Pinned Tweet
Surat Muahammad: 47 | Ayat: 24
کیا یہ قرآن میں غورو فکر نہیں کرتے؟ یا ان کے دلوں پر ان کے تالے لگ گئے ہیں🌴
﴿سورۃ محمد، ۲۴﴾
آپ اے سی چلا کر پوری نیند لینے کے بعد ہائی وے پر دو گھنٹے کے سفر پر نکلتے ہیں۔
45 منٹ گزرتے ہی آپ کو جمائیاں آنے لگتی ہیں اور آنکھیں کھلی رکھنا مشکل ہونے لگتا ہے۔
آپ سموتھ سڑک اور ڈرائیونگ کو اس کی وجہ سمجھتے ہیں۔ لیکن اصل وجہ آپ کی گاڑی کے اندر کی ہوا ہوتی ہے۔
ری سرکولیشن والا بٹن آپ کی گاڑی کو باہر کی ہوا سے الگ کر دیتا ہے۔
آپ کا ہر سانس کاربن ڈائی آکسائیڈ (CO2) میں اضافہ کرتا ہے اور وہ اندر ہی پھنسی رہتی ہے۔
30 منٹ بعد اس کی مقدار باہر کی ہوا کے مقابلے میں بہت زیادہ بڑھ سکتی ہے۔
باہر کی ہوا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ تقریباً 400 پارٹس پر ملین ہوتی ہے۔
دو افراد کے ساتھ بند گاڑی میں صرف 30 منٹ بعد یہ مقدار 2,500 سے بھی اوپر جا سکتی ہے۔
اس سطح پر سوچنے سمجھنے کی صلاحیت واضح طور پر سست پڑ جاتی ہے اور ردعمل دینے کی رفتار کم ہو جاتی ہے۔
آپ کے فیصلے خراب ہونے لگتے ہیں اور آہستہ آہستہ غنودگی طاری ہونے لگتی ہے۔
آپ ہائی وے پر تیز رفتار سے گاڑی چلا رہے ہوتے ہیں، لیکن آپ کا دماغ ایسے کام کر رہا ہوتا ہے جیسے آپ مسلسل 20 گھنٹے جاگ چکے ہوں۔
خوفناک بات یہ ہے کہ آپ کو اس کا احساس بھی نہیں ہوتا۔
آپ کاربن ڈائی آکسائیڈ کو گرمی یا سردی کی طرح محسوس نہیں کر سکتے۔
آپ کو بس تھکن، بھاری پن اور دماغ پر دھند سی چھائی ہوئی محسوس ہوتی ہے تو آپ چائے یا کافی پینے کے لیے ہاتھ بڑھاتے ہیں۔
لیکن چائے یا کافی اس مسئلے کو حل نہیں کرے گی کیونکہ آپ کے جسم کو تازہ ہوا کی کمی ہو رہی ہوتی ہے۔
ری سرکولیشن موڈ کافی دیر تک چلنے کے بعد آپ کی گاڑی کی ہوا زیادہ تر آپ کی اپنی سانس پر مشتمل ہوتی ہے جو بار بار گردش کرتی رہتی ہے۔
گاڑی میں بچے موجود ہوں تو کاربن ڈائی آکسائیڈ اور بھی تیزی سے جمع ہوتی ہے۔
بچوں کے جسم میں توانائی خرچ ہونے کی رفتار زیادہ ہوتی ہے اس لیے اپنے جسمانی سائز کے حساب سے وہ بڑوں کی نسبت زیادہ کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج کرتے ہیں۔
ری سرکولیشن کا صرف ایک کام ہے باہر کی ہوا کو اندر آنے سے روکنا۔
یہ شدید ٹریفک کے لیے بنایا گیا ہے جہاں یہ اردگرد کی گاڑیوں کے دھوئیں کو اندر آنے سے روکتا ہے۔
ہائی وے پر اسے بند کر دیں اور تازہ ہوا کو اندر آنے دیں۔
اگر آپ اسے آن رکھنا پسند کرتے ہیں، تو اسے وقفے وقفے سے تبدیل کریں 30 منٹ آن رکھیں،ل پھر 10 منٹ آف کر دیں اور پورے سفر کے دوران یہی عمل دہراتے رہیں۔
ہائی وے پر غنودگی کی وجہ سے ہونے والے حادثات میں پیرامیڈکس نے جن گاڑیوں کو چیک کیا ان میں سے زیادہ تر کا ری سرکولیشن موڈ آن پایا گیا۔
اس کے باوجود اے سی کی یہ سیٹنگ کبھی حادثے کی وجہ کے طور پر جانی نہیں جاتی۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ حادثے کا شکار ہونے والی گاڑیوں کے اندر کاربن ڈائی آکسائیڈ کی سطح کوئی چیک نہیں کرتا۔
بات سیدھی سی ہے بند گاڑی، گزرتا وقت اور اندر موجود مسافر یہ سب مل کر کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار بڑھاتے ہیں۔
اگلی بار لمبے سفر پر نکلنے سے پہلے اس نشان کو تلاش کریں جس میں تیر باہر سے گاڑی کے اندر آتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔
یہ فریش ایئر موڈ ہے، اور ہر 30 منٹ بعد ایک بار بٹن دبانے سے آپ کی گاڑی کی ہوا صاف رہتی ہے اور صاف ہوا آپ کو چوکنا رکھتی ہے ۔
اگر آپ اسے آن رکھنا پسند کرتے ہیں، تو اسے وقفے وقفے سے تبدیل کریں: 30 منٹ آن رکھیں، پھر 10 منٹ آف کر دیں، اور پورے سفر کے دوران یہی عمل دہراتے رہیں۔
لمبے سفر کے دوران آپ کی گاڑی کا ایک بٹن اتنی کاربن ڈائی آکسائیڈ (CO2) اندر روک لیتا ہے کہ 30 منٹ کے اندر آپ کو نیند کے جھونکے آنے لگتے ہیں۔ آپ اپنی ہی گاڑی کے دھوئیں جیسی خارج شدہ گیس بار بار سانس کے ذریعے اندر کھینچ رہے ہوتے ہیں۔
آخر ڈرائیونگ کے دوران بار بار جمائیاں آنے کی اصل وجہ کیا ہے؟ یہ پوسٹ رفاہِ عامہ کے لیے شیئر کریں اور دوستوں کو ٹیگ کریں۔ بشکریہ علی قیصرانی
Surat-ul-Qasass: 28 | Ayat: 55
اور جب بیہودہ بات کان میں پڑتی ہے تو اس سے کنارہ کر لیتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں کہ ہمارے اعمال ہمارے لئے اور تمہارے عمل تمہارے لئے ، تم پر سلام ہو ہم جاہلوں سے (الجھنا) نہیں چاہتے🌴
﴿سورۃ القصص، ۵۵﴾
🚨🚨مشتری ہوشیار باش:
اگر آپ ان چار میں سے کسی ایک کام میں بھی ملوث پائے گئے تو FBR آپکو نہیں چھوڑے گی۔
جب مولبی گلا پھاڑ کر اور اس کے ایمپلی فاییر پر بیٹھا بندہ والیم چُک کے رکھے تو noise level تقریباً 100db ٹَچ کر جاتا ہے۔ کوئی بھائی بتا سکتا ہے کہ عام انسانی کان 👂 کتنے ڈی بی پر ڈیمیج ہوتا ہے؟؟ 🤔
BREAKING: Hackers are hitting banks in 7 countries at the same time.
1/ South Korea: hackers used a Chinese AI tool to break into at least 7 financial firms. 68,000 people's data stolen. 16 firms breached by mid-October. This week Daishin Securities reported 38,490 customers' data leaked, bank account numbers included.
2/ Latin America: one gang ran AI agents built on Claude, Grok and Kimi against 400+ targets, banks and payment firms included. They stole passwords and got into customer bank accounts.
3/ Italy: a fake WhatsApp from "the CEO" and an AI-cloned voice got Intesa Sanpaolo's private bank to send out €95 million. €36 million is still MISSING, turned into crypto.
4/ India: small lenders lost ₹300 crore (about $31 million) in 2 months. 150 cases. Hackers copied bank logins and sent the money out as fake loans. One firm was hit twice.
5/ Crypto: $351 million drained from Bitget's hot wallets. North Korean hackers are suspected.
6/ Japan: hackers hit GMO Internet's currency trading service and demanded $50 million in crypto. The prime minister promised an emergency anti-cyberattack package.
7/ Australia: the regulator warns AI attacks put more than A$4.5 trillion in retirement savings in the firing line. Government cyber alerts jumped 80% in a year.
Surat-ul-Hashar: 59 | Ayat: 18
اے ایما ن والو! اللہ سے ڈرو اور ہرآدمی دیکھ لے کہ اس نے کل (یعنی روزِ قیامت) کے لئے کیا تیاری کی ہے اور اللہ سے ڈرتے رہو جو کچھ تم کرتے ہو اللہ یقیناً اس سے پوری طرح باخبر ہے🌴
﴿سورۃ الحشر، ۱۸﴾
Surat-ut-Tauba: 9 | Ayat: 116
یقینا اللہ ہی ہے جس کے قبضے میں سارے آسمانوں اور زمین کی سلطنت ہے۔ وہ زندگی بھی دیتا ہے، اور موت بھی، اور اللہ کے سوا تمہارا نہ کوئی رکھوالا ہے نہ مددگار 🌴
﴿سورۃ التوبہ، ۱۱۶﴾
مکہ مکرمہ نے ایک امام کے تحت نماز کے 100 سال مکمل کر لیے۔
کئی صدیوں تک مسجد الحرام میں چار الگ الگ نماز کی جگہیں تھیں۔ ہر مسلک اپنے اپنے امام کے ساتھ ایک کے بعد ایک نماز ادا کرتا تھا۔
عام طور پر شافعی گروہ پہلے نماز پڑھتا تھا، اس کے بعد دوسرے گروہ۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ ایک ہی نماز دن میں کئی بار دہرائی جاتی تھی۔
27 اکتوبر 1926 کو شاہ عبدالعزیز نے اس عمل کو بند کرنے کا حکم دیا۔ علما نے اس بات پر اتفاق کیا کہ سب کو ایک ہی امام کے تحت جمع کیا جائے۔
اس کے بعد سے ہر نماز کے لیے صرف ایک جماعت ہوتی ہے۔ حرم میں بار بار گروہ نہیں ہوتے اور الگ الگ حصے بھی نہیں رہے۔
یہ اسی طریقے سے میل کھاتا ہے جس طرح نبی کریم ﷺ اور ان کے صحابہ نماز پڑھتے تھے۔ تمام نمازی ایک جسم کی طرح ایک امام کے پیچھے کھڑے ہوتے ہیں۔
یہ نظام بغیر کسی تبدیلی کے پورے 100 سال جاری رہا ہے۔ آج بھی لاکھوں لوگ مکہ مکرمہ میں ایک متحد جماعت کی صورت میں نماز ادا کرتے ہیں۔






