حضرت ادریس علیہ السلام کے مزار کی زیارت کیجئے ۔۔ جنکو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرح آسمان پر اٹھا لیا گیا تھا۔۔
چوہدری شاہد محمود retweeted
🥲ایک ورکر کی آواز بنیں🥲
میں مسلم لیگ نون کی سوشل میڈیا ٹیم کا ایک چھوٹا سا ورکر ہوں ہماری اج تیسری نسل مسلم لیگ نون کو سپورٹ کر رہی ہے میں نے اپنے طور پر بہت کوشش کی کہ میرا یہ مسئلہ کسی طریقے سے حل ہو جائے وزیراعلی کے پورٹل پہ بھی کمپلین کی کچھ سیاسی لیڈران جن کے ساتھ میرا تعلق تھا ان کو بھی کہا لیکن کسی نے بھی میرا یہ مسئلہ حل نہیں کیا اور اج مجبور ہو کر سوشل میڈیا پر یہ چیز پوسٹ کر رہا ہوں اور سوچ رہا ہوں کہ کیا میرے جیسے اور بھی سوشل میڈیا یا مسلم لیگ کے ورکر ایسے ہیں جن کے ساتھ ایسی زیادتیاں ہو رہی ہیں لیکن اس کے باوجود اج بھی سوشل میڈیا پر مسلم لیگ نون کو دن رات ڈیفینڈ کر رہا ہوں 🥲
افسوس ان سیاسی لیڈران پر ہے جن کے لیے میں نے دن رات کام کیا لیکن جب میرے اوپر مشکل ائی تو منت سماجت کرنے کے باوجود میرا مسئلہ حل کرنے کی بجائے مجھے صرف تسلیاں ہی دی گئی
ہمارے حلقے کے پولنگ اسٹیشن پر ہر الیکشن میں پولنگ ایجنٹ میرا بھانجا ہوتا ہے چاہے وہ خواجہ سعد رفیق صاحب کا الیکشن ہو یا عطا تارڑ صاحب کا 🥲
اس لیے اب
اس پوسٹ کے ذریعے تمام بھائی بہنوں سے یہ درخواست کرتا ہوں کہ اس پیغام کو آگے بڑھائیں تاکہ یہ متعلقہ قانونی اور سرکاری اداروں تک پہنچ سکے۔
تصویر میں موجود شخص کا نام مصطفیٰ جہانگیر بھٹی ہے، جو کہ برکی روڈ لاہور پر "پرنسٹن فارمز" (Princeton Farms) نامی فارم ہاؤس سوسائٹی کے ذریعے پلاٹس اور فارمز فروخت کر رہا تھا۔ ہم نے اس شخص سے 4 کنال پراپرٹی خریدی تھی اور پورے 3 سال تک اپنی محنت کی حلال کمائی سے اس کی تمام قسطیں (انسٹالمنٹس) وقت پر ادا کی ہیں۔
لیکن قبضہ (پوزیشن) دینے کے وقت اس شخص نے نہ صرف پراپرٹی دینے سے انکار کیا بلکہ ہماری رقم واپس کرنے کے بجائے فراڈ کا ارتکاب کیا ہے۔ یہ شخص اس وقت کھلے عام لاہور میں گھوم رہا ہے اور ہماری محنت کی پونجی کو ہڑپ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اس شخص کے خلاف اس طرح کی پندرہ (15) سے زائد ایف آئی آر (FIRs) درج ہو چکی ہیں، اس کے باوجود یہ دندناتا پھر رہا ہے۔
کہاں ہے ہمارے پاکستان کا قانون؟
کہاں ہے وہ قانون جو خصوصاً پراپرٹی کے
معاملات اور فراڈ کے لیے بنایا گیا تھا؟
میں وزیر اعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف سے یہ سوال پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا ہم جیسے محنت کش پاکستانیوں کو کبھی انصاف ملے گا؟
پاکستان میں بیٹھا یہ بڑا مافیا اور قبضہ گروپ کب ختم ہوگا؟
کیا اب کوئی پاکستانی آنکھیں بند کر کے اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی سے کوئی پراپرٹی بھی نہیں خرید سکتا؟
کیا اس ملک میں عام آدمی کا استحصال ہی مقصود ہے؟
ہم جیسے عام لوگ جو دن رات محنت کر کے حلال کماتے ہیں، وہ یہ سوچ کر ڈرتے ہیں کہ اگر عدالتوں اور پولیس کے چکر میں پڑ گئے تو شاید ہماری آدھی زندگی ان مقدمات کے فیصلوں کا انتظار کرتے ہوئے ہی گزر جائے گی۔ کیا اس ملک میں کوئی ایسا نظام نہیں جو ایسے عادی مجرموں کو فوری کیفرِ کردار تک پہنچا سکے؟
میں اس پوسٹ کے ذریعے تمام عام لوگوں سے التجا کرتا ہوں کہ اس شخص کے خلاف آواز بلند کرنے میں ہماری مدد کریں، اور اگر اس معاملے میں کوئی قانونی یا امدادی راستہ ہو تو رہنمائی فرمائیں۔
اگر اس معاملے میں کوئی بھی میری مدد کر سکتا ہے یا مجھے میرا حق دلوا سکتا ہے، تو میں آپ کا تہِ دل سے مشکور ہوں گا۔
@MaryamNSharif
@TararAttaullah
@KhSaad_Rafique
@AzmaBokhariPMLN
@ZeshanMalick
@SaimaFarooq
بدر معاہدہ۔
دنیا اب سمجھ چکی ھے کہ اگر آپ اپنا دفاع نہیں کر سکتے تو بڑی سی بڑی معیشت کچھ دنوں میں بیٹھ جائے گی۔
انڈونیشیا اور قطر پاکستان سےہتھیار بنانا سیکھنا چاہتے ہیں جی ہاں بالکل ایسا ہی ہے پاکستان نے مکہ ڈیفنس پیک کے بعد بدر میمور رینڈم آف انڈرسٹینڈنگ پر بھی دستخط کر
1/5
سے بڑی فوج موجود ہے پاکستان جس کے پاس نیوکلیئر ویپنز اور جدید ٹیکنالوجی ہیں وہیں پر اگر انڈونیشیا کی بات کریں جس کے پاس 17 ہزار سے زیادہ ائیلینڈز موجود ہیں تو یہ سٹریٹ اپ ملاکہ کو بھی بلاک کر سکتا ہے اور اگر قطر کو دیکھا جائے تو یہ ایسا مملک ھے جس نے فٹبال ورلڈکپ کو اپنے
4/5
حیرت ھے سب کچھ راز میں رکھا گیا۔
اتنی اہم میٹنگ ختم ہونے کے بعد میڈیا منہ دیکھتا رہا۔
کوئی مشترکہ پریس کانفرنس یا باضابطہ میڈیا بریفنگ نہیں دی گئی۔
ہنگامی میٹنگ کے دوران ہونے والے تمام مذاکرات، فیصلوں اور سکیورٹی امور کی اندرونی تفصیلات کو مکمل طور پر خفیہ رکھنے کا فیصلہ کیاگیا۔
جنگیں صرف مشکلات لاتی ہیں۔
وصی نامہ۔۔
آج پاکستانی تجویز پر تہران میں چار ملکی اجلاس ہوا، فیلڈ مارشل عاصم منیر ، سعودی وزیر دفاع پرنس خالد بن سلمان ، ترک انٹیلی جنس چیف ابراہیم کالن شریک ہوئے ۔ اجلاس کی سربراہی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونس سے سیکرٹری بریگیڈیر جنرل محسن رضائی
1/6
وزارت دفاع کو اجازت دے دی کہ اگر سعودی عرب کو ضرورت ہو تو اس کے دفاع کے لیے فوجی دستے فراہم کیے جائے گے۔۔
درحقیقت یہ جنگ ہمیں لے دے بیٹھی ہے ، انرجی کی قیمتوں کو آگ لگی ہوئی ہے، ہمارے چابو آئی ایم ایف سے الگ پریشان اور سخت فیصلے کرنے پر مجبور ہیں۔ ایسے میں کوئی کسر باقی تھی
5/6
بڑے فیصلے ہونے جا رھے ہیں۔۔
تہران میں ایران کی میزبانی میں چار ملکی اجلاس ۔ فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر، وزیر داخلہ محسن نقوی، سعودی وزیر دفاع، ترکیہ انٹیلیجنس سربراہ اور ایرانی وزیر خارجہ و دیگر حکام شریک ۔۔
خطے میں پائیدار امن کے حوالے سے اہم فیصلے ہوںے جا رھے ہیں۔
کیسی کیسی آڈیو لیک ہو رہی ہیں۔ کچھ سمجھ نہیں آتا چل کیا رہا ھے۔ ایک طبقہ اس کال کو فیک بول رہا ھے جبکہ کچھ لوگ بول رھے یہ فیک نہیں ھے۔
اب اللہ ہی بہتر جانتا ھے
جسکو نمک حراموں کی زیادہ فکر ھے وہ افغانستان چلا جائے لیکن میری حکومت سے ریکوئسٹ ھے کہ افغان بارڈر کسی صورت نہیں کھلنا چاہیے۔ ہم تو مینیج کر لیں گے اور کر رھے ہیں۔ لیکن افغانستان مینیج نہیں کر پائے گا۔ اس کی مشکلات میں دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا ھے۔ ایک تو افغانستان کے تاجر
1/3
حضرات کا افغان حکومت پر پریشر بڑھتا جا رہا ھے۔ افغانی عوام بھی اپنی ہی حکومت کے خلاف کھڑی ہو رہی ھے۔
افغانستان کے لوگ پاکستان علاج کے لئے آتے ہیں وہ بھی مکمل بند کریں ہر طرح کا تعاون بلکل ختم کر دیں۔ ایسا کرنے کے بعد ہی ان نمک حراموں کو ہوش آئے گی۔ جو مال ہمیں اور پاکستان
2/3
کے راستے دیگر ممالک کو بھیجا جاتا تھا۔ پاک، افغان بارڈر بند ہونے کے بعد افغانی تاجروں کو وہی مال دوسرے ممالک کو بھیجنے کے لیے تین گنا کرایہ اور وقت بھی بہت زیادہ لگ رہا ھے۔۔
یہ سلسلہ مکمل طور پر بند رکھنا چاہیے ہم
اپنی افواج اور اپنے عوام کی لاشوں پر کھڑے ہو کر پیسہ نہیں کمانا چاہتے۔
ہمیں ہر شے سے مقدم اپنے افواج اور عوام کی زندگیاں ہیں۔۔
3/3












