Prime Minister's Office, Government of Pakistan

Islamabad, Pakistan
Joined September 2018
President of Azad Jammu and Kashmir (AJK) Dr. Muhammad Najeeb Naqi Khan calls on Prime Minister Muhammad Shehbaz Sharif in Islamabad, today.
10
1
88
8,589
وزیراعظم محمد شہباز شریف سے صدر آزاد جموں و کشمیر ڈاکٹر محمد نجیب نقی خان کی ملاقات آج اسلام آباد میں ہوئی. وزیراعظم نے ڈاکٹر محمد نجیب نقی خان کو آزاد جموں و کشمیر کے صدر کا منصب سنبھالنے پر مبارکباد دی اور نیک خواہشات کا اظہار کیا. وزیراعظم نے آزاد جموں و کشمیر میں ترقیاتی عمل کو تیز کرنے اور عوام کا معیارِ زندگی بہتر بنانے کے لیے وفاقی حکومت کی جانب سے ہر ممکن تعاون فراہم کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔ وزیراعظم نے کشمیری عوام کی حقِ خودارادیت کے حصول کی منصفانہ جدوجہد کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق آزادانہ اور غیر جانبدارانہ استصوابِ رائے کے ذریعے اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق ملنے تک کشمیری عوام کی حمایت جاری رکھے گا. پاکستان کشمیری عوام کو ان کے جائز حقوق ملنے تک ان کی اخلاقی، سفارتی اور سیاسی حمایت جاری رکھے گا. وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ خان بھی ملاقات میں موجود تھے۔
1
9
1
61
5,740
وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت لائیوسٹاک کے شعبے میں اصلاحات کے حوالے سے جائزہ اجلاس آج اسلام آباد میں منعقد ہوا. وزیرِ اعظم نے لائیوسٹاک و ڈیری ڈویلپمنٹ بورڈ کی تنظیم نو کی منظوری دے دی. وزیرِ اعظم نے کہا کہ لائیوسٹاک اینڈ ڈیری ڈویلپمنٹ بورڈ کے چیئرمین اور اراکین کا انتخاب شفاف اور میرٹ کی بنیاد پر کیا جائے. بورڈ میں نجی شعبے کے قابل اور تجربہ کار ماہرین کو شامل کرکے اسے مؤثر اور فعال ادارہ بنایا جائے. منہ کھر کی بیماری کے مکمل خاتمے کے لیے واضح اہداف اور مقررہ مدت پر مشتمل جامع ایکشن پلان پیش کیا جائے. وفاقی حکومت اپنے وسائل سے مویشیوں کیلئے جدید و مؤثر ویکسین کی پیداوار کا پلانٹ اسلام آباد میں قائم کر رہی ہے. لائیوسٹاک اور ڈیری کے شعبے کی ترقی کے لیے عالمی معیار کے کنسلٹنٹس کی خدمات حاصل کی جائیں اور متعلقہ ممالک کے تجربات سے استفادہ کیا جائے. پاکستان میں لائیوسٹاک کے شعبے میں وسیع استعداد موجود ہے، اسے برآمدات اور معاشی ترقی کے لیے بروئے کار لایا جائے. وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت لائیوسٹاک کے شعبے میں اصلاحات، لائیوسٹاک اینڈ ڈیری ڈویلپمنٹ بورڈ کی تنظیمِ نو اور منہ کھر کی بیماری کے خاتمے کے لیے اقدامات کا جائزہ اجلاس آج اسلام آباد میں منعقد ہوا۔ وزیراعظم نے بورڈ کی تنظیمِ نو کے لیے شفاف اور میرٹ پر مبنی طریقہ کار اپنانے، نجی شعبے کے ماہرین کو شامل کرنے اور منہ کھر کی بیماری کے خاتمے کے لیے واضح اہداف، قابلِ پیمائش نتائج اور مقررہ مدت پر مشتمل ایکشن پلان پیش کرنے کی ہدایت کی۔ وزیراعظم نے کہا کہ لائیوسٹاک اور ڈیری کے شعبے کی ترقی کے لیے عالمی معیار کے کنسلٹنٹس کی خدمات حاصل کی جائیں اور اس شعبے میں مہارت رکھنے والے ممالک کے ساتھ شراکت داری کو فروغ دیا جائے۔ انہوں نے زور دیا کہ جانوروں کی صحت، افزائشِ نسل، پیداوار اور ویلیو چین میں بہتری کے ذریعے پاکستان کی برآمدی استعداد سے بھرپور فائدہ اٹھایا جائے، جس سے دیہی معیشت اور روزگار کے مواقع کو بھی فروغ ملے گا۔ اجلاس میں بورڈ کی تنظیمِ نو، جانوروں کی بیماریوں کی نگرانی، ویکسینیشن، جانوروں کی شناخت و ٹریس ایبلٹی اور گوشت و ڈیری مصنوعات کی برآمدات بڑھانے کے اقدامات پر بریفنگ دی گئی۔ اجلاس میں وفاقی وزراء اعظم نذیر تارڑ، احد خان چیمہ، رانا تنویر حسین، ڈاکٹر مصدق ملک، عطاء اللہ تارڑ، وزیرِ مملکت بلال اظہر کیانی اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
1
11
2
30
6,604
وزیراعظم محمد شہباز شریف کا کسان دوست اقدام، 2027 کے لیے گندم کی مجوزہ قیمت ( illustrative price) 4,500 روپے فی من مقرر کر دی. پیداواری لاگت میں اضافے کے پیشِ نظر گزشتہ برس کی بہ نسبت قیمت میں 1,000 روپے فی من اضافہ کیا گیا ہے. وزیرِ اعظم نے کہا ہے کہ اس فیصلے میں صدرِ مملکت آصف علی زرداری اور قائد محمد نواز شریف کی رہنمائی اور وزرائے اعلیٰ پنجاب و سندھ کی مشاورت و تعاون شاملِ حال رہا. وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ملکی زرعی شعبے کے فروغ، کسانوں کے معاشی مفادات کے تحفظ اور آئندہ سال گندم کی پیداوار میں اضافے کے لیے بڑا فیصلہ کیا ہے. وزیرِ اعظم نے سال 2027 کی گندم کی (illustrative price) مجوزہ قیمت 4,500 روپے فی من مقرر کرنے کا فیصلہ کر دیا ہے. گزشتہ سال گندم کی قیمت 3,500 روپے فی من مقرر تھی، جس کے مقابلے میں نئی قیمت میں 1,000 روپے فی من اضافہ کیا گیا ہے۔ وزیراعظم نے اس فیصلے کیلئے مشاورتی عمل میں تعاون اور قابلِ قدر تجاویز پیش کرنے پر وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا خصوصی شکریہ اور ان کے اس مشاورتی عمل میں کردار کی تعریف کی. وزیراعظم نے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کے تعاون پر بھی اظہار تشکر کیا. وزیرِ اعظم نے کہا کہ حکومت کی جانب سے گندم کی مجوزہ قیمت میں اضافے کا مقصد کسانوں کو بڑھتی ہوئی پیداواری لاگت ، پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے اور مہنگائی کے دباؤ سے ریلیف فراہم کرنا ہے. کسانوں کو گندم کی کاشت کے لیے مؤثر ترغیب دینا فیصلے کے اولین مقاصد میں شامل ہے. توقع ہے کہ نئی مجوزہ قیمت سے کسانوں کو اپنی پیداواری لاگت پوری کرنے اور مناسب منافع حاصل کرنے میں مدد ملے گی. گزشتہ برسوں کے دوران کسانوں کو مہنگائی اور زرعی اخراجات میں اضافے کے باعث مالی مشکلات کا سامنا رہا، جبکہ پاکستان کو گزشتہ دو برسوں میں گندم کی درآمد بھی کرنا پڑی. گندم کی مجوزہ قیمت میں اضافہ کا کلیدی فیصلہ ملکی غذائی تحفظ کو مضبوط بنانے، مقامی پیداوار کی حوصلہ افزائی اور زرعی شعبے میں استحکام کے لیے اہم پیش رفت ثابت ہو گا. حکومت کو توقع ہے کہ مجوزہ قیمت کے تعین سے کاشت کار گندم کی کاشت میں زیادہ دلچسپی لیں گے، جس کے نتیجے میں آئندہ سیزن میں گندم کی بھرپور بوائی اور ملکی پیداوار میں اضافے کے امکانات روشن ہوں گے۔ وزیراعظم کا یہ اقدام کسانوں کی معاشی بہتری، زرعی معیشت کے استحکام اور ملک کو غذائی ضروریات کے ضمن میں زیادہ خودکفیل بنانے کی کوششوں میں اہم سنگِ میل ثابت ہوگا۔ توقع ہے کہ سال 2027 پاکستان کے زرعی شعبے اور کسانوں کی خوشحالی کے لیے مثبت نتائج کا حامل ہوگا۔
15
22
6
146
18,535
Prime Minister Muhammad Shehbaz Sharif met with Mr. Peter Briggs, the Managing Director, North American Operations of Alvarez & Marsal (A&M) in Islamabad, today.
3
10
26
7,375
Prime Minister Muhammad Shehbaz Sharif met with Mr. Peter Briggs, the Managing Director, North American Operations of Alvarez & Marsal (A&M), an International Consulting Firm in Islamabad today. The Prime Minister welcomed the Managing Director while reiterating Pakistan's willingness to open its economy to promising international market and to consult globally acknowledged economic experts. The Premier stated that after successfully achieving the goal of economic and fiscal stability, the Government is taking effective measures to undertake deep rooted structural and economic reforms to usher into an era of export led growth and productive economy. The Prime Minister also highlighted that the Government is giving special attention to enhance performance and efficiency of domestic manufacturing sector while equally focusing on measures to invite foreign direct investment (FDI). Prime Minister told the visiting delegation that the Government is following a vibrant strategy to evaluate the economic viability of State Owned Enterprises (SOEs) and subsequently to tread a path of privatization for uplift of national economy and growth. The Prime Minister especially emphasised that Government is cognizant of the vital importance to have team of experts and professionally qualified workforce to improve economic growth engine. He further said that in the same context, Pakistan is ready to have a productive and meaningful partnership with the international consulting firms to strengthen economic growth, while ensuring impact and accountibility at their ends. Mr. Peter Briggs, MD North American Operations of Alvarez & Marsal, extended his profound gratitude to the Prime Minister for the meeting. Mr. Peter Briggs expressed his appreciation for Government's commitment to invite foreign direct investment (FDI) and to positively engage with international economic experts. Mr. Peter Briggs also conveyed eagerness of the firm to have positive coordination and cooperation with Pakistan for progressive business ecosystem and productive economy. Federal Minister for Finance, Muhammad Aurangzeb, Federal Minister for Economic Affairs Ahad Khan Cheema, Federal Minister for Power Sardar Awais Ahmed Khan Leghari, Special Assistant to the Prime Minister (SAPM) Syed Tariq Fatemi and senior government officials attended the meeting.
2
12
1
49
6,591
Prime Minister's Office retweeted
Deeply saddened by the tragic loss of precious lives and injuries caused by the devastating earthquake in Nagqu, Xizang Autonomous Region of China. On behalf of the Government and people of Pakistan, I extend our heartfelt condolences to President Xi Jinping, and our Chinese brothers and sisters, especially the bereaved families who have lost their loved ones and prayers for the swift recovery of the injured. Pakistan stands in solidarity with its Chinese brothers and sisters in this difficult time and is ready to extend every possible support. 🇵🇰🤝🇨🇳
212
259
18
1,685
753,282
Prime Minister's Office retweeted
Delighted to address the Maldives-Pakistan Business Forum with my dear brother, President @MMuizzu. We reiterated our firm resolve to deepen our bilateral ties, especially in trade and investment. I emphasized the need for stronger air and maritime connectivity, and for turning the goodwill generated during the visit into a lasting economic partnership. 🇵🇰🤝🇲🇻
37
154
1
467
26,211
Prime Minister Muhammad Shehbaz Sharif and Field Marshal Syed Asim Munir NI (M), HJ, Chief of Army Staff and Chief Of Defence Forces (COAS & CDF) met with the members of the Area Representative Development Council (ARDC) in Peshawar.
9
21
128
10,986
President of the Maldives Dr. Muhammad Muizzu and Prime Minister Muhammad Shehbaz Sharif interact during the Maldives-Pakistan Business Forum in Islamabad.
8
36
2
95
5,404
President of the Maldives Dr. Muhammad Muizzu addresses the Maldives-Pakistan Business Forum in Islamabad.
6
24
1
54
5,980
Prime Minister Muhammad Shehbaz Sharif addresses the Maldives-Pakistan Business Forum in Islamabad.
4
35
85
5,830
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے آج اسلام آباد میں مالدیپ-پاکستان بزنس فورم میں شرکت کی اور خطاب کیا۔ وزیرِ اعظم نے پاکستان اور مالدیپ کے درمیان 20 کروڑ ڈالر کے تجارتی حجم کے حصول کےلئے پختہ عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مالدیپ کے صدر کا دورہ برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں اہم موڑ اور دوطرفہ تجارت و سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے گیم چینجر ثابت ہوگا جبکہ مالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معیزو نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ تجارت، سرمایہ کاری اور مشترکہ خوشحالی کے نئے دور کا خواہاں ہیں، اقتصادی شراکت داری دونوں ممالک کے عوام کے لیے نئے مواقع پیدا کرے گی، پاکستانی تعمیراتی اورانجینئرنگ کمپنیاں مالدیپ کے ترقیاتی منصوبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع سے استفادہ کریں۔ تقریب میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وفاقی کابینہ کے ارکان، مالدیپ کے ہمراہ وفد کے ارکان اور کاروباری شخصیات نے شرکت کی۔ وزیراعظم نے کہا کہ مالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معیزو پاکستان کے مخلص دوست ہیں اور ان کا دورہ برادرانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں اہم موڑ ثابت ہوگا، یہ دورہ دوطرفہ تجارت اور سرمایہ کاری کے حجم کو فروغ دینے کے لیے گیم چینجر ثابت ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور مالدیپ کے قریبی برادرانہ تعلقات کو مضبوط اقتصادی شراکت داری میں بدلنے پر اتفاق ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور مالدیپ نے دوطرفہ تجارت میں اضافے کا فیصلہ کیا ، اس وقت دوطرفہ تجارت کا حجم تقریباً ایک کروڑ 30 لاکھ ڈالر ہےجسے آئندہ دو برسوں میں بڑھا کر 200 ملین ڈالر تک لے جانے پر اتفاق ہوا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ میں پاکستان اور مالدیپ کی کاروباری شخصیات اور اداروں سے کہنا چاہوں گا ہمارے پاس ایک موقع موجود ہے جس سے استفادہ کرتے ہوئے ہم اسے ایک ٹھوس عملی منصوبے میں تبدیل کر سکتے ہیں، اس ہدف کو حاصل کرنے کے لیے مل کر مشترکہ کوششیں بروئے کار لانا ہوں گی۔ وزیراعظم نے بتایا کہ مالدیپ کے صدر کی وطن واپسی کے بعد پاکستانی تاجروں اور کاروباری شخصیات پر مشتمل ایک اعلیٰ سطحی وفد مالدیپ بھیجا جائے گا جن کا مالدیپ میں متعلقہ شعبوں میں برآمدات میں تجربہ ہوگا، متعلقہ وفاقی وزراء اور سرکاری حکام بھی وفد میں شامل ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں بھرپور تیاری کرتے ہوئے تجارتی حجم کا ہدف حاصل کرنے کے لیے ہمیں معمول سے بڑھ کر کوششیں اور محنت کرنا ہوگی۔ وزیراعظم نے پاکستان اور مالدیپ کے درمیان فضائی رابطوں کی اہمیت اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان رابطے بہت ضروری ہیں، اسلام آباد اور مالے کے درمیان براہ راست پروازیں شروع کرنے کا عزم رکھتے ہیں، اس وقت پاکستان اور مالدیپ کے درمیان براہ راست فضائی پروازیں نہیں ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ انہوں نے وزارت ہوا بازی کو براہ راست پروازوں کے لیے فوری فزیبلٹی تیار کرنے کی ہدایت کی ہے تاکہ براہ راست فضائی پروازیں جتنی جلدی ممکن ہو شروع کی جا سکیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ بحری رابطے بھی اہمیت کے حامل ہیں، لہذا مطلوبہ اہداف حاصل کرنے کے لیے اس ضمن میں بھی مستعدی سے اقدام اٹھانے کی ضرورت ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ مالدیپ کے کسی صدر نے 11 سال بعد پاکستان کا دورہ کیا ہے، امید ہے کہ اب یہ دورے تواتر سے ہوں گے۔ مالدیپ کے صدر ڈاکٹر محمد معیزو نے پاکستان-مالدیپ بزنس فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ فورم بہت اہمیت کا حامل ہے جس کے انعقاد اور اس میں شرکت پر وزیراعظم محمد شہباز شریف کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کاروباری شخصیات کے اجتماع سے خطاب کرنا باعث اعزاز ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں جو گہرے برادارانہ تعلقات سے عبارت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور مالدیپ کے تعلقات کے 60 سال مکمل ہونا باہمی اعتماد اور دوستی کا ثبوت ہے، پاکستان اور مالدیپ کی دوستی اور سفارتی اعتماد گہرا ہے، پاکستان کے ساتھ تجارت، سرمایہ کاری اور مشترکہ خوشحالی کے نئے دور کا خواہاں ہیں۔ صدر محمد معیزو نے کہا کہ یہ نہایت مناسب وقت ہے کہ ہم اپنے برادارانہ تعلقات کو تجارتی روابط، سرمایہ کاری اور مشترکہ خوشحالی میں تبدیل کریں، یہی وجہ ہے کہ میں نے اور وزیراعظم محمد شہباز شریف نے گزشتہ روز دوطرفہ تجارت دو سال میں 20 کروڑ ڈالرز تک بڑھانے پر اتفاق کیا جس کے حصول کے لیے تمام تر کاوشیں بروئے کار لائی جائیں گی جس سے نہ صرف کاروباری مواقع پیدا ہوں گے بلکہ علاقائی خوشحالی اور پائیدار ترقی کے حصول میں مدد ملے گی۔ 1/2
8
15
30
5,349
2/2 ڈاکٹر محمد معیزو نے مزید کہا کہ غذائی تحفظ ہمارے لیے بہت اہمیت کا حامل معاملہ ہے، پاکستان کا زرعی شعبہ مالدیپ کی غذائی ضرورت پوری کرنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے پاس زراعت، ٹیکنالوجی، صنعت اور خدمات کے شعبوں میں بے پناہ صلاحیت موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی دوا ساز کمپنیا ں اور صحت کی خدمات فراہم کرنے والے اداروں کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ انہوں نے پاکستانی تعمیراتی اورانجینئرنگ کمپنیوں کو مالدیپ کے ترقیاتی منصوبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ وہ دستیاب مواقع سے استفادہ کریں، انہیں ہرممکنہ سہولت فراہم کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور مالدیپ اسلامی مالیات اور حلال مصنوعات کے شعبوں میں بھی تعاون بڑھا سکتے ہیں۔ مالدیپ کے صدر نے کہا کہ مالدیپ 2028ء تک بجلی کی ضروریات کا 33 فیصد قابل تجدید توانائی سے پورا کرنے کا ہدف رکھتا ہے، پاکستان اور مالدیپ کے درمیان سمندری رابطوں کے قیام کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ایسے کوریڈور بنانے کی ضرورت ہے جس سے تجارت کو موثر انداز میں فروغ ملے۔ مالدیپ کی قومی ایئرلائن جلد مالے اور کراچی کے درمیان براہ راست فضائی پروازیں شروع کرنے کا ارادہ رکھتی ہے جس سے تجارت اور سیاحت کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ سیاحت، ادویہ سازی اور صحت کے شعبے میں تعاون کے مواقع سے استفادہ کرنے کی بھی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقتصادی شراکت داری دونوں ممالک کے عوام کے لیے نئے مواقع پیدا کرے گی۔ قبل ازیں مالدیپ کے وزیر برائے اقتصادی ترقی، ٹرانسپورٹ و تجارت محمد سعید کا بزنس فورم سے خطاب کرتے ہوئے حکومت پاکستان کا پرتپاک میزبانی اور قابل قدر تعاون پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے سربراہان کی موجودگی مضبوط اقتصادی شراکت داری قائم کرنے کے مشترکہ عزم کی عکاس ہے۔ انہوں نے کہا کہ دوطرفہ تجارت کو آئندہ 2 سال میں 20 کروڑ ڈالرز تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، مالدیپ مشترکہ ہدف کے حصول کے لیے قریبی تعاون کے عزم پر قائم ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بزنس فورم باہمی دلچسپی کے اہم شعبوں اور کاروبار کے ابھرتے مواقع کے بارے میں مفید معلومات فراہم کرے گا۔
1
2
2
815
2/2 The Committee stressed the importance of collective national ownership, community engagement and coordinated actions by all relevant institutions to create an enabling environment for education, healthcare, employment, investment and infrastructure development, in whole of KP but particularly in the merged districts and other underserved areas. The forum reiterated that the state remained firmly committed to defeating terrorism, restoring durable peace and ensuring stability, effective governance and sustainable development across Khyber Pakhtunkhwa. It emphasized that the unity, resilience and collective resolve of the nation would remain central to securing a peaceful, prosperous and secure future for the province and Pakistan. Area Representative and Development Council (ARDC) highlighted that sustainable peace and security were indispensable prerequisites for development, economic progress and improved quality of life for the people. Prime Minister emphasized that the sacrifices rendered by the people of Khyber Pakhtunkhwa, particularly those of the merged districts, would not go in vain. He underscored that lasting peace in the merged districts remained a shared national responsibility. The members of ARDC reaffirmed their resolve to defeat terrorism, eliminate its roots and establish enduring peace remained unwavering. They reiterated their steadfast support for the Security Forces and Law Enforcement Agencies (LEAs) in their pursuit of lasting peace, stability and prosperity. The Forum underscored that the state remained firmly committed to translating the gains achieved through counter-terrorism efforts into tangible development, improved public services, economic opportunities and a secure future for the region. The Prime Minister stressed that the strength of the nation lay in its unity and collective resolve to reject violence, extremism and all attempts to undermine peace and stability. He reaffirmed that no amount of intimidation or violence could weaken the determination of the people and the state to secure a peaceful, prosperous and progressive future for Khyber Pakhtunkhwa. The Prime Minister underscored that whole nation is indebted and proud of the contributions and sacrifices of the people of your areas. Now is the time for a final and decisive effort to finish off the menace of terrorism, once and for all. Failure is not an option. The Forum paid rich tribute to the sacrifices of the Shuhada in the fight against terrorism.
2
4
6
838
Prime Minister Muhammad Shehbaz Sharif separately chaired the meeting of the Federal Apex Committee and also interacted with the members of Area Representative and Development Council (ARDC) in Peshawar today. Both sessions were attended by Mr Muhammad Ishaq Dar, Deputy Prime Minister & Foreign Minister, Field Marshal Syed Asim Munir, NI (M), HJ, Chief of Army Staff and Chief of Defence Forces (COAS & CDF), Mr Faisal Karim Kundi, the Governor of Khyber Pakhtunkhwa, Mr Mohsin Naqvi, Federal Interior Minister, Mr Ahad Khan Cheema, Federal Minister of Economic Affairs, Mr Muhammad Aurangzeb, Federal Minister for Finance, Mr Attaullah Tarar, Federal Minister for Information and Broadcasting, Engineer Amir Muqam, Federal Minister for Kashmir Affairs and Gilgit Baltistan, Mr Azam Nazir Tarar, Federal Minister for Law, Mr Ali Pervaiz Malik, Federal Minister for Petroleum, Sardar Awais Ahmad Khan Laghari, Federal Minister for Power, Mr Ahsan Iqbal, Federal Minister for Planning & Development, Rana Sanaullah Khan, Advisor to Prime Minister, members of the Advisory Council as well as the Area Representative and Development Council (ARDC), Commander Peshawar Corps and other senior civil and military officials. The Apex Committee undertook a comprehensive review of the prevailing situation in Khyber Pakhtunkhwa following the imposition of Emergency and Governor’s Rule in the province. The forum was briefed on provincial affairs, with particular emphasis on governance reforms, institutional accountability, transparency and improved service delivery in departments directly affecting public welfare. The Committee underscored the need for urgent, result-oriented measures to address longstanding governance challenges and improve the lives of the people of Khyber Pakhtunkhwa, particularly those in the merged districts and other terrorism-affected areas. The Committee reaffirmed the nation’s unwavering resolve to eliminate terrorism in all its forms and manifestations and dismantle terrorist networks, their facilitators and support infrastructure. Forum emphasized that the fight against terrorism was a collective national responsibility requiring sustained coordination among all state institutions, effective intelligence-sharing and robust counter-terrorism measures. The forum stressed that no effort would be spared in consolidating the gains achieved through the sacrifices of the people, martyrs, and personnel of the Security Forces and Law Enforcement Agencies (LEAs). Forum also discussed measures strengthening the operational capacity of the Khyber Pakhtunkhwa Police, Counter Terrorism Department (CTD) and other LEAs through enhanced professional training, modern equipment, infrastructure, improved intelligence capabilities and seamless inter-agency coordination. The Committee stressed that a robust and professional law enforcement apparatus was essential to maintaining law and order, protecting citizens and ensuring the effective writ of the state throughout the province. The Prime Minister reaffirmed the Federal Government’s commitment to extending all possible assistance to the people of Khyber Pakhtunkhwa. He underscored that restoring lasting peace, safeguarding the lives and property of citizens, strengthening governance and accelerating socio economic development remained national priorities. He emphasized that the sacrifices made by the people of the province in the fight against terrorism would not go in vain and that the Federal Government would continue to support initiatives aimed at improving public welfare, creating economic opportunities and addressing the legitimate concerns of the people. He announced Rs 160 Billion from Federal Government for بدلتا , نکھرتا , مضبوط KP program. 1/2
11
21
1
59
8,223
Prime Minister Muhammad Shehbaz Sharif meets members of the Area Representative Development Council in Peshawar.
25
34
2
368
19,963
Prime Minister Muhammad Shehbaz Sharif meets members of the Area Representative Development Council in Peshawar.
2
23
229
11,296
وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے آج گورنر ہاؤس پشاور میں قبائلی اضلاع کے نمائندوں پر مشتمل ترقیاتی کونسل اور مشران کے اجلاس سے خطاب کیا۔ وزیراعظم نے خیبر پختونخوا میں ترقیاتی منصوبوں کےلیے 160 ارب روپے فراہم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ عوام کے وسائل کا ایک ایک پیسہ ترقی اور خوشحالی پر خرچ کیا جائے گا، ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کےلیے رکاوٹیں فوری دور کی جائیں گی،قبائلی عمائدین نے ہمیشہ ڈنکے کی چوٹ پر پاکستان کا ساتھ دیا ہے، دہشتگردی کے خلاف قبائلی عوام نے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ قبائلی عوام نے گہرے زخم برداشت کئے مگر پاکستان سے وابستگی میں کبھی کمی نہیں آئی۔ قبائلی عمائدین کی قربانیوں اور پاکستان سے والہانہ وابستگی کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ آج خیبر پختونخوا میں ترقیاتی منصوبوں، سیکورٹی، پولیس کی تربیت اور انتظامی امور پر تفصیلی اجلاس ہوا۔ صوبے میں ترقیاتی کاموں اور سیکورٹی کو فل پروف بنانے کےلیے اہم فیصلے کئے گئے۔ انہوں نے خیبر پختونخوا میں ترقیاتی منصوبوں کےلیے 160 ارب روپے فراہم کرنے کا اعلان کیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ صوبے میں گندم کی قلت دور کرنے کےلیے وفاق ہر ممکن تعاون کرے گا، گندم کی ذخیرہ اندوزی نہیں ہونی چاہیے۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ وفاق کی فراہم کردہ قیمت پر عام آدمی کو گندم کی دستیابی یقینی بنائی جائے۔ وزیراعظم نے کہا کہ محکمہ انسداد دہشتگردی کو موثر بنانے کےلیے اقدامات کی ہدایت کی ہے، خیبر پختونخوا میں سیف سٹی منصوبے مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے، دہشتگردی کے خلاف کارروائیوں کےلیے وفاقی تمام ضروری وسائل فراہم کرے گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کےلیے رکاوٹیں فوری دور کی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں 13 سال کے دوران سیکورٹی آپریشنز اور پولیس کی کارکردگی میں خامیاں سامنے آئیں۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ چوری اور ڈکیتی کے واقعات پر فوری کارروائی اور ملزمان کی گرفتاری یقینی بنائی جائے۔ وزیراعظم نے کہا کہ پچھلی حکومت میں پینے کے پانی کے منصوبوں میں 100 ارب روپے کا مبینہ سکینڈل سامنے آیا ہے۔ وزیراعظم نے اس موقع پر کوہستان میں 37 ارب روپے کی مبینہ فراڈ کا بھی حوالہ دیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ عوام کے وسائل کا ایک ایک پیسہ ترقی اور خوشحالی پر خرچ کیا جائے گا، صوبے کے وسائل کی مبینہ لوٹ مار پر قابو پایا جائے گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ 40 منتخب ارکان پر مشتمل قبائلی کونسل کے کندھوں پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے، قبائلی کونسل کو مکمل طور پر بااختیار بنایا جائے گا، قبائلی علاقوں میں ترقیاتی امور اور انصاف کی فراہمی کےلیے بھرپور معاونت کریں گے، قبائلی عوام کے حقوق کے تحفظ کےلیے تمام وسائل بروئے کار لائیں گے، قبائلی عوام کی ترقی اور خوشحالی کےلیے دن رات محنت کریں گے۔ اس موقع پر قبائلی عمائدین اور مشران نے کہا کہ خیبر پختونخوا کی صورتحال پر خصوصی توجہ دینے پر وزیراعظم کے مشکور ہیں۔ قبائلی عمائدین نے کہا کہ مسائل کے حل میں بھر پور تعاون کریں گے۔اس موقع پر چیف آف آرمی سٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وفاقی کابینہ کے اراکین بھی موجود تھے۔
21
71
6
248
14,875
وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے آج گورنر ہاؤس پشاور میں نیشنل ایکشن پلان کی فیڈرل ایپکس کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کی اور خطاب کیا۔ وزیراعظم نے اس عزم کااظہار کیا ہے کہ وفاقی حکومت، عسکری قیادت کے ساتھ ملکر خیبر پختونخوا کے عوام کے مسائل حل کرے گی، خیبر پختونخوا میں خوشیاں ، امن اور ترقی کا دور واپس لاکر صوبہ کے عوام کی خوشحالی کے خوابوں کو عملی جامہ پہنائیں گے ۔ وزیراعظم شہباز شریف کو فیڈرل ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں 12 اضلاع میں ایمرجنسی کے نفاذ پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ خصوصی اجلاس کے دوران خیبر پختونخوا کے امن کیلئے قربانیاں دینے والے شہداء کو زبردست خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔ وزیراعظم نے خطاب میں مزید کہا کہ خیبرپختونخوا غیور اور بہادر لوگوں کا خوبصورت صوبہ ہے۔یہ رحمان بابا اور خوشحال خان خٹک کا صوبہ ہے،آزادی کے وقت اس صوبے نے بڑی اکثریت سے پاکستان میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت خیبر یختونخوا دہشتگردی ، بنیادی عوامی سہولیات کی عدم دستیابی سے بہت متاثر ہے، خیبر پختونخوا کے عوام محرمیوں کا شکار ہیں،ہمیں مجبوری میں صوبے میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کرنا پڑا۔ اللہ سے دعا ہے کہ صوبے میں امن اور ترقی کے عمل کو آگے بڑھانے میں مدد فراہم کرے۔ انہوں نے پشاور سکول کی چھت گرنے کے واقعہ میں ایک استانی اور بچوں کی المناک وفات پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے گورنر خیبر پختونخوا کو کہا تھا کہ وہ متاثرہ جگہ کا فوری دورہ کر کے اس سانحے کی مکمل تحقیقات کرائیں۔ وزیراعظم نے صوبہ کی صورتحال کا ذکر کہا کہ چند برسوں میں جو حالات پیدا کر دئیے گئے اس کی وجہ سے یہ صوبہ بہت متاثر ہے۔ چھ برسوں میں جو حالات پید ا کئے گئے اُس کے بعد امن و امان کو بہت نقصان پہنچا،انہوں نے کہا کہ ہماری بہادر افواج اور سیکورٹی اداروں نے بہت قربانیاں دے کر خیبر پختونخوا سمیت پاکستان میں دہشت گردی کا قلع قمع کر دیا تھا اور دو ہزار اٹھارہ تک اس صوبے میں مکمل امن قائم ہو گیا تھا۔ یہ امن سیکورٹی اداروں سمیت ہماری ما ئوں، بہنوں اور بچوں کی قربانیوں کے نتیجے میں قائم ہوا تھا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 80ہزار لوگ شہید ہوئے اور کئی سو ارب ڈالر کا نقصان ہوا۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے کئی سیاسی خاندانوں نے دہشت گردی کے خلاف بہت قربانیاں دیں، کئی گھراجڑ گئے، عظیم قربانیوں کے نتیجے میں مکمل امن قائم ہوا تھا۔ وزیراعظم نے کہا کہ قیام امن کے بعد پی ٹی آئی دور میں دہشت گردوں کو دوبارہ بلایا گیا اور تمام قربانیوں پر پانی پھیر دیا گیا ، جس کا خمیازہ صوبے کے عوام کو بھگتنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ قوم کے بچوں کے مستقبل کی خاطر ہماری سیکورٹی فورسز کے ہزاروں جوانوں نے اپنی جانیں قربان کیں۔ ان قربانیوں کا احساس اور احترام نہ کرنے سے بڑی ملک دشمنی کوئی اور نہیں ہو سکتی۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی دور میں خیبر پختونخوا میں تعلیم ،صحت ، امن سمیت عوامی فلاح کے تمام امور نظر انداز کئے گئے، اس سے بڑی مجرمانہ غفلت اور بے حسی کی مثال اور نہیں ہو سکتی۔ اسی وجہ سے حالیہ چند برسوں میں دہشت گردی میں پھر اضافہ ہوا۔ وزیراعظم نے کہا کہ گزشتہ صوبائی حکومت کے دور میں پولیس کی پانچ ہزار آسامیوں پر بھرتی نہیں کی گئی، خیبر پختونخوا میں سیف سٹی منصوبہ ابھی بھی نامکمل ہے، انسداد دہشت گردی محکمے اور پولیس کی تربیت پر کوئی توجہ نہیں دی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ 2010 کے این ایف سی ایوارڈ میں تمام صوبوں نے ملکر خیبر پختونخوا کی مدد کا فیصلہ کیا، تمام صوبوں نے انسداد دہشت گردی کے لئے خیبر پختونخوا کو وسائل فراہم کرنے پر اتفاق کیا۔صوبوں نے مل کر فیصلہ کیا کہ خیبر پختونخوا دہشت گردی کے خلاف فرنٹ لائن ہے، تمام وزراء اعلی نے فیصلہ کیا کہ وفاق اور صوبوں کے حصے کے فنڈز میں سے ایک فیصد اضافی خیبر پختونخوا کو دئیے جائیں۔انہوں نے کہا کہ 2010 کے بعد سے خیبر پختونخوا کو این ایف سی ایوارڈ کے تحت انسداد دہشت گردی کی مد میں آٹھ سو ارب روپے دئیے گئے۔ افسوس کا مقام ہےکہ دہشت گردی ختم ہونے کی بجائے مزید ابھر کر سامنے آ گئی۔ خیبر پختونخوا میں سیکورٹی فورسز کو تربیت اور جدید اسلحہ اور دیگر آلات نہیں دئیے گئے۔ خیبر پختونخوا سے متعلق یہ انتہائی تکلیف دہ داستان ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ وفاقی حکومت نے پی ٹی آئی کے وزرائے اعلی کو یقین دلایا تھا کہ انسداد دہشت کے لئے آپ کے ساتھ کھڑے ہیں، گذشتہ ڈھائی سال میں ملکی معیشت کو بحال کرنے کے لئے دن رات محنت کی گئی، سیاسی اور عسکری قیادت کی دن رات کوششوں سے ملکی معیشت مستحکم ہو چکی ہے، دوستوں کے ساتھ اغیار بھی اقرار کرتے ہیں کہ پاکستان نے معیشت بحال کی. 1/2
17
25
2
54
8,126
2/2 وزیراعظم نے سوال کیا کہ کیا ہم خیبرپختونخوا کو مزیدجلتے ہوئے دیکھتے رہتے؟ ہم نے سیاسی کمیٹی بنائی انھوں نے اڑتالیس گھنٹے تک مذاکرات میں بہت محنت کی، کب تک ہم خیبر پختونخوا میں خون ریزی برداشت کرتے رہتے؟وزیراعظم نے کہا کہ انہوں نے خیبر پختونخوا کے انتہائی خراب حالات پر صدر مملکت سے دو بار مشاورت کی۔ انہی وجوہات کی بناء پر خیبر پختونخوا میں سخت فیصلے کرنے پڑے۔ وزیراعظم نے کہا کہ مشاورتی کونسل وجود میں آ چکی ہے جس میں مختلف شعبوں کے ماہرین شامل ہیں، مشاورتی کونسل میں قابل اور ایماندار لوگ شامل ہیں۔ تیرہ سال سے صوبے کے عوام ترسے ہوئے ہیں کہ ان کے مسائل حل ہوں، خیبر پختونخوا کے عوام چاہتے ہیں کہ انھیں بھی بنیادی سہولتیں انکی دہلیز پر میسر ہوں، اس تبدیلی کے مثبت نتائج حاصل کرنا لازمی ہے۔ اللہ کی مدد اور آپ سب کے تعاون سے سیکورٹی سمیت مجموعی حالات بہتر ہونگے۔ وزیراعظم نےخیبر پختونخوا میں کرپشن کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جس پارٹی نے کرپشن کے خاتمے کے نام پر ووٹ لئے وہ خود کرپشن میں ڈوبی ہوئی ہے، خیبر پختونخوا میں کرپشن کی نت نئی کہانیاں سامنے آئیں، خیبر پختونخوا میں پینے کے صاف پانی منصوبے میں ایک سو ارب روپے کی کرپشن ہوئی، کوہستان میگا سیکنڈل میں 37 ارب کی کرپشن سامنے آئی، پلیسر گولڈ پراجیکٹ میں من پسند افراد کو ٹھیکے دئیے گئے۔ وزیراعظم نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں جو قدم اٹھایا گیا ،قانون و آئین اِس فیصلے کا اختیار دیتا ہے۔ وزیر اعظم نے خیبر پختونخوا سے متعلق فیصلے پر تمام حلیف جماعتوں ، صدر آصف علی زرداری اور قائد نواز شریف کا خصوصا شکریہ ادا کیا۔وزیراعظم نے کہا کہ وعدہ کرتا ہوں کہ وفاقی حکومت ، عسکری قیادت کے ساتھ ملکر خیبر پختونخوا کے عوام کے مسائل حل کرے گی، خیبر پختونخوا میں خوشیاں ، امن اور ترقی کا دور واپس لائیں گے، خیبر پختونخوا کے عوام کی خوشحالی کے خوابوں کو عملی جامہ پہنائیں گے۔اس سے قبل گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں امن و امان کا قیام ہماری اولین ترجیح ہے اور خیبر پختونخوا کے عوام امن چاہتے ہیں، فوج، ایف سی اور پولیس نے خیبر پختونخوا میں امن وامان کے قیام کیلئے قیمتی جانوں کا نذرانہ پیش کیا، خیبر پختونخوا میں پائیدار امن و استحکام کے لیے وفاق کا تعاون ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے تمام ادارے اگر ایک صفحے پر ہوں تو امن و ترقی کا عمل نہیں روکا جا سکتا، صوبے سے دہشت گردوں، ان کےسہولتکاروں اور مالی معاونت کاروں کا خاتمہ ہماری اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں مسائل کے حل کیلئے قابلِ عمل حکمتِ عملی وضع کرنا ہمارا مقصد ہے، خیبر پختونخوا میں امن و استحکام کے لیے وفاق کے تعاون کے شکر گزار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں ایسا ماحول چاہتے ہیں جہاں ہر شہری خود کو محفوظ اور ترقی کے عمل کا حصہ سمجھے، خیبر پختونخوا کو امن، استحکام، ترقی اور خوشحالی کا مثالی صوبہ بنانا ہے، عوامی تحفظ اور خوشحالی کیلئے وفاق اور صوبے کے درمیان تعاون ضروری ہے۔ نیشنل ایکشن پلان کی فیڈرل ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، چیف آف آرمی سٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی، وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال، وزیر داخلہ سید محسن نقوی، وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، وفاقی وزیر برائے گلگت بلتستان و آزاد جموں و کشمیر امور انجینئیر امیر مقام، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ، وفاقی وزیر پاور سردار اویس لغاری، وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ، اعلیٰ عسکری قیادت اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔
1
2
5
830