سروے۔۔۔۔۔۔۔
عوامی سروے! پنجاب کا بہترین وزیراعلی کون ؟
#MaryamNawaz #PervaizElahi #PunjabGovernment #GovtOfPakistan
وزیراعلی پنجاب اور وفاقی وزیر کے درمیان معاملہ بگڑچکا ہے۔۔وزیراعلی پنجاب کو چودھری سالک حسین کے جواب کے بعد ایک اور جواب آرہا ہے۔۔۔گیم آن
آپکی جرت نہیں ہے آپ الیکشن کروا سکیں،عوام آپکی ہڈیاں تک نوچ لیں گے۔۔۔۔۔۔۔۔۔برگیڈئیر ر مشتاق احمد کی تقریر اپوزیشن کی اب تک کی سب سے بہترین تقریر ہے۔۔ مکمل تقریر سننے کے لیے 👇
youtu.be/G4bFecbbeGQ?si=wny-…
تو سوال بھی کچھ یوں ہے۔۔
کہ جب ہہ سب کچھ بن رہا تھا اس وقت سی ڈی اے کہاں تھا؟؟غفلت برتنے پر کیا اسوقت کے افسران کے خلاف بھی کاروائی ہوگی؟؟؟
عمران خان کی بہن نورین نیازی کو تشویشناک حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا۔جو ڈاکٹر نے ٹیسٹ تجویز کیے وہ تک نہیں کروائے گئے۔ایوان کا ممبر ہوتے ہوئے سر شرم سے جھک جاتا ہے انکی بیٹیوں کو ملنے نہیں دیا گیا بیٹا بھی انکا پابندسلاسل ہے۔۔اپوزیشن لیڈر پنجاب معین ریاض قریشی
پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن ارکان عمران خان اور انکی بہنوں کی رہائی کے نعرے بلند کرتے ہوئے ایوان میں داخل ہوئےاپوزیشن ارکان نے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے ہیں اپوزیشن ارکان کے ،ایک ریاست دو دستور ، کون بچائے گا پاکستان ،عمران خان کے نعرے۔۔۔۔۔۔
مولانا فضل الرحمن کا بیان انتہائی افسوسناک ہے،فضل الرحمن کو جب تک حصہ ملتا رہے تو حکومت بہت اچھی لگتی ہے،پاک افواج اور ریاست کے خلاف بات کرنا مولانافضل الرحمن کی عادت ہے،ریاست مخالف بات کو بالکل برداشت نہیں کریں گے کیونکہ ریاست ہماری ماں ہے،ریاست ہے تو ہم ہیں اگر ریاست کے خلاف بیان دیں گےتو یہ رویہ غیر مناسب ہوگا، ظہیر اقبال چنڑ
وزیر اطلاعات پنجاب عظمی بخاری کا کامران مرتضیٰ کے بیان پر ردعمل
پنجاب کے عوام نے مریم نواز کو مینڈیٹ دیا ہے،
ہمیں معلوم ہے مریم نواز کے ڈلیور کرنے کرنے کی تکلیف صرف پی ٹی آئی کو نہیں اور بھی بہت لوگوں کو ہےمریم نواز کے اقدامات پر پوائنٹ اسکورنگ کرنے کےلیے پی ٹی آئی کافی ہےجے یو آئی اب پی ٹی آئی کی بی ٹیم بننے کی کوشش نہ کرے،کے پی میں ناجائز قبضے واگزار کروانے کا غصہ ریاست پر کیوں نکالا جارہا ہمیں معلوم ہے،بغل میں چھری اور منہ میں رام رام والی سیاست اب نہیں چلے گی،عظمی بخاری
مجرمان کو بغیر عدالت کیفرکردار تک پہنچانے کے بعد وزیراعلی پنجاب کا اب دیوانی اور فوجداری مقدمات کو بھی عدالتوں سے باہر حل کرنے کا فیصلہ۔۔۔۔
پنجاب کے عوام کے لیے اہم قانون سازی۔
پنجاب میں دیوانی اور فوجداری تنازعات کے جلد حل اور عدالتی معاملات سے بچنے کے لیے "The punjab alternative dispute resolution ordinance2026" متعارف
مقدمات کا بوجھ کم کرنے اور جلد انصاف / تنازعات کے حل کیلئے اتھارٹی قائم کی جائے گی،
طویل عدالتی مقدمہ کے برعکس تنازعات ثالثی، مصالحت اور باہمی مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کا نظام قائم ہو گا
عدالت میں زیر التوا مقدمات فریقین کی رضامندی سے اتھارٹی کو بھجوائے جا سکیں گے، متن
اتھارٹی سے تنازعات کے حل پر عدالت فیصلہ اور ڈگری جاری کرے گی، متن
تنازعات کے حل کے لیے لاہور ہائیکورٹ سے نامزد جج، منظور شدہ ثالث یا منظور شدہ مرکز خدمات انجام دیں گے،
اتھارٹی تنازعات کے حل کے نظام کی نگرانی اور متعلقہ اداروں کی منظوری کی ذمہ دار ہوگی،
خواتین سے متعلق تنازعات میں ترجیحی بنیادوں پر خاتون ثالث کی خدمات لی جائیں گی،
اتھارٹی تنازعات کے حل کے لیے ثالثوں، مراکز اور تربیتی اداروں کی منظوری کا طریقۂ کار وضع کرے گی،
اتھارٹی ثالثوں، مراکز اور تربیتی اداروں کی منظوری اور تجدید کی مجاز ہوگی،
اتھارٹی منظور شدہ ثالثوں اور مراکز کی فہرست لاہور ہائیکورٹ کے رجسٹرار کو فراہم کرے گی،
خاندانی تنازعات، بچوں کی سرپرستی اور تحویل کے معاملات اتھارٹی کو بھجوائے جائیں گے،
تجارتی معاہدوں پر عمل درآمد اور معاہدوں کی مخصوص تکمیل کے معاملات اتھارٹی کو بھجوائے جائیں گے،
ہرجانے، منقولہ جائیداد یا اس کی قیمت کی وصولی معاملات اتھارٹی کو بھجوائے جائیں گے،
مشترکہ غیر منقولہ جائیداد کی تقسیم کے معاملات اتھارٹی کو بھجوائے جائیں گے،
مشترکہ جائیداد کے حسابات، حق وراثت، ڈیکلریشن اور جانشینی معاملات اتھارٹی کو بھجوائے جائیں گے،
پیشہ ورانہ غفلت، صارفین کے تنازعات، کاپی رائٹ معاملات اتھارٹی کو بھجوائے جائیں گے،
عدالت فریقین کو باہمی رضامندی سے منظور شدہ ثالث یا مرکز منتخب کرنے کا موقع دے گی،
اتفاق نہ ہونے پر عدالت فہرست میں سے ثالث یا مرکز منتخب کر سکے گی،
تنازعات کے حل کی کارروائی میں فریقین خود، مجاز نمائندوں یا وکلا کے ذریعے شرکت کر سکیں گے،
بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سمیت فریقین کو ضرورت کے مطابق ویڈیو لنک اور جدید ذرائع سے کارروائی میں شرکت کی سہولت حاصل ہوگی،
تنازعات کے حل کی فیس اور اخراجات فریقین باہمی رضامندی سے تقسیم کریں گے،
متبادل تنازعات کے حل کے دوران ہونے والی کارروائی اور بات چیت خفیہ رکھی جائے گی،
آرڈیننس کی منظوری 90 روز کے لئے گورنر پنجاب 6 اکتوبر کو دے چکے
بعد از کمیٹی رپورٹ بل ایوان سے منظور کروایا جائے گا
ایوان سے منظوری کے بعد آرڈیننس قانون کی شکل پائے گا
ایسے غیرسنجیدہ لوگوں کے ہوتے ہوئے تحریک انصاف کبھی بھی معاملات کو سلجھا نہیں سکتی۔۔۔ جب قیام کا وقت ہوتا ہے یہ لوگ سجدے میں چلے جاتے ہیں۔۔۔
نکموں نااہلوں سے پنجاب نہیں پاکستان کو بھی خطرہ ہے۔۔۔
ایلیٹ کا پاکستان اور عام آدمی کے پاکستان میں کتنا فرق ہے ۔2022میں حکومت نے پاکستان کو دیوالیہ سے بچانے کے لیے عوام سے قربانی مانگی تھی مگر اب یہ قربانی ختم نہیں ہو رہی ۔عوام کی مشکلات دن بدن بڑھتی جارہی ہیں ۔پیٹرول ۔بجلی ۔گیس ۔اشیاء خورونوش کی قمیتوں میں دوگنا سے بھی زائد کا اضافہ ہوگیا ہے ۔مگر ایلیٹ کلاس کی مراعات بڑھتی جارہی ہیں ۔اینکر شاہ زہیب خانزادہ
وزیراعلی پنجاب کی آمد سے قبل شہر کی گلیوں میں صفائی ستھرائی کی جارہی ہے۔۔















