں کے معاشرے میں داد سمیٹی جارہی ہے۔ اچھے بھلے لوگ کہہ رہے ہیں سکوٹی والی لڑکی کو مارنے والے وکیل کا اردگرد کھڑے لوگوں کو منہ توڑ دینا چاہیے تھا۔ نہیں بھائی یہ اکیسویں صدی ہے اور یہ بھی انصاف نہیں ہے۔ ایک بزرگ سکول ٹیچر کو ہتھکڑیاں لگا کر کھڑا رکھا گیا ہے اور فوجی جرنیل کی خواہش پر وزیراعلی بننے والی خاتون اسکے منہ پر جوتے مارنے کی خواہش کا اظہار کررہی ہے۔
یہ سب پولیس مقابلے ، یہ جوتے مارنے کی خواہش یہ تھپڑ کے جواب میں تھپڑ ؟ یہ “ فوری انصاف “ یہ سب کیا ہے؟ یہ آپ اور ہم جیسے ذہنی بیماروں سے داد سیمٹی جارہی ہے۔ یہ اس یتیم یہو معاشرے کی حالت زار ہے جہاں انصاف ، قانون ، سسٹم اور ٹرائل کے نام پر یہی سب کچھ بچا ہے۔المیہ در المیہ کہ ہم سب جذبات کی رو میں بہہ کر کبھی نا کبھی ایسی سوچ کی داد دے بیٹھتے ہیں۔ اور چونکہ ہماری جو پست حالت معاشی ، سیاسی اور معاشرتی ہے وہی ذہنی بھی ہے۔
دنیا کے کسی ترقی یافتہ ملک میں ایسا “ فوری انصاف” نہیں ہوتا۔ لوگوں کو پولیس سے لیکر عدالت تک ہر چیز پر اعتماد ہے۔ کسی دوسرے کو ہاتھ لگاتے ہوئے ڈرتے ہیں کہ سزا الگ ہوگی چوٹ سے لیکر “ نفسیاتی ٹراما “ کا بھی ہرجانہ الگ دینا پڑے گا۔ یہ پولیس مقابلے ، یہ فوری انصاف یہ ذہنی مریضوں کے معاشرے میں ایسی واہ واہ صرف دنیا کے بدترین اور ناکام ترین معاشروں میں ہے۔
Muhammad Ali retweeted
ڈئیر @mudsays میں اپنی ٹویٹ پر قائم ہوں مگر میری بد بختی کہ مجھ سے کوٹ ہو جانے والی ٹویٹ میں کچھ سخت الفاظ بدقسمتی سے نظر انداز ہو گئے تھے۔ مگر اب جس ٹویٹ کو آپ نے کوٹ کیا ہے اُس میں کچھ زیادہ ہی سخت الفاظ ہیں اس لیئے پلیز مجھ سے یہ نہ ہو گا، برا نہ منائیے گا۔ تاہم آپکی ٹویٹ کے الفاظ مناسب ہیں اس لئیے انہیں کوٹ کرنے کی جسارت کر رہاُہوں تاکہ آپکا موقف بھی پوری طرح میرے فالورز کو پہنچے۔
مطیع اللہ جان صاحب آپ کے فیورٹ امریکی یورپین سچے دوستوں کا ایک اور ٹویٹ سامنے آیا ہے، پلیز اسے بھی ری ٹویٹ کریں ناں۔ ساتھ دو لائنیں بھی لکھیں تاکہ ویوز آئیں۔ پچھلے ٹویٹ پر دو لاکھ 67 ہزار ویوز آئے ہیں۔
@Matiullahjan919




























