Saif UrRehman (@MrWild86) header
Saif UrRehman (@MrWild86) profile picture

The Islamic Republic Of Pakistan Can Only Function In Accordance With The 1973 Consitution . Anything Done Outside The Limits Of The Consitution Is A Crime .

Milano, Lombardia
Joined October 2022
Photo by Saif UrRehman (@MrWild86)Photo by Saif UrRehman (@MrWild86)Photo by Saif UrRehman (@MrWild86)Photo by Saif UrRehman (@MrWild86)Photo by Saif UrRehman (@MrWild86)Photo by Saif UrRehman (@MrWild86)Photo by Saif UrRehman (@MrWild86)Photo by Saif UrRehman (@MrWild86)Photo by Saif UrRehman (@MrWild86)Photo by Saif UrRehman (@MrWild86)
سیٹنگ جم نہیں رہی۔ 👀
3
1
4
596
جب تقریباً دو سال قبل فضل الرحمٰن کے بارے میں پیش گوئی کی تھی تو بہت سارے احباب ناراض ہو گئے تھے، لیکن الحمد للہ، وقت کے ساتھ حضرت نے اسے حرف بہ حرف سچ ثابت کر دیا۔ فضل الرحمٰن نے خواجہ آصف پر طنز کرتے ہوئے قومی اسمبلی میں سوال اٹھایا کہ "ایران میں دفاعی معاہدہ ہو رہا ہے اور وزیرِ دفاع یہاں بیٹھے ہوئے ہیں"۔ ویسے تو ایران میں کوئی دفاعی معاہدہ نہیں ہورہا ۔ سعودی عرب اور قطر کے ساتھ ہمارے جو دفاعی معاہدے ہوئے اس میں وزیر دفاع موجود تھے۔ لیکن پھر ایک عام پاکستانی کو اس قسم کے سوالات پوچھنے کا حق ہے، لیکن کم ازکم فضل الرحمٰن کو اس موضوع پر منہ کھولتے ہوئے کوئی شرم، کوئی حیا کرنی چاہیے۔ نقوی وہی کر رہا ہے جو فضل الرحمٰن گزشتہ چار دہائیوں سے کرتے آ رہے ہیں۔ فضل الرحمٰن کس حیثیت سے افغانستان کے دورے کرتے رہے، جبکہ اس وقت ملک میں وزیرِ خارجہ موجود تھے اور یہی خواجہ آصف وزیرِ دفاع تھے؟ اپنے ہم مسلک طالبان کے پاس آپ کو ایلچی بنا کر بھیجا جائے تو ٹھیک، لیکن اگر وہی کام نقوی کرے تو غلط؟ کوئی شرم، کوئی حیا! فضل الرحمٰن فرماتے ہیں کہ "اس ریاست نے مجھے کیا دیا، میں اس پر تھوکتا ہوں"۔ سبحان اللہ! تین نسلیں اس ریاست پر پلنے کے بعد آپ آج پوچھ رہے ہیں کہ اس ریاست نے مجھے کیا دیا؟ اس ریاست نے آپ کے والد کو وزارتِ اعلیٰ دی، حالانکہ وہ چپڑاسی بننے کے لائق بھی نہیں تھے۔ آپ کی، آپ کے بھائیوں اور بیٹے کی کیا قابلیت (کوالیفیکیشن) ہے جو پارلیمان اور وزارتوں کے مزے لوٹتے رہے؟ اس ریاست سے باہر دنیا کے کسی بھی ملک میں آپ کو کوئی ٹرک ڈرائیور بھی نہ رکھے۔ مغربی دنیا اور عرب دنیا کو چھوڑیں، جو قذافی آپ کا مہربان تھا اور جس سے بھاری بھرکم عطیات لیتے تھے، اگر آپ اسی قذافی کی ریاست میں ہوتے تو زیادہ سے زیادہ ایک مسجد کے خطیب ہوتے اور صرف جمعے کے روز لکھا ہوا سرکاری خطبہ پڑھ رہے ہوتے۔ آج بھی آپ کے محبوب وطن افغانستان میں کسی مولوی کو اپنی مرضی سے خطبہِ جمعہ پڑھنے کی اجازت ہے؟ یہ صرف پاکستان ہے جہاں آپ اپنی مرضی سے دندناتے پھرتے ہیں اور جو مرضی بکواس کرتے رہیں۔ کل آپ کی پارٹی کی خواتین زرق برق لباس پہنے قومی اسمبلی میں چہک رہی تھیں؛ یہ اسی ریاست کا کمال ہے، ورنہ جس افغانستان میں آپ کے ہم مسلکوں کی حکومت ہے، وہاں خواتین گھر کے اندر بھی اونچی آواز میں بات نہیں کر سکتیں۔ اس مولوی کی منافقت دیکھیں کہ: ایک جانب یہ دنیا بھر کی تنظیموں کو پاکستان میں انسانی حقوق کی پامالی پر ایکشن لینے کی دعوت دے رہے ہیں، لیکن وہی تنظیمیں جب طالبان حکومت کے جابرانہ اقدامات پر اعتراض کرتی ہیں، تو یہ اسے اسلام کے خلاف سازش قرار دیتے ہیں۔ فضل الرحمٰن اس قسم کا ناٹک کر کے دراصل سرکاری زمین پر غیر قانونی طور پر تعمیر شدہ مفتی محمود مرکز کے تجاوزات کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن اب وقت آ گیا ہے کہ ان مذہب فروشوں کی بلیک میلنگ کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا جائے۔ صرف یہی نہیں، بلکہ مدارس کی مکمل رجسٹریشن ہو، ان کا باقاعدہ آڈٹ ہو، ان کا ایک نصاب ہو جس میں جدید سائنسی علوم شامل ہوں۔ یہ ہاسٹل کا نظام ختم کر کے دیگر اسکولوں کی طرح دوپہر کو سارے بچے گھروں کو جائیں تاکہ وہ ان حرام خور مولویوں کے ہاتھوں جسمانی اور جنسی تشدد سے محفوظ رہیں۔ اور فضل الرحمٰن سمیت جو بھی مولوی اس کے خلاف مزاحمت کرے، اس کے ساتھ قانون کے مطابق سلوک کیا جائے۔ آپ آج اقتدار کے ایوانوں سے دور ہیں تو ریاست پر تھوک رہے ہیں؛ لعنت ہو آپ کی اس غلیظ سوچ پر، تھو ہے آپ کی دستار پر! میں ایک عام مزدور ہوں اور گزشتہ سترہ برسوں سے بیرونِ ملک زرمبادلہ کما کر اس ملک میں بھیج رہا ہوں۔ لیکن میں پھر بھی اس ریاست کی مٹی کو چومنا اپنے لیے سعادت سمجھتا ہوں۔ ججوں اور جرنیلوں سمیت جس نے بھی اس ریاست کے ساتھ کھلواڑ کیا، ہم اس کے خلاف ہیں۔ لیکن وہ ریاست نہیں ہیں؛ یہ سرزمین، اس کے باشندے اور اس کا آئین مل کر ایک ریاست بناتے ہیں۔ آپ جرنیلوں پر تنقید کریں، لیکن ریاست کو اپنی غلیظ سیاست سے دور رکھیں۔
3
9
42
4,311
Spoken like someone who prefers a quiet palace full of old ghosts over actual energy of Young Students. History knows a king who acted like a clown and ruined their kingdom(2019-2022).Change is loud, Women empowerment is Visible and The First Female Chief Minister is bringing young people together. Stop The Jealousy, Enjoy the Celebrations & Pass on the Popcorn 🍿 Cheers !
“When a clown moves into a palace, he doesn't become a king; the palace becomes a circus."
323
277
36
461
17,609
انسان کی عزت اپنے ہاتھ میں ہوتی ہے۔ سیاست میں بھی قد وضع دیکھا جاتا ہے اور اگر سیاستدان نے خود کو مذہبی لبادے میں ڈھانپ رکھا ہے تو اسے مذہب کیوجہ سے ایک درجہ اوپر دیکھا جاتا ہے۔ لیکن جب وہی شخص صرف اس وجہ سے اس ریاست پر تھوکنے کی بات کرے جس نے اس کے باپ سے لیکر اسکے بیٹے سمدھی اور خاندان سمیت سب کو پالا ہو اور پال رہی ہو تو ایسے سخن فروش کو مذہب کا لبادہ اتار دینا چاہئے۔ اختلاف ہر بات پر ہو سکتا ہے۔ سیاست کے ہر پہلو پر بات کی جا سکتی ہے۔ ذاتیات پر بھی گنجائش نکالی جا سکتی ہے۔ کردار سازی سے کردار کشی تک کی گنجائش نکالی جا سکتی ہے۔ لیکن جب ریاست پر بات کی جائے تو زبان اور عمل سب پر قابو پانا لازم ہو جاتا ہے۔ جس شخص نے ریاست سے ڈیزل پرمٹ لیا۔ ریاست سے ایم ایم اے بنا کر اقتدار لیا۔ ریاست سے کشمیر کمیٹی نام پر وفاقی وزیر برابر مراعات لیں۔ بیٹے کو مال پانی وزارت مواصلات دلوا کر اندھا مال کمایا۔ ریاست سے شہیدوں کی 12 سو کنال زمین بھی ہتھیا لی۔ امریکی سفیر سے ملکر اقتدار کی منتیں بھی کر لیں۔ حکومتیں بنانے گرانے جیسے عمل میں بذات خود سربراہ رہا۔ دوسروں کی عورتوں کیلئے تتلیوں جیسے الفاظ استعمال کرتا رہا۔ اگر وہ شخص اب حکومت میں حصہ داری نہ ملنے کیوجہ سے ریاست پر تھوکنے کی بات کرتا ہے تو ایسے شخص کے دستار کی ہر تار کو کھنگالنا لازم ہے۔
2
3
4
125
“ مرشد کی نحوست " بے شک ، مرشد نے جسے چاہا وہ تباہ ہوا۔ اور جسے تباہ کرنے کی ٹھان لی وہ آسمان کی بلندی پر پہنچ گیا ۔ گجراتی چودھریوں کے خاندانی رکھ رکھاؤ کے لوگ مثالیں دیا کرتے تھے ، مرشد کی ایسی نحوست پڑی کہ ایک دوسرے کے عزت نیلام کرنے لگ گئے🤭 جماعت اسلامی کی اسٹریٹ پاور مثالی تھی، لوگ جسے ریاست کا اصل چہرہ سمجھتے تھے۔ مرشد کی عقیدت و محبت میں الحمد اللہ اب سیاست کے رہے نہ ریاست کے۔ شیخ رشید جو بڑے فخر سے اپنے آپ کو پنڈی والوں کا بندہ کہتا تھا ، مرشد کا ایسا سایہ پڑا کہ "سر" لوگوں کے سائے سے بھی دور بھاگتا ہے😜، ایک دور تھا جب بڑے بڑے لبرل لوگ طارق جمیل کی ایک تقریر سننے کے لئے قطاروں میں کھڑے رہتے تھے، لوگ اپنے دن کا آغاز کلام پاک کی بجائے اس کے بیان سننے سے کرتے، مرشد کی جھپی کا ایسا اثر ہوا مذہبی لوگ بھی نام سننا پسند نہیں کرتے😬 دوسری جانب دیکھیں تو جس قاضی فائز عیسی کے خلاف ریفرنس دائر کرکے فارغ کرنا چاہا وہی چیف جسٹس آف پاکستان بنا اور مرشد مجرم بن کر اس کے در پر انصاف کا کٹورا لیکر کھڑا ہوا نظر آیا ۔🥴 عاصم منیر کو پیرنی کی شکایت پر ڈی جی کے عہدے سے ہٹایا ، اس کی نوکری میں ایسی برکت آئی کہ فوج کے سب سے بڑے عہدے فیلڈ مارشل سے نوازا گیا۔😋🥰 شہباز شریف کا اپوزیشن لیڈر بننا بھی مرشد کو ناگوار تھا وہ دو دفعہ وزیر اعظم بنا بیٹھا ہے۔🤩 جس زرداری کو بندوق کے نشانے پر رکھنا چاہے وہ آج سارے بندوق برداروں کا چیف ہے 🥳 تفصیل بہت لمبی ہے ۔ لیکن مرشد کی نحوست کسی شک و شبہ سے بالاتر ہے۔ حق مرشد ہے نحش مرشد 😆
1
1
1
4
118
Saif UrRehman retweeted
باجوہ نے مولانا کو کہا تھا مولانا آپ بیچ میں سے نکل جائیں ہم جانیں اور نوازشریف ۔۔۔۔۔ یہ بات کب ہوئی تھی ؟؟؟؟؟
12
7
3
63
1,963
جسٹس محسن اختر کیانی کا انجام دیکھ کے پکا یقین ہو چلا کہ خان لڈو کی گیم میں 99 پر بیٹھا وہ سانپ ہے جسکی نحوست پڑتے ہی بندہ عرش سے فرش پر آن پہنچتا ہے۔😂 زیک گولڈسمتھ کی الیکشن مہم میں حصہ لیا وہ ہار گیا😂 مہاتیر محمد کو جدید ملائیشیا کا بانی کہا جاتا ہے اور اسکو وہاں دیوتاؤں کی طرح پوجا جاتا تھا، بس پھر ایک دن اس منحوس کے ساتھ تصویر کھنچوا بیٹھا، انتخابات میں شرمناک شکست سے دوچار ہو کر سیاست سے کنارہ کش ہو گیا😂 روس کے دورے پہ گیا تو ، تو اس کے نحوست زدہ قدم روس کی زمین پہ پڑتے ہی روس ، یوکرین جنگ شروع ہو گئی جو آج تک جاری ہے 😂 امریکی دورے پہ گیا، ٹرمپ کی تعریف کی ، ٹرمپ اگلی ٹرم ہار گیا😂 کشمیریوں کی حمایت کی تو اسی کے دور میں انڈیا نے کشمیر پر اپنا قبضہ پکا کرلیا😂 سری لنکا گیا تو کہا وہاں کے صدر سے مہنگائی ختم کرنے کا فارمولا لے آیا ہوں، کچھ ہی عرصے بعد سری لنکا خود دیوالیہ ہو گیا اور صدر کو ملک سے ہنگامی فرار ہونا پڑا😂 حافظ نعیم کراچی کے بلدیاتی الیکشن میں اکثریتی امیدوار تھے، بس پھر اس سے ملاقات کرنے لاہور چلے گئے، اور پھر مرتضی وہاب مئیر بن گئے😂 نوجوت سنگھ سدھو کے ساتھ تصویر بنوائی وہ 2 سال کے لئے جیل چلا گیا😂 کچھ عرصہ پہلے مجیب الرحمن کے غدار نہ ہونے بارے ٹویٹس کیے، پھر بنگلہ دیش میں اسی مجیب کے مجسمے مسمار کیے گئے جس کی پوجا کی جاتی تھی اور اسکی بیٹی فرار ہو کر اسی انڈین شہر اگرتلہ اتری ہے جہاں سے 1968 میں یہ سازش شروع ہوئی تھی😂 جنرل فیض کی سرعام تعریف کی تو وہ پاکستانی تاریخ کا پہلا ڈی جی آئی ایس آئی بنا جسکا کورٹ مارشل ہو گیا۔۔😂 سپریم کورٹ اور اسلام آباد ہائیکورٹ کے کچھ ججوں کی تعریف کی ، ان کو ریٹائرمنٹ سے پہلے گھروں کو جانا پڑ گیا ۔ 😂 بحریہ ٹاؤن والے ملک ریاض کی حمایت کی۔۔۔ وہ مصائب میں گھر گیا جو آج بھی اس کا پیچھا نہیں چھوڑ رہیں😂 اب ریاست پاکستان کو چاہیے کہ اپنے خرچے پر اسکی کی کاؤنسلنگ کرے اور کسی طرح اس کو بہلا پھسلا کر اس سے انڈیا اسرائیل اور امریکہ کی حمایت کروا دے۔ بس پھر سکون ہی سکون۔۔!!😂 منقول
3
3
11
148
طارق جمیل ھچکیاں بھر کر جس کی حفاظت کے لئے رو رو کر دعائیں کیا کرتا تھا, اسے دو دن کے لئے اپنے گھر لے جائے لگ پتا جائے گا۔ اگر میری طرح رنڈوا نہ ھوا تو تب کہنا۔ جا اوئے طارق جمیل ترا ککھ نہ رھوؤے یہ میری بدعا ھے تجھے۔۔ خاور مانیکا صحافیوں کے سامنے پھٹ ہڑا۔۔
1
3
91
اگر شاعروں کے بیان کے مطابق عورت کو بنایا جائے تو وہ کچھ ایسی ہو🫰🏻😏
1
1
3
82
Saif UrRehman retweeted
اَللّٰھُمَّ صَلِِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَّعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍ کَماصَلَّيتَ عَلٰی اِبْراھِيمَ وَعَلٰی آلِ اِبْراھِيمَ اِنَّكَ حَمِيدُ مَّجِيدُُ اَللَّھُمَّ بَارِك عَلٰی مُحَمَّدٍوَّعَلٰی آلِ مُحَمَّدٍکَمَا بَارکتَ عَلٰی اِبراھِيمَ وَعَلٰی آلِ اِبراھيمَ اِنَّك حَمِيدُ مَّجِيد ﷺ❣️
9
17
1
81
995
لمحہ فکریہ بے روزگاری اور مہنگائی نے مار ڈالا یا رب العالمین آمین 🤲🏻🤲🏻🤲🏻👇🏻👇🏻
16
34
5
111
1,802
جنرل برکی ۔۔ تیرا بیٹا ہار نہیں مان رہا 🔥💀
1
1
1
59
یہ ہیں علیمہ خانم کے بیٹے شیرشاہ خان اور شاہ ریز خان انکے پاس چترال مائن اینڈ منرلز(معدنیات) کا ٹھیکہ ہے جسکے لائسنس پختونخواہ حکومت کی طرف جاری ہوئے ہیں پختونخواہ حکومت نے اپنے ہینڈلرز اور انوسٹرز کو 300+ لائسنسس جاری کئے ہوۓ ہیں ہیلتھ کا ٹھیکہ نوشیروان برکی اور منرلز کا ٹھیکہ اپنے بھانجوں کو دینے والے نے اپنے بے وقوف و نالائق یوتھیوں کو صرف نعروں کے پیچھے لگایا ہوا ھیں۔ انشاءﷲ اب حساب کتاب کی باری ہے 🙂
2
3
7
177
بیگم کے ساتھ فلم یا سیریز دیکھنا ایک الگ نوعیت کا سیاپا ہوتا ہے۔یوں لگتا ہے جیسے وہ فلم یا سیریز آپ پر ہی بنی ہوئی ہے۔ کچھ دن پہلے ایسی ہی ایک فلم ہم دونوں دیکھ رہے تھے۔ اس کا مرکزی کردار اپنی بیوی کو بھی تحائف دے کر خوش رکھتا ہے اور باہر بھی اس کے کافی چکر چل رہے ہوتے ہیں۔ یکدم بیگم کی آواز آئی” بغیرت انسان، بیوی کو بھی خوش رکھا ہوا اور باہر بھی چکر چلانے سے باز نہیں آیا۔”۔ میں نے اس کی جانب دیکھا تو وہ میری جانب ہی دیکھ رہی تھی۔ میں نے اگنور کر دیا کہ شاید ہیرو پر اپنی رائے دے رہی ہے۔ کچھ دیر گزری تو پھر ایسے ہی کسی سین پر بولی” چیپسٹر، بیویوں کے ساتھ بھی لولو پوپو کرتے ہیں اور موبائل پر گرل فرینڈ کے ساتھ بھی لگے رہتے ہیں۔”۔ میں نے پھر گردن گھما کے اُسے دیکھا۔وہ اب کے ٹی وی سکرین کی جانب دیکھ رہی تھی۔ پھر کچھ دن بعد ایسے ہی ایک بھارتی سیریز دیکھی۔جس کی مرکزی کردار ایک عورت تھی جو شوہر کی ڈانٹ ڈپٹ کا شکار رہ کر ذہنی مریضہ بن چکی تھی۔ اچانک بیگم کی آواز آئی “ خدمتیں جتنی مرضی کر لو ان کی یہ مینٹل ٹارچر کرنے سے باز نہیں آتے۔سستے انسان۔”۔ میں نے اسے دیکھا تو اس نے منہ موڑ لیا۔ پھر ایک سین میں ایک اور کردار سفر سے واپس گھر آتے ہی اپنی بیوی کے لیے پھولوں کا گلدستہ لاتا ہے۔ فوراً مدھم سی آواز میں بولی “ کہاں ہوتے ہیں ایسے شوہر آجکل بھلا ؟”۔ میں نے اسے کہا “ اتنا غصہ کس بات پر ہے؟ وہ بس فکشن سیریز ہے۔”۔ جواباً گرجدار آواز آئی “ آپ کیوں چڑ رہے ہیں جیسے آپ کو کہا ہو ؟۔” میں نے صبر کا گھونٹ بھرا اور سو گیا۔ میں سفر سے واپس آیا تو بیگم نے Squid Game کا دوسرا سیزن لگا لیا۔ اچھا بھلا دیکھ رہے تھے۔ اچانک بولی “ میرا دل کر رہا میں ساؤتھ کوریا جاؤں”۔ میں سمجھا شو سے متاثر ہو کر کہہ رہی ہے۔ میں نے پوچھا کیوں ؟۔ بولی “ وہاں جا کر ان کو کہوں کہ پلیز سکوئڈ گیم کی لسٹ میں میرے ہسبنڈ کا نام بھی شامل کریں۔” ایک انگریزی سیریز دیکھ رہے تھے جو مشہورِ زمانہ امریکی ڈاکو Billy the Kid کی سوانح حیات پر بنی ہے۔ دیکھتے دیکھتے بولی “ یہ فلموں میں غلط لوگوں کو کیوں گلوریفائی کرتے ہیں ؟”۔ میں نے کہا “ ہر تشدد پر مائل انسان کے پیچھے ایک ہسٹری ہوتی ہے۔ پھولن دیوی ہو گئی یا یہ بلی دی کِڈ ہو گیا۔ کوئی اپنے شوق سے اسلحہ نہیں اُٹھاتا۔ ظلم و جبر سے تنگ آ کر لوگ اسلحہ اُٹھاتے ہیں۔”۔ بولی “ مجھے بھی آپ اسلحہ اُٹھانے پر مجبور نہ کیجئیے گا۔” ایک تو مجھے پتہ نہیں کس کیڑے نے کاٹا کہ بیگم صاحبہ کے سامنے دانشوری جھاڑنے لگا۔ میرا مشورہ یہی ہے کہ آپ ہو سکے تو الگ الگ فلم دیکھا کریں۔ یہ بیگمات چاہے کسی بھی رنگ، نسل، خطے سے تعلق رکھتیں ہوں مگر ہوتیں مزاجاً ایک سی ہیں۔آج ساتھ ٹی وی دیکھنے سے تنگ آ کر میں ابھی موبائل پر ایک ڈاکومنٹری “پلانٹ ارتھ تھری” دیکھ رہا تھا۔ہلکی بھوک لگی تو ساتھ نمکو کا پیکٹ کھول لیا۔ اس میں Sir David Attenborough پانڈا کے متعلق بتا رہے تھے کہ پانڈا اگر جاگ رہا ہو تو کھاتا رہتا ہے یا پھر سویا ہی رہتا ہے۔ پانڈا ارد گرد کچرا پھیلاتا رہتا ہے۔پانڈا اکیلا رہنے میں خوشی محسوس کرتا ہے۔ پانڈا اداس رہتا ہے۔ اس کو آواز آ رہی تھی۔ یکدم بولی “کئیں شوہر بھی پانڈا ہوتے ہیں۔” میرا حتمی مشورہ یہ ہے کہ آپ ہو سکے تو جو کچھ بھی دیکھنا ہو گھر سے باہر دیکھ لیا کریں۔
2
1
6
365
میں نے مراثیوں کے منہ سے بھی اتنی تعریفیں نہیں سنیں، جتنی عمران خان کے منہ سے جنرل قمر جاوید باجوہ کی سنیں، 🤣😂 خواجہ آصف
2
10
1
22
618
فنِ مانگت میں جتنا تجربہ ہمارا ہے دنیا کے کسی ملک کا نہیں۔ ہم مقروض ممالک کے لیے بہترین کنسلٹنٹ ہیں۔ ایک صاحب کا بلا بہت ہی افلاطون تھا۔ اس نے محلے کی کوئی بلی نہ چھوڑی تھی۔ جب لوگوں کی شکایات کا انبار لگ گیا تو بلے کا مالک تنگ آ کر کلینک لے گیا اور اسے ٹیکے لگوا کر ناکارہ بنا دیا۔ ایک دن صاحب گھر آئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ ان کا بلا سامنے بیٹھا دیکھ رہا ہے اور ایک جوڑا اس کے سامنے آپس میں رومانس میں مبتلا ہے۔ صاحب نے اپنے بلے کو کہا " یہ کیا ہو رہا ہے ؟ " ۔ بلا بولا " باس ! آجکل کنسلٹنسی کر رہا ہوں"۔
1
1
4
564
گیٹ نمبر چار کی سول ترجمانی کی بھاری ذمہ داری شیخ رشید صاحب نے اُٹھا رکھی تھی مگر حالات نے کروٹ لی اور شیخ صاحب خود چالیس روزہ چلا کاٹنے کو غائب ہو گئے۔ واپس آنے کے بعد ان کو چپ لگی ہے اور اب وہ لال حویلی کے اطراف لگے بازار میں ناشتے کی ریڑھیوں پر پائے نان کھاتے نظر آتے ہیں۔ دلچسپ کردار رہے سٹوڈنٹ پالیٹیکس میں شیدا ٹلی سے ترقی پا کر شیخ رشید بنے اور سات بار وزیر بھی بنے۔ شیخ رشید کے انخلاء سے پیدا ہونے والے خلا کو فیصل واؤڈا بھرپور انداز میں پورا کر رہے ہیں۔ وہ اس گلے سڑے نظام پر لعنت بھیجتے ہیں۔ گیٹ نمبر چار کے فضائل بیان کرتے ہیں۔ تاریخ کا ستم دیکھئیے کہ وہ اسی نظام کا حصہ ہیں جس پر لعنت بھیجتے ہیں اور اسی پارٹی کے ووٹ سے منتخب ہوئے جو روٹی کپڑا مکان کے نعرے کے ساتھ خود کو آئین پاکستان کی موجد و محافظ کہتی ہے۔ فیصل واؤڈا کا پہلا تعارف ایک بزنس مین کے طور پر سامنے آیا جب انہوں نے تحریک انصاف کا علم اُٹھا کر سیاست میں قدم رکھا۔ ان کے کاروبار پر شکوک و شبہات پہلے بھی تھے لیکن اس وقت زیادہ گہرے ہوئے جب برطانیہ سے چوری شدہ قیمتی گاڑیاں برطانوی ادارے ٹریس کرتے کراچی پہنچ گئے اور وہ واؤڈا صاحب کے گیراج سے مل گئیں۔ بہرحال، اس وقت واؤڈا صاحب صاف چلی شفاف چلی سیاسی لانڈری کا حصہ تھے لہذا بات آئی گئی ہو گئی۔ ایسی ارب پتی کاروباریوں کے تعلقات بہت اوپر تک ہوتے ہیں یہ اس ملک کے پتھریلے حقائق ہیں۔ اوپر والوں کے ساتھ ہی سیٹنگ تھی اور اسی سیٹنگ سے ان کو سیاسی جماعت میں بھرتی کرا کے لانچ کیا گیا۔ ترجمانی تو ایسی بھرپور کرتے ہیں کہ ایک روز پہلے ہی تمام میڈیا چینلز پر ٹکر چلنے شروع ہو جاتے ہیں کہ کل فیصل واؤڈا اہم پریس کانفرنس کریں گے۔ گویا سارا نشریاتی شعبہ ریڈ الرٹ ہو جاتا ہے۔ پھر کانفرنس لائیو نشر بھی ہوتی ہے اور اس پر کئی گھنٹے ٹاک شوز بھی ہوتے ہیں۔ اس بحث میں جانا بیکار ہے انہوں نے کیا پیغام دیا۔ اہم بات یہ ہے انہوں نے کس کا پیغام دیا اور کس کس کو دیا۔ پیغام صاف تھا کہ سب اپنی صفیں درست کریں اور امام صاحب کے پیچھے نماز نیت لیں بصورت دیگر جبری اعتکاف پر بٹھا دیا جائے گا۔ مستقبل کے معاملات تو رب ہی جانے لیکن تاریخ کا ایک سبق یہ ہے کہ شیدا ٹلی سے شیخ رشید اور شیخ رشید سے شیخو بننے تک ایک دائرہ کا سفر ہے۔ حالات نے جب بھی کروٹ لی واؤڈا صاحب نجانے کیا بنیں گے۔ فی الحال تو ان کی آن بان اور شان کو دیکھتے ہوئے مجھے خدا کی شان یاد آ جاتی ہے۔ اصولِ پرواز کی تعریف کے مطابق بطخ یا مرغی کی طرح مکھی کو بھی نہیں اڑنا چاہیے کیونکہ مکھی کا وزن اس کے پروں کے حجم اور وزن سہارنے کی طاقت سے کہیں زیادہ ہے۔ مگر صاحبو یہاں بس مکھی اڑ رہی ہے اور کمال اڑ رہی ہے۔ تو یہ ہے خدا کی شان۔
1
2
7
188
کل تک لہجہ یہ تھا کہ ’’تیرا باپ بھی دے گا، تیرا باپ بھی نہیں روک سکتا، کسی کا باپ بھی نہیں لگا سکتا، سومنات کی طرح حملے کریں گے، بیس لاکھ لوگ ہیں، پہلی گولی میں کھاؤں گا، ان میں اتنی ہمت نہیں، ہمت ہے تو لگا کر دکھاؤ۔‘‘ ہر طرف للکار، ہر طرف دھمکی، ہر طرف فتح کے دعوے۔ پھر جب دوسری طرف سے طاقت کا عملی مظاہرہ ہوتا ہے تو اچانک لہجہ بدل جاتا ہے۔ اب کہا جا رہا ہے کہ سب کو کمزوروں کے ساتھ کھڑے ہونا چاہئیے، کمزوروں پر تنقید نہیں کرتے، مظلوم کا ساتھ دینا چاہیے اور طاقتور کے سامنے بولنا آسان نہیں ہوتا وغیرہ وغیرہ۔۔ بھائی، پہلے یہ تو طے کر لو کہ آپ ہو کون؟ طاقتور یا کمزور؟ فاتح یا مظلوم؟ انقلاب لانے والے یا حالات کے ہاتھوں بے بس؟ اگر طاقتور ہو تو پھر یہ رونا دھونا کس بات کا ہے؟ وہ بیس لاکھ لوگ کہاں گئے؟ وہ سومنات پر حملے کا عزم کہاں گیا؟ وہ پہلی گولی کھانے کا اعلان کرنے والے کہاں ہیں؟ اور اگر کمزور ہو تو پھر بار بار اپنی طاقت کے ڈھول پیٹ کر خود کو اور اپنے کارکنوں کو کس خوش فہمی میں مبتلا کرتے رہے ہو؟
5
11
218
قابل تشویش بات میرے لیے یہ ہے کہ لانگ مارچ کے بیس لاکھ شرکاء کو یزیدیوں نے کہاں غائب کر دیا ہے۔ کیا ان کو خدانخواستہ پگھلا تو نہیں دیا گیا۔ آخر لاکھوں کا مجمع اچانک کہاں غائب ہو سکتا ہے۔ اور پشاور سمیت پورے صوبے میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد جو مزید لاکھوں لوگ نکلے ان کے اجسام کہاں ہیں ؟۔ اس کا جواب دینا ہو گا۔ میں نے شہباز گل، وقار ملک، صابر شاکر، عادل راجہ وغیرہ کے ویلاگز بھی دیکھے کہ شاید وہی بتا سکیں کہ لاکھوں لوگ کہاں غائب کر دیے گئے ہیں مگر وہ بھی تاحال کچھ نہیں بول رہے۔ شاید کل تک صورتحال واضح ہو کہ لاکھوں لوگ کہاں گئے ہیں۔ اگر سسٹم نے ان کو غائب کر دیا ہے تو یہ اس صدی کا سب سے بڑا انسانی المیہ ہو گا۔
1
1
6
126
پی ٹی آئی اب سیاسی پارٹی نہیں رہی بلکہ ایک ہجوم بن چکی ہے جس کی باگیں باہر بیٹھے یوٹیوبرز کے ہاتھ میں ہیں۔ وہ جدھر چاہتے ہیں باگیں موڑ دیتے ہیں۔ ملک کے اندر تو پارٹی کو خان صاحب نے خود محمود خان اچکزئی کو ٹھیکے پر دے دیا ہے۔ اب اچکزئی کیوں چاہے گا کہ خان صاحب رہا ہو جائیں؟
1
5
153