قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کوٹھیاں کے مقام پر کامیاب کلئیرنس آپریشن، دھرنا مکمل طور پر ختم کرا کے تمام اہم شاہراہوں کو ٹریفک کے لیے بحال کر دیا گیا ہے۔
اب ضلع باغ کے کسی بھی حصے میں کوئی سڑک بلاک نہیں ہے۔ ریاست کی بالادستی، امن و امان کا قیام اور عوامی مشکلات کا خاتمہ ہر صورت اول ترجیح
حقوق کی آڑ میں جلاؤ گھیراؤ اور ریاست کے خلاف زہر اگلنے والے انتشاری جتھے عوام کے خیر خواہ نہیں ہو سکتے۔ بیرونی ایجنڈے پر چلنے والی یہ کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی آزاد کشمیر کا امن تباہ کر کے نوجوانوں کا مستقبل داؤ پر لگا رہی ہیں۔ وقت آ گیا ہے کہ ان گمراہ کن سازشوں کو مسترد کیا جائے۔
#آزاد_کشمیر
راولاکوٹ کی صورتحال نے نام نہاد حقوق کی تحریک کے اصل اور بھیانک عزائم بالکل بے نقاب کر دیے ہیں۔ حق کے نام پر تعلیم، کاروبار اور معمولاتِ زندگی کو تباہ کرنا کسی صورت قابلِ قبول نہیں، آزاد کشمیر میں امن و استحکام اور شہریوں کے تحفظ کے لیے ان شرپسند عناصر کے خلاف اب ٹھوس اور عبرتناک قانونی کارروائی ناگزیر ہو چکی ہے۔
راستے بند، اسکول بند، مریض پریشان اور 3 گھنٹے فائرنگ... یہ کیسا پُرامن احتجاج ہے؟
وزیراعظم آزاد کشمیر بیرسٹر سید افتخار گیلانی کا راولاکوٹ میں دوٹوک پیغام "چند لوگوں کی وجہ سے ہم اپنی آنے والی نسل کا نقصان کیوں کریں؟ راولاکوٹ کے غیور عوام نے ہمیشہ تعصب کے بجائے ترقی مانگی ہے اور آزاد کشمیر میں گورننس کا کوئی ایسا مسئلہ نہیں جس کے لیے امن تباہ کیا جائے۔ ریاست کو نقصان پہنچا کر کوئی بہتری نہیں آ سکتی، عوام پُرامن رہیں
آزاد کشمیر کو یرغمال بنانے والے عوامی ایکشن کمیٹی کے مسلح شرپسندوں نے حد پار کر دی ہے۔ راستے بند کر کے مریضوں کی زندگیوں سے کھیلنا اور بچوں کی تعلیم برباد کرنا کوئی عوامی تحریک نہیں بلکہ کھلی دہشتگردی ہے۔ سیکیورٹی فورسز اور معصوم شہریوں پر حملے کرنے والے ان فسادی جتھوں کا اب پورا علاج ہونا چاہیے۔ کشمیر کا غیرت مند نوجوان ان بلیک میلرز اور ملک دشمن عناصر کے سامنے ڈٹ چکا ہے اور اب ان غنڈوں کا انجام جیل کی سلاخیں ہیں۔
سوشل میڈیا پر آزاد کشمیر کی قانونی حیثیت کو لے کر جو جھوٹا پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے، وہ کچھ اور نہیں بلکہ کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی ایک سوچی سمجھی سازش ہے تاکہ خطے میں انارکی اور انتشار پھیلایا جا سکے۔ ان شر پسندوں کا مقصد عوام کی فلاح نہیں بلکہ صرف امن خراب کرنا ہے۔
انسانیت کی خدمت اور صحت عامہ کے لیے ایک اور بہترین کاوش
پاک فوج اور این پی ایچ ایف (NPHF) کے زیر اہتمام بٹراسی میں فری میڈیکل کیمپ کا انعقاد کیا گیا، جہاں سینکڑوں ضرورت مندوں کو مفت طبی معائنہ اور ادویات فراہم کی گئیں۔
عوام کی فلاح اور ہر مشکل گھڑی میں اپنے لوگوں کے ساتھ کھڑے ہونا ہی ہماری فورسز کا طرۂ امتیاز ہے۔
آزادکشمیر میں کالعدم جوائنٹ ایکشن کمیٹی (JAC) کے نام نہاد احتجاج اور شرپسندی نے معصوم شہریوں کو یرغمال بنا رکھا ہے۔ پونچھ ڈویژن میں سڑکوں کی مسلسل بندش، تعلیمی اداروں کی تالہ بندی اور ہسپتالوں کے راستے روک کر عوام کے حقوق کا استحصال کیا جا رہا ہے۔
عوامی حقوق کے نام پر راشن اور بنیادی ضروریات کی سپلائی روکنا حق کی تحریک نہیں بلکہ سراسر دشمنی ہے۔ آزادکشمیر کے عوام ان فسادیوں کو مسترد کرتے ہیں اور حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس کالعدم جتھے کے خلاف فوری اور سخت ترین قانونی کارروائی کر کے امن بحال کیا جائے
ریاست میں کسی بھی مسلح جتھے یا کٹھ پتلی کی کوئی گنجائش نہیں۔ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا بیرونی ایجنڈا اب کسی سے چھپا ہوا نہیں ہے۔ عوام بالکل واضح ہے، ہم ملک دشمن اور کسی بھی کالعدم جماعت کے بیانیے کو جڑ سے مسترد کرتے ہیں
آزاد پتن کے مقام پر راستے مکمل کھلے ہیں اور ٹرکوں سمیت تمام آمد و رفت بلا تعطل جاری ہے۔ کالعدم ایکشن کمیٹی کے مسلح شرپسند زمین پر ناکامی کے بعد اب سوشل میڈیا پر جھوٹا پروپیگنڈا اور انارکی پھیلانے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں۔
سیکیورٹی فورسز نے ان کے راستے بند کرنے کے مذموم عزائم کو خاک میں ملا کر قانون کی بالادستی قائم رکھی ہے۔ افواہوں پر کان نہ دھریں، شاہراہ مکمل محفوظ ہے
عوامی حقوق کا راگ الاپنے والے دراصل بیرونی اشاروں پر ناچ رہے ہیں۔ یہ فسادی عناصر یاد رکھیں کہ پاکستان اور آزاد کشمیر کا رشتہ دل اور جان کا ہے، نہایت مضبوط اور اٹوٹ۔ کوئی بھی سستی سازش، منفی پروپیگنڈا یا شرانگیزی اس لازوال تعلق میں دراڑ نہیں ڈال سکتی۔ عوام بیدار ہے
ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا رائٹرز کو دھماکے دار انٹرویو
واضح پیغام 🇵🇰
بھارت پاکستان میں دہشت گردی کا سب سے بڑا سپانسر ہے، اور افغان طالبان رجیم، TTP اور BLA سب بھارت کی پراکسیاں ہیں۔ افغانستان نور ولی خارجی، بشیر زیب اور گل بہادر جیسے دہشت گردوں کی پناہ گاہ بن چکا ہے جہاں سے پاکستان میں دہشت گردی کے لیے اسلحہ اور نیٹ ورک بھیجا جا رہا ہے۔
افغان رجیم کان کھول کر سن لے
اگر دہشت گردی کا سدباب نہ کیا گیا تو سنگین قیمت چکانا پڑے گی۔ پاکستان کی مسلح افواج ڈرونز سمیت ہر خطرے کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے پوری طرح لیس اور تیار ہیں
#DGISPR
سوشل میڈیا پر چلنے والی جھوٹی کہانیاں اور منفی مہم سچ کو نہیں چھپا سکتیں۔ ملک کی سلامتی کے لیے دن رات کام کرنے والے ہمارے جرنیل اور جوان ہماری سرخ لکیر ہیں۔ جتنی مرضی سازشیں کر لو، غداروں اور جھوٹ کے سوداگروں کو صرف شکست ہی ملے گی۔ پاکستان زندہ باد، پاک فوج پائندہ باد
Skipper Shaheen Shah Afridi with the finishing touch 💫
6️⃣ to claim victory in the tri-series final! 🏆🇵🇰
#PAKvSL | #CricketKaJashan | #BackTheBoysInGreen
امریکی سینیٹر مارکو روبیو کا اہم بیان
"پاکستان کو افغانستان کی سرزمین سے ہونے والے دہشت گردانہ حملوں پر شدید تشویش ہے۔ طالبان نے ان حملوں کو روکنے کے لیے خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے، جس پر پاکستان نے ایکشن لیا ہے۔ ہم نہیں چاہتے کہ پاکستان کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا جائے۔
یہ بیان پاک-افغان سیکیورٹی صورتحال اور دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے موقف کی عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی تائید کو ظاہر کرتا ہے۔
مکہ اتحاد (سعودی عرب، پاکستان، ترکی) میں شام کی ممکنہ شمولیت کا جائزہ، شامی وزیر خارجہ کے مطابق مذاکرات جاری ہیں۔ یہ پیشرفت نہ صرف مشرق وسطیٰ میں دیرپا استحکام کی جانب ایک بڑا قدم ہوسکتی ہے بلکہ عالمی سطح پر مسلم ممالک کے اس ابھرتے ہوئے اتحاد کو مزید مضبوط اور وسیع کرے گی۔
ایران امریکہ ثالثی پر پاکستان محتاط انداز میں پُر امید ہے۔ فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر کا ایک ماہ میں دو بار تہران کا دورہ خطے میں امن کے لیے مثبت پیشرفت کی واضح علامت ہے۔ تعمیری کوششیں رنگ لائیں گی۔
KP میں 13 سالہ اقتدار کا انجام آخر کار گورنر راج پر ہوا۔ پشاور میٹرو جیسے پراجیکٹس میں کرپشن کے اسکور بنانے والے عوام کو صحت، تعلیم اور امن دینے میں مکمل ناکام رہے۔ جب صوبے کو دہشت گردی اور بدامنی کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جائے تو پھر وفاق کو ایسے ہی سخت فیصلے کرنے پڑتے ہیں۔ اب دعوے نہیں، غریب عوام کو فوری ریلیف چاہیے
مکہ دفاعی معاہدے کی کامیابی سے بوکھلاہٹ کا شکار عناصر کو ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان کا دوٹوک جواب، انہوں نے بھارت اور اسرائیل کی جانب سے پھیلائی جانے والی تمام تر غلط معلومات اور منفی پروپیگنڈے کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ یہ دفاعی شراکت داری مضبوط اور پائیدار ہے، جسے کسی بھی بیرونی منفی بیانیے سے کمزور نہیں کیا جا سکتا۔
سرداری نظام، نوابی کلچر اور جاگیردارانہ طبقے کا گٹھ جوڑ ہمیشہ سے عوامی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ رہا ہے۔ اسمبلی کے اندر نجی مفادات کے تحفظ کے لیے اٹھنے والی ہر آواز دراصل اس پرانے اور جابرانہ نظام کو بچانے کی ایک ناکام کوشش ہے۔ جب تک اس فرسودہ سیاسی اور سماجی نظام کو جڑ سے نہیں بدلا جائے گا، تب تک حقیقی عوامی نمائندگی اور ترقی ممکن نہیں۔

