Raheeq Abbasi retweeted
MSNOW: What is your message now to Jewish voters nationally and what you will do to protect them?
Abdul El-Sayed: I’m committed to Jewish safety, and we are united against discrimination. The U.S. spends billions to carry out genocide and apartheid against Palestinians. The genocide in Gaza with our complicity is continuing right now. Nobody wants to talk about that.
Raheeq Abbasi retweeted
Happy Birthday Abdul🎉 wishing you all the best! May ALLAH give you success with the best of health. Ameen @AbdulElSayed
خوش آمدید شر سے بچنے کے لئے نہیں ۔۔ اپنے شر کے تحفظ کے لئے کی جارہی تھی
نائب صدر تو ٹرمپ سے فاصلہ پیدا کرکے شاید اپنی سیاست بچا لے کیونکہ اس کی سیاسی مستقل امریکی عوام کے ہاتھوں میں لیکن ان کا کیا بنے گا جو صرف ٹرمپ کی خوشامد سے اقتدار و طاقت میں ہیں ۔۔۔
امریکی الیکشن سے پاکستانیوں کو خوش ہونے کی ضرورت ہے اور نہ ہی پریشان ہونے کی، پہلے کونسا ٹرمپ کیوجہ سے ڈالروں کی بارش ہو رہی تھی جو اب رک جانی ہے، پہلے جو ہماری طرف سے خوشامد ہو رہی تھی وہ ٹرمپ کی شر سے بچنے کیلئے تھی اب شاید وہ نہ ہو، یہ ضرورت کے رشتے ہیں، پاکستان تو دور کی بات ٹرمپ کا نائب (صدر) اس الیکشن کے بعد اس سے فاصلہ پیدا کر رہا ہے تاکہ شکست کا ملبہ ٹرمپ پر ہی گرے
امریکہ کا صدر دنیا کا طاقتور ترین حکمران ہوتا ہے۔ دنیا کا کوئی اور سربراہ اتنی عسکری، معاشی اور سفارتی طاقت اپنے ہاتھ میں نہیں رکھتا۔ موجود صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس طاقت کو بغیر کسی حیا کے، بغیر کسی معذرت کے استعمال بھی کیا ہے۔ جب چاہا، جسے چاہا، جتنا چاہا، کر دکھایا۔
جنوری 2026 میں وینزویلا کے صدر نکولاس مادورو کو ان کے اپنے گھر سے اٹھا کر امریکی فوجی جہاز پر بٹھا کر نیو یارک لے جایا گیا۔ ٹرمپ نے خود اس کی تصویر سوشل میڈیا پر پوسٹ کی اور کہا کہ اب امریکہ ہی وینزویلا کو چلائے گا جب تک مناسب منتقلی نہ ہو جائے۔ کنیڈا جیسے قریبی ہمسائے پر بھی ڈیوٹیوں کا پہاڑ مسلط کر دیا گیا۔ 2026 میں سیکشن 338 کے تحت کینیڈین مصنوعات پر پچاس فیصد تک اضافی ٹیرف لگا دیے گئے، تجارت تقریباً جنگ کا رنگ اختیار کر گئی۔ ایران پر ظالمانہ حملے ہوئے۔ فروری 2026 سے امریکہ اور اسرائیل کی مشترکہ کارروائیوں نے ایران کے جوہری اور فوجی ڈھانچے کو نشانہ بنایا، اور یہ سلسلہ جاری رہا۔ یوکرائن کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کو فروری 2025 میں وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں بلا کر ٹرمپ اور ان کے نائب جے ڈی وینس نے کھلے عام ذلیل کیا، چیخ چیخ کر کہا کہ "تمہارے پاس کارڈز نہیں ہیں"، اور پھر انہیں باہر نکال دیا گیا۔ کوئی معدنیات کا معاہدہ نہ ہوا، کوئی عزت نہ رہی۔
اگر دنیا کے کسی طاقتور کے حوالے سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس کی طاقت کی کوئی حد نہیں، تو وہ امریکی صدر ہی ہو سکتا ہے۔ نہ اقوام متحدہ روک سکتی ہے، نہ کانگریس کی منظوری کا انتظار کرنا پڑتا ہے، نہ کسی ہمسائے کی بات سننی پڑتی ہے۔ جب چاہے بندوق چلا دو، جب چاہے ڈیوٹی لگا دو، جب چاہے کسی ملک کے صدر کو اٹھا لو۔
لیکن سچی جمہوریت کا حسن یہی ہے کہ ایسی لامحدود طاقت کا حامل شخص بھی انتخابی عمل اور عوام کے ووٹ کے سامنے بے بس ہو جاتا ہے۔ حالیہ امریکی مڈ ٹرم انتخابات نے یہ بات ایک بار پھر ثابت کر دی ہے۔ 3 نومبر 2026 کو ہونے والے ان انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی نے سینیٹ اور ایوان نمائندگان دونوں میں اکثریت حاصل کر لی۔ ٹیکساس، کنساس، ساؤتھ کیرولائنا، اوہائیو اور آئیووا جیسے ریپبلکن گڑھوں میں بھی ڈیموکریٹس نے سیٹیں جیت لیں۔ ٹرمپ نے مہینوں تک اپنے حامیوں سے کہا تھا کہ تم ایسے ووٹ دو جیسے میں خود بیلٹ پر ہوں، مگر جب نتیجہ آیا تو خود کہنا پڑا کہ "میں بیلٹ پر نہیں تھا"۔ مہنگائی، ایران کے ساتھ جنگ سے پیدا ہونے والا تیل کا بحران اور معاشی دباؤ نے ووٹرز کو باغی بنا دیا۔
انہی انتخابات میں ٹرمپ نے نفرت اور تقسیم کو بھی ہتھیار بنایا۔ مشیگن میں مسلم امیدوار ڈاکٹر عبدال السید کو خصوصی نشانہ بنایا گیا۔ ٹرمپ نے انہیں کھلے عام "جہادی" کہا، ان کا نام مسخ کیا، دعویٰ کیا کہ اگر وہ سینیٹ میں پہنچے تو میٹل ڈیٹیکٹر سے گزرنا پڑے گا، اور یہاں تک کہ 11 ستمبر کے ہائی جیکرز سے موازنہ کر دیا۔ کہا کہ ان کی جیت سے "جہادیوں کے ہجوم" ملک میں داخل ہوں گے اور کرسمس تک نہیں منایا جا سکے گا۔ مہم میں ان کی وفاداری پر شبہ کیا گیا، شریعہ نافذ کرنے کا الزام لگایا گیا، اور بغیر ثبوت کے مسلم برادرہوڈ سے جوڑا گیا۔ یہ حملے صرف عبدال السید تک محدود نہیں رہے؛ الہان عمر اور دیگر مسلم سیاستدانوں کے خلاف بھی زہریلی زبان استعمال کی گئی۔
مگر مشیگن کے عوام نے اس نفرت انگیز اور تقسیم پر مبنی موقف کو مسترد کر دیا۔ عبدال السید نے جیت حاصل کی اور امریکہ کی تاریخ کے پہلے مسلم سینیٹر بن گئے۔ ان کی فتح نے ثابت کیا کہ جب صدر دنیا بھر میں طاقت کا مظاہرہ کر رہا ہوتا ہے، تب بھی اپنے ہی ملک میں مذہبی نفرت بیچ کر ووٹ نہیں خریدے جا سکتے۔ جو شخص کسی غیر ملکی صدر کو اٹھا کر لے جا سکتا ہے، وہ اپنے شہریوں کے ضمیر کو کنٹرول نہیں کر سکتا۔
کوئی لاکھ کہے کہ امریکہ کی اصل طاقت اس کی عسکری ٹیکنالوجی، معاشی قوت یا ڈالر کی بالادستی میں ہے۔ سچی بات یہ ہے کہ امریکہ کی اصل طاقت وہ جمہوری نظام ہے جس کے آگے اس کا صدر بھی بے بس ہوتا ہے۔ ورنہ اگر صرف عسکری و ٹیکنالوجی کی طاقت سے ملک بچ سکتے تو سوویت یونین کی عظیم فوجی طاقت کبھی ختم نہ ہوتی، نہ ہی رشیا کے ٹکڑے ہوتے، نہ ہی 1991 میں وہ عظیم الشان سلطنت بکھر جاتی۔ سوویت یونین کے پاس ایٹم بم تھے، ہزاروں ٹینک تھے، دنیا کے بڑے حصے پر اثر و رسوخ تھا۔ مگر جب اندرونی نظام نے عوام کی آواز سنی نہ دی، جب انتخابی عمل نام کی کوئی چیز باقی نہ رہی، تو وہ سب کچھ ریت کی طرح بکھر گیا۔
دنیا بھر کے آمروں کے لئے اس میں ایک سبق ہے ، مگر سیکھتے کم ہیں۔ امریکہ نے حالیہ انتخابات میں ایک بار پھر یہ دکھایا کہ اس کی اصل طاقت فوجی جہازوں اور معاشی پابندیوں میں نہیں، بلکہ اس جمہوری عمل میں ہے جو اپنے طاقتور ترین شخص کو بھی ووٹ کے سامنے جھکا دیتا ہے۔
رحیق احمد عباسی
🤖 Made with AI
Raheeq Abbasi retweeted
Congratulations Abdul El Sayed, الحمدللہ
Your victory resonates far beyond one election, for the children of Gaza enduring the horrors of genocide, and for all those who refuse to let hatred and injustice have the last word.
Being Muslim should never make anyone a target of hatred, prejudice or intimidation. No one should have to face the vile excesses of Islamophobia.
It is a reminder that democracy matters: that the people's mandate is sacred, that every vote counts, and that the will of the people cannot be wished away, manipulated or denied with guns.
People's voice must prevail. May this lesson resonate far beyond your own shores.
Wishing you every success! @AbdulElSayed
امریکن انتخابات میں در اصل نفرت انگیز سیاست ۔۔ جنگی جنون ۔۔ نسل پرستی۔۔ مسلم دشمنی۔۔۔صیہونیت دوستی کو شکست فاش ہوئی۔
Raheeq Abbasi retweeted
Congratulations to Abdul El-Sayed on a stunning victory in Michigan.
You stood up against corporate greed, against racism and against genocide.
Your incredible campaign shows that there’s something more powerful than big money, hatred and lies: hope.
Raheeq Abbasi retweeted
Replying to @LauraLoomer
As-salamu alaykum (Arabic: اَلسَّلَامُ عَلَيْكُمْ) literally translates in English to "Peace be upon you."
Arabic is the language of peace ☮️ & Love ❤️ and is one of the official languages of the United Nations.
It is Love ❤️❤️❤️
It's LOVE ❤️
“They try to call you hateful if you believe that Palestinian kids should get to grow up in the land of their forefathers without being murdered by our tax dollars. If you believe in equal rights to peace, dignity, and self-determination, that's not hate, it's LOVE.”
@AbdulElSayed #AbdulElSayed
Mabrook @AbdulElSayed
Alhamdulillah!
"My name is Abdulrahman Mohamed El-Sayed, and I am so proud and honored to stand here as your Senator-elect from the great state of Michigan. Up until right about now, you might have noticed I always say 'Inshallah' or 'God willing' whenever the outcome of this race was mentioned. But today, tonight, we can turn that 'Inshallah' into a 'Alhamdulillah!'"
Raheeq Abbasi retweeted
عزیزم منیب فاروق کے یو ٹیوب چینل
اور
ایکس اکاؤنٹ
DGISPR MarKhor,
کے مطابق( دونوں ذرائع مفاد عامہ کی خبروں کے انتہائی معتبر ذرائع ہیں):
عمران خان کی کوٹ لکھپت جیل میں نظربند بہنیں نورین نیازی اور عظمیٰ خان ، کو اس شرط پر رہائی ملنے کا امکان ہے اگر وہ رہائی ملنے پر سیاسی گفتگو نہیں کریں گی۔ ظاہر ہے ایسا حکم نامہ آئین اور قانون سے متصادم ہے ، آئینی ریاست میں سیاسی گفتگو پر بھلا کیسے ہابندی عائد کی جا سکتی ہے!
""کوئی تو ہے جو نظامِ مملکت چلا رہا ہے اور مملکت کا باجا بجا رہا ہے؟""، بھلا وہ دیدہ ور، ذہین فطین کون ہے جو قادرِ مطلق بن کر نظامِ سیاست اپنے ہاتھ میں لے چکا ہے؟ کوئی تو ہے جومضحکہ خیز اور تضحیک آمیز فرموداتِ عالی بطور ضابطہ جاری کرتا ہے؟ ملاحظہ فرمائیں:
""نورین نیازی اور ڈاکٹر عظمیٰ خان کو چند دنوں میں رہائی مل جائے گی۔ ان دونوں شہریوں کو پابند کیا جائے گا کہ رہائی کے بعد کوئی سیاسی گفتگو نہیں کریں گی۔"(اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین آرٹیکل19 کے ساتھ اس سے زیادہ کیا مذاق ہو سکتا تھا!)"جبکہ علیمہ خان کو کوئی معافی نہیں ملے گی۔""
پوچھنا بنتا ہے کہ وہ کون طاقتور ہے جو نام ظاہر کرنے سے قاصر مگر ماورائے آئین و قانون ’’ڈیلیں‘‘ اور ’’ڈھیلیں‘‘ دینے پر قدرت رکھتا ہے؟
مجھے عمران خان سیاست سے کوئی دلچسپی نہیں، بلا شبہ عمران خان جیسا ہیرا ، جس سیاست جس لیبارٹری میں تراشا گیا ، اُسی لیبارٹری نے ہی تو دھونس دھاندلی سے ایسی حکومت بنائی جس کی کوئی کَل سیدھی نہیں اورعوام الناس پر نافذ کر رکھاہے ۔ دعنوں دفعہ عوامی رائے کو کچل کر ہائی برڈ حکومتیں عوام الناس کی تضحیک ہے۔ ایسی ٹھونسی گئی حکومتعں سے کوئی سروکار نہیں چونکہ پاکستان سے مجھے غرض ہے،لیبارٹری کو بتانا ہے کہ اپکی وارداتوں نے مملکت گھائل اور ہلکان رکھا ہے۔ میرے نزدیک اگر آر ٹی ایس مملکت کے لیے کالی گھنگھور گھٹا بن کر افق پر چھایا، تو فارم 47 مملکت کے لیے طوفانی تباہی بن کر نافذ ہے، اس لئیے اج کل بلیم گیم شروع ہے۔۔ دونوں سے پیدا شدہ سیاسی عدم استحکام مملکت کی چولیں ہلا چکا ہے۔اگر آج مملکت بد انتظامی، بدامنی، تباہی و بربادی کی دہلیز پھلانگ چکی ہے تو اس کی بنیادی وجہ آر ٹی ایس اور فارم47 ہیں۔ مملکت میں غرور، گھمنڈ اور طمطراق سے آئین، قانون اور عدالتوں کی دن دہاڑے تضحیک ئو رہی ہے، انہیں کمزور کرنے پر اکڑ اور فخر عروج ہر ہے۔
یہ جان کر دہل گیا ئوں کہ کس ڈھٹائی سے عمران خان کی معمر بہنوں سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ زُباں بن رکھنی ہو گی
تب ہی نظر بندی ختم ہو گی
پوچھنا بنتا ہے کہ یہ حکم آئین کے کس آرٹیکل اعر قانون کے کس ضابطہ کے تحت تجویز کیا جا رہا ہے۔ آرٹیکل 19 کی سیسی تذلیل و تضحیک کہ مملکت کے معمر شہری سیاسی گفتگو نہیں کریں گے؟ آئین کے تحت ضمانت یافتہ بنیادی حقوق کی موجودگی میں کس قانون کے تحت روکا جا رہا ہے۔
ہاں، اگر کہا جاتا کہ آئین کے مطابق مقدس اداروں کی حقی سچی ساکھ خراب نہیں کریں گی یا خلافِ قانون گفتگو یا activity نہیں کریں گی، تو بات سمجھ میں آتی تھی۔
حیف ہے کہ ریاست کے اندر ایک غیر آئینی ریاست کارفرما ہے، جو آئینی ریاست کے آئینی اور عدالتی نظام کو منہدم bulldoze کر چکی ہے۔ پچیس کروڑ لوگوں کی مملکت کا آر ٹی ایس سے فارم 47 تک کا سفر، مملکت کو بند گلی میں پہچا چکا ہے، مملکت عمیق دلدل میذ پھنس چکی ہے۔
آر ٹی ایس اور فارم 47 اور دوسے درجنوں غیر آئینی اقدامات کے ذریعے مملکت کو اس حسل میں پہنچانے والوں نے بربادی کے بعد فرما دینا ہے: کہ "ہم نے کوشش کی، اپنی پوری کوشش کی، مگر ہمیں کامیابی نہ ہوئی۔"
نواز شریف، عمران خان، آصف زرداری، مولانا فضل الرحمٰن جیسے سیاست دانوں نے ملک نہیں چلنے دیا۔"
ہمیشہ کی طرح ریاست کس کے ہاتھ پر اپنا لہو تلاش کرے؟ آج بھی آئین، قانون اور عدالتی نظام کو تہس نہس کرنے والے، آر ٹی ایس اور فارم 47 کے ذریعے جمہوری اداروں کا قلع قمع کرنے والے چہرے پسِ پردہ چھپے ہیں، ہاتھوں پر دستانے چڑھائے ہوئے ہیں۔
وی لاگرز اور ایکس پر مخصوص انداز میں نورِبصیرت عام کرنے، آئین قانون کی بےحرمتی کرنے میں آزادی ہے۔
نقصِ امن عامہ 3MPO تحت نظربندوں (تین معمر خواتین امن عامہ کے لئیے خطرہ😂), پر سیاسی گفتگو کی پابندی ہو گی، آئین آرٹیکل 19 جائے بھاڑ میں! جب یہ لاٹھی میری ہے تو بھینس کیوں تمہاری ہے؟
مملکت کے آئین و قانون کو پامال کرنے والے، مملکت کے ساتھ سوتیلے بچوں سا سلوک کرنے والےہمیں نہ بتائیں ان کے دل میں پاکستان کا کوئی احترام یا محبت ہے۔
حکمرانوں کی ذات مبارکہ مملکت پر غالب آ چکی ہے ، انکےذاتی مفادات یعنی کہvested interests وطن عزیز کے مفادات پر حاوی ہو چکے ہیں۔
انسان کے پاس جب لامحدودطاقت آ جائے تو الا ماشاء اللہ وہ طاقت اس کو مغرور و متکبر بنا دیتی ہے۔ وہ اپنی بات سے اختلاف برداشت نہیں کرتا ۔ وہ چاہتا ہے ہر کوئی وہ ہی بولی بولے جو وہ کہہ رہا ہے ۔ یہ ہی لا محدود طاقت انسان کو کبھی فرعون بنا دیتی تو کبھی نمرود۔ کبھی وہ یزید کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے تو کبھی وہ ہٹلرکا روپ دھار لیتا ہے۔ زمانہ بدلتا گیا لیکن طاقت کا مزاج نہیں بدلا۔ گزشتہ زمانے میں گزرے ہوئے طاقتورں کے انجام سے بھی آنے والے دور کے طاقتور کوئی سبق نہیں لیتے ۔ ہر طاقتور یہ ہی سمجھتا ہے وہ مختلف ہے وہ ذیادہ عقل مند ہے وہ سب سے سمجھدار ہے وہ ملک و ریاست کے مفاد کے رازوں سے ہر کسی سے بڑھ کر آگاہ ہے۔ لہذا ہر کسی کو اسی کی بولی میں بات کرنا چاھئیے ۔ جو اس سے اتفاق نہ کرے وہ طاقت کا نشانہ بنتا ہے ۔ تشدد کا شکار ہوتا ہے۔
Raheeq Abbasi retweeted
Macklemore’s ‘Free Palestine’ tour ended with a sold-out show in London. It brought together artists and activists calling for an end to suffering in Gaza, after Macklemore was dropped from Ed Sheeran’s US tour following pro-Palestinian remarks.
Macklemore concludes ‘Free Palestine’ tour with solidarity message
More on Aljazeera.com





















