سر صحیح جا رہے ہو آپ 👍🏽
میں حیران رہ گیا نیچے موجود پوسٹ پر عوام کے کمنٹس پڑھ کر جہاں بطور مسلمان ہمارا ایمان اتنا کمزور ہو چکا ہے کہ ہم اس چائلڈ ایکٹر کے اس بیان کا دفاع کر رہے ہیں جس پر وہ خود وضاحت دے چکی ہے کہ میں نے بات درست نہیں کی تھی۔
اگر آپ اللہ پر یقین نہیں رکھتے تو یہ تحریر آپ کے لیے تھی ہی نہیں اور اگر آپ لبرل ہیں تو دین کی بات کو دین کی نظر سے دیکھیں یا کھل کر کہہ دیں کہ ہمارا اس سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔
تھراپسٹ نے آخر کیا غلط کہہ دیا یہ ایکٹر ڈپریشن کے علاج کے لیے گئی تھی گردے یا پھیپھڑے ٹھیک کروانے نہیں گئی تھی اسے ذہنی سکون چاہیے تھا اور تھراپسٹ نے دوا بھی دی اور ساتھ نماز کا مشورہ بھی دیا
تاکہ علاج بھی ہو اور روحانی سہارا بھی ملتا رہے اس میں کون سی ایسی بات تھی جس پر آسمان سر پر اٹھا لیا گیا۔
قرآن مجید سورہ رعد کی آیت اٹھائیس میں صاف اعلان کرتا ہے کہ سنو اللہ کے ذکر سے ہی دلوں کو اطمینان نصیب ہوتا ہے۔
سورہ بقرہ کی آیت پینتالیس میں حکم ہے کہ صبر اور نماز کے ذریعے مدد مانگو۔ جس کتاب کو ہم ہر جمعے سر پر رکھ کر چومتے ہیں اسی کتاب کی بات کو اگر کوئی ڈاکٹر دہرا دے تو ہمیں تکلیف کیوں ہوتی ہے۔
نبی کریم ﷺ کی سیرت دیکھ لیجیے۔ سنن ابی داؤد کی روایت کے مطابق جب بھی آپ ﷺ کو کوئی پریشانی لاحق ہوتی تو آپ فورا نماز کی طرف متوجہ ہو جاتے۔
آپ ﷺ نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ اے بلال اذان دو اور ہمیں نماز کے ذریعے راحت پہنچاؤ۔ اور آپ ﷺ نے خود فرمایا کہ میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں رکھی گئی ہے۔ جب نبی ﷺ کا اپنا نسخہ یہی تھا تو ایک تھراپسٹ نے نیا کیا ک
اب دوسرا اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ بیمار ہو تو ڈاکٹر کے پاس کیوں جاتے ہو بس نماز پڑھ لو۔
یہ اعتراض وہ لوگ کرتے ہیں جنہوں نے دین کو ادھا پڑھا ہے
بخاری شریف کی حدیث ہے کہ اللہ نے کوئی ایسی بیماری نہیں اتاری جس کی شفا نہ اتاری ہو۔
ابو داؤد اور ترمذی کی روایت میں نبی کریم نے صحابہ کو حکم دیا کہ اللہ کے بندو علاج کرواؤ۔
دوا لینا سنت ہے اور ساتھ رب سے شفا مانگنا ایمان ہے اور دونوں ایک دوسرے کے مخالف نہیں بلکہ ایک دوسرے کی تکمیل ہیں۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے سورہ شعراء میں فرمایا کہ جب میں بیمار ہوتا ہوں تو وہی مجھے شفا دیتا ہے۔
کتنی خوبصورت بات ہے کہ ظاہری اسباب اختیار کرنے کے باوجود اصل شفا دینے والا اللہ ہی کو مانا گیا ہے۔
مریض دوا لیتا ہے اور پھر سجدے میں گر کر رب سے شفا مانگتا ہے
یہی توحید کا اصل حسن ہے اور یہی تھراپسٹ نے اس بچی کو سمجھانے کی کوشش کی تھی۔
جس مریض کو ڈاکٹر بھی لاعلاج قرار دے دیں اس کے پاس بچنے کی کوئی امید باقی نہیں رہتی مگر وہ پھر بھی ہاتھ اٹھا کر دعا کرتا ہے کیونکہ اسے یقین ہوتا ہے کہ اصل شفا صرف رب کی ذات سے ملنی ہے
Yeh scene kisi indian movie m b copy kiya gya hai I guess. Salman Khan aur Pretty Zinta pe.
Bollywood ❌️
Copywood ✅️
جوں جوں ٹویٹر پہ کمائی کے اصول سخت ہوتے جا رہے ہیں توں توں یہ اکاؤنٹ بھی دن بدن Toxic ہوتا جا رہا ہے، سلیم بھائی کو پتہ ہے کہ لوگوں کی توجہ کیسے حاصل کرنے ہے ورنہ ایک وقت میں انکا مزاح بہترین ہوتا تھا۔
پاکستانی شوبز اداکار وہاج علی نے پاکستانی برائنڈ کیلے فوٹ شوٹ کرایا ۔۔ اور نہایت ہی نامناسب فوٹوشوٹ تھا ۔۔۔
ڈاکٹر اعجاز وارث جو خود اس انڈسٹری کا حصہ ہیں وہ بھی بول اٹھے اور سخت تنقید کر ڈالی ۔۔۔
وہاج علی جیسے اداکار کو اس طرح کرنے کی کیا ضرورت تھی یہ یورپ کا برائنڈ تھوڑی ہے پاکستان میں دیکھایا جاے گا کچھ تو پاکستان کی ثقافت کی عزت کریں ۔۔
سنیے اس پر سخت تنقید ڈاکٹر اعجاز وارث سے
میں اسکا سوال سننا چاہتا تھا لیکن عجیب سی اکتاہٹ ہوئی جو ہر جملے کے آخر میں پچک پچک کی آواز آ رہی۔
سب سے بہترین سوال سید فخر کا تھا سید فخر نے میڈیا کی پستی کا ذکر کیا اور کہا کہ آپ قومی اثاثے فیصل واوڈا کو بلا لیتے ہیں جبکہ جس جماعت پہ وہ سارا پروگرام ہوتا ہے اس جماعت کے نمائندے کو نہیں بلاتے جو بنیادی اصولوں کے خلاف ہے ، اس سوال کے جواب میں حامد میر نے روائتی منافقت کا سہارا لیتے ہوئے کہا کہ ہم نے پی ٹی آئی کا نمائندہ بلایا تھا مگر وہ آئے نہیں اور ساتھ انہوں نے تین سال سے زائد عرصہ زندان میں گزارنے والے عمران خان کو بھی واوڈا کے ساتھ ملا کر اثاثہ قرار دیا ۔۔
Blaming a woman's clothing, choices, or behavior for sexual assault is pure victim-blaming.
No outfit, location, or lifestyle gives anyone the right to violate another person. The blame belongs 100% on the perpetrator. Stop making excuses for criminals.
As a man, I feel ashamed that some men still think this way.











