Pinned Tweet
پاکستان سے میری محبت خالص بھی ہے، مکمل بھی اور کبھی کبھار شدید درد دینے والی بھی...
اور شاید اسی لیے عمران خان میرے لیے صرف ایک سیاسی نام نہیں…
وہ ایک انسان ہیں،
ایک ایسا فرد جس کی نیکی،
اس کی سچائی،
اس کی نیت نے ہمیشہ الگ جگہ بنائی ہے۔
میری اصل فکر خان کے فیصلوں کی وجہ سے نہیں،
نہ ان قدموں کی وجہ سے جو خان نے وقت پر لیے یا نہ لے سکا،
اور نہ خان کی غلطیوں کی وجہ سے جنہوں نے ہم سب کو بہت تھکایا…
بلکہ اس لیے کہ عمران خان کی نیت صاف تھی!
وہ ایک ایسا شخص ہے،
جس نے نہ ملک لوٹا،
نہ ضمیر بیچا،
نہ عزت کا سودا کیا۔
اور بس،
یہی ایک بات انسان کو انسان سے جوڑ دیتی ہے۔
میں خان کے لیے آواز اس لیے اٹھاتی ہوں کہ دل کی گہرائی میں آپ جانتے ہیں کون اچھا ہے اور کون نہیں؛ اور جب کسی کی خوبی، اس کا ایمان، اس کی سچائی اس حد تک نمایاں ہو کہ لاکھ غبار بھی اسے دھندلا نہ سکے…
تو پھر اس کے ساتھ کھڑا ہونا بحث نہیں رہتا،
ایک ذمہ داری بن جاتا ہے: انسانی، اخلاقی اور دل سے جڑی ہوئی۔
اور جہاں تک انکی کی بہنوں کی بات ہے…
ان کی ثابت قدمی، ان کی خاموش جنگ، ان کی ہمت،
وہ واقعی انتہائی قابل قدر ہے۔
وہ عورتیں اس پورے طوفان میں جیسے پہاڑ بن کر کھڑی ہیں…
ایسا حوصلہ روز دیکھنے کو نہیں ملتا۔
میں بس اتنا جانتی ہوں:
میں کسی کے عہدے یا اختیار کے لیے نہیں کھڑی۔
میں اس خوبی، اس نیکی، اس سچائی کے لیے کھڑی ہوں،
جو آج کے دور میں کم ہی ملتی ہے۔
اور یہی وجہ ہے کہ میری آواز رک نہیں سکتی۔
پاکستان زندہ باد 🇵🇰
@Aleema_KhanPK
@Noreen_KhanPK
@ImranKhanPTI
ارشد شریف بھائی نے جب کہا تھا کہ "وہ شخص آدھی بوتل پانی بھی ضائع نہیں ہونے دیتا" تو وہ صرف عمران خان کی عادت بیان نہیں کر رہے تھے، بلکہ ایک معیار مقرر کر رہے تھے۔
اس قوم کو اور عمران خان کے ووٹرز کو تکلیف ہونی چاہیے کہ وہ لوگ، جو عمران خان کی دیانت داری کو اپنا سیاسی سرمایہ بنائے بنے بیٹھے ہیں، خود فضول خرچی، شاہانہ طرز زندگی اور بے احتسابی کا مسلسل مظاہرہ کر رہے ہیں۔
عمران خان کے نام پر سیاست کرنا تو بہت آسان ہے، عمران خان کے اصولوں پر چلنا نا ممکن!
عمران خان گیارہ مہینوں سے قید تنہائی میں ہیں،
بہنیں 30 دن گزرنے کے بعد بھی نظر بند ہیں،
اور 300 بے حس، بے ضمیر لوگ عمران خان کے نام پر صرف اپنے مفاد کی خاطر اسمبلیوں کو "چمڑے بیٹھے" ہیں۔
Merae Pakistaniyo'n,
"It was the best of times, it was the worst of times, it was the age of wisdom, it was the age of foolishness, it was the epoch of belief, it was the epoch of incredulity, it was the season of light, it was the season of darkness, it was the spring of hope, it was the winter of despair, we had everything before us, we had nothing before us......"
Merae Pakistaniyo'n,
"It was the best of times, it was the worst of times, it was the age of wisdom, it was the age of foolishness, it was the epoch of belief, it was the epoch of incredulity, it was the season of light, it was the season of darkness, it was the spring of hope, it was the winter of despair, we had everything before us, we had nothing before us......"
ہماری قوم کی ایک عجیب سیاسی کمزوری ہے: ہم نتائج سے زیادہ ہیرو بنانے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔
اس لیے ذرا ریکارڈ کو جذبات سے ہٹ کر دیکھیں۔
عمران خان نے تیس سال سے زیادہ عرصہ سیاست میں گزارا ہے اور جس پیمانے کی سیاسی، ذاتی اور مالی قربانی انہوں نے دی ہے، اسے کسی مارچ، کسی جیل، کسی انٹرویو یا کسی تقریر سے چند سال میں replicate نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے اپنی فیملی سے دوری برداشت کی، اپنا وقت دیا، اپنی صحت کا نقصان برداشت کیا، اپنی آنکھ تک کی تکلیف برداشت کی، اپنی ذاتی زندگی قربان کی اور اپنی دولت اور savings کا ایک بڑا حصہ اسی جدوجہد پر خرچ کیا۔ یہ سب اس دور میں شروع ہوا جب سوشل میڈیا نام کی کوئی طاقت موجود نہیں تھی۔ پھر سوشل میڈیا آیا تو انہوں نے اس نئے سیاسی ماحول کو بھی اپنی جدوجہد کا حصہ بنایا۔
یہ resilience کسی PR campaign سے پیدا نہیں ہوتی۔
اس لیے جو لوگ عمران خان کی سیاسی جماعت میں آج موجود ہیں، ان کے لیے یہ سمجھنا بے حد ضروری ہے کہ اگر کوئی شخص اگلے تیس یا چالیس سال بھی سیاست میں گزار دے، تب بھی وہ خود بخود اس تاریخی تجربے، قربانی اور سیاسی سفر کا متبادل نہیں بن سکتا جو عمران خان نے کئی دہائیوں میں طے کیا ہے۔
یہ کسی کی تضحیک نہیں، حقیقت پسندی ہے!
سوشل میڈیا کیمپین، PR، مسلسل میڈیا موجودگی اور مصنوعی طور پر کسی کو "نیا ہیرو" بنانے کی کوشش اپنی جگہ، لیکن ان چیزوں سے سیاسی قد، عوامی اعتماد اور دہائیوں کی resilience پیدا نہیں ہوتی۔
اس لیے آنکھیں کھلی رکھیں۔
کسی کو صرف اس لیے عمران خان کا متبادل سمجھنے کی غلطی نہ کریں کہ اسے مسلسل اس انداز میں پیش کیا جا رہا ہے۔
ہیرو بنائے نہیں جاتے، وقت انہیں بناتا ہے۔
وقت سے پہلے کسی کو متبادل یا ہیرو یا حق سمجھ لینا صرف غلطی نہیں، اپنے ہی شعور کے ساتھ ناانصافی ہے۔
ہماری قوم کی ایک عجیب سیاسی کمزوری ہے: ہم نتائج سے زیادہ ہیرو بنانے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔
اس لیے ذرا ریکارڈ کو جذبات سے ہٹ کر دیکھیں۔
عمران خان نے تیس سال سے زیادہ عرصہ سیاست میں گزارا ہے اور جس پیمانے کی سیاسی، ذاتی اور مالی قربانی انہوں نے دی ہے، اسے کسی مارچ، کسی جیل، کسی انٹرویو یا کسی تقریر سے چند سال میں replicate نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے اپنی فیملی سے دوری برداشت کی، اپنا وقت دیا، اپنی صحت کا نقصان برداشت کیا، اپنی آنکھ تک کی تکلیف برداشت کی، اپنی ذاتی زندگی قربان کی اور اپنی دولت اور savings کا ایک بڑا حصہ اسی جدوجہد پر خرچ کیا۔ یہ سب اس دور میں شروع ہوا جب سوشل میڈیا نام کی کوئی طاقت موجود نہیں تھی۔ پھر سوشل میڈیا آیا تو انہوں نے اس نئے سیاسی ماحول کو بھی اپنی جدوجہد کا حصہ بنایا۔
یہ resilience کسی PR campaign سے پیدا نہیں ہوتی۔
اس لیے جو لوگ عمران خان کی سیاسی جماعت میں آج موجود ہیں، ان کے لیے یہ سمجھنا بے حد ضروری ہے کہ اگر کوئی شخص اگلے تیس یا چالیس سال بھی سیاست میں گزار دے، تب بھی وہ خود بخود اس تاریخی تجربے، قربانی اور سیاسی سفر کا متبادل نہیں بن سکتا جو عمران خان نے کئی دہائیوں میں طے کیا ہے۔
یہ کسی کی تضحیک نہیں، حقیقت پسندی ہے!
سوشل میڈیا کیمپین، PR، مسلسل میڈیا موجودگی اور مصنوعی طور پر کسی کو "نیا ہیرو" بنانے کی کوشش اپنی جگہ، لیکن ان چیزوں سے سیاسی قد، عوامی اعتماد اور دہائیوں کی resilience پیدا نہیں ہوتی۔
اس لیے آنکھیں کھلی رکھیں۔
کسی کو صرف اس لیے عمران خان کا متبادل سمجھنے کی غلطی نہ کریں کہ اسے مسلسل اس انداز میں پیش کیا جا رہا ہے۔
ہیرو بنائے نہیں جاتے، وقت انہیں بناتا ہے۔
وقت سے پہلے کسی کو متبادل یا ہیرو یا حق سمجھ لینا صرف غلطی نہیں، اپنے ہی شعور کے ساتھ ناانصافی ہے۔
اگر آپ گھر بیٹھے کچھ بھی نہیں کر سکتے، نہ میسج لکھ سکتے ہیں، نہ ٹویٹ کر سکتے ہیں، نہ ری پوسٹ کر سکتے ہیں، تو عمران خان کے نام کا صدقہ شوکت خانم اسپتال کو دے دیں۔
اگر روزانہ کی بنیاد پر نہیں دے سکتے تو ہفتہ وار دے دیں، اور اگر ہفتہ وار نہیں دے سکتے تو ماہانہ دے دیں۔
لیکن جب بھی عمران خان کو یاد کریں، اس عظیم تحفے کو ضرور یاد کریں جو انھوں نے اپنی والدہ کے نام پر اس قوم کو دیا ہے۔ یہ تحفہ صرف ایک اسپتال نہیں ہے، بلکہ پوری قوم کے لیے امید، خدمت اور انسانیت کی بہترین مثال نشان بن چکا ہے!
shaukatkhanum.org.pk/online/
@SKMCH
@Aleema_KhanPK
@Noreen_KhanPK
@DrUzma_KhanPK
@Kasim_Khan_1999
پی ٹی آئی کا ہر سیٹ ہولڈر، چاہے سینیٹر ہو، ایم این اے، ایم پی اے، کور کمیٹی کا رکن ہو یا کسی بھی کمیٹی میں بیٹھا ہو، اس نظام سے فائدہ اٹھا رہا ہے۔
ان میں سے کسی کا بھی اپنی نشست سے استعفیٰ نہ دینا ہی خان سے انکی نام نہاد وفاداری، منافقت اور اسے دھوکے میں رکھنے کے لیے کافی ہے! جو لوگ خان کے نام پر سیاست کرتے ہیں، مگر اپنی نشست، عہدے اور مراعات چھوڑنے کو تیار نہیں، وہ درحقیقت کس کے ساتھ کھڑے ہیں؟
انکے الفاظ نہیں، انکا اپنی نشستوں سے چمٹے رہنا سب کچھ بتا رہا ہے۔
Iss liyae Khuda ka wasta resign karein!
@BarristerGohar
@salmanAraja
Namkeen Chai نمکین چائے retweeted
بڑا انسان - بڑے خواب - خود کا مستقبل معلوم نہیں
لیکن انسانیت اپنے غریبوں کے لیے ایک اور شوکت خانم ہسپتال کراچی - 29 دسمبر - 2026
نوشی آپی صرف کور کمیٹی نہیں، پوری سیاسی جماعت تحلیل ہونے کی ضرورت ہے، ماسوائے گھٹیا ڈراموں اور ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچ کر اوپر چڑھنے کے علاوہ انھوں نے نا ہی عمران خان، نا ہی صوبے اور نا ہی اپنے ووٹرز کے لئے کچھ کیا ہے!!
اگر آپ گھر بیٹھے کچھ بھی نہیں کر سکتے، نہ میسج لکھ سکتے ہیں، نہ ٹویٹ کر سکتے ہیں، نہ ری پوسٹ کر سکتے ہیں، تو عمران خان کے نام کا صدقہ شوکت خانم اسپتال کو دے دیں۔
اگر روزانہ کی بنیاد پر نہیں دے سکتے تو ہفتہ وار دے دیں، اور اگر ہفتہ وار نہیں دے سکتے تو ماہانہ دے دیں۔
لیکن جب بھی عمران خان کو یاد کریں، اس عظیم تحفے کو ضرور یاد کریں جو انھوں نے اپنی والدہ کے نام پر اس قوم کو دیا ہے۔ یہ تحفہ صرف ایک اسپتال نہیں ہے، بلکہ پوری قوم کے لیے امید، خدمت اور انسانیت کی بہترین مثال نشان بن چکا ہے!
shaukatkhanum.org.pk/online/
@SKMCH
@Aleema_KhanPK
@Noreen_KhanPK
@DrUzma_KhanPK
@Kasim_Khan_1999
پی ٹی آئی کو تو 26 نومبر کے بعد ہی تحلیل کر دینا چاہیے تھا، اگر اسکی تنظیمی قیادت کا کام صرف عہدوں پر بیٹھنا، بیانات دینا اور دوسروں پر تنقید کرنا رہ گیا ہے۔
بطور جنرل سیکریٹری آپکی کارکردگی کا سوال بالکل سیدھا ہے: 26 نومبر کے بعد آپ نے تنظیمی طور پر کیا حاصل کیا؟
کتنے سینیٹرز، ایم این ایز اور ایم پی ایز سے انکی صفر پیش رفت پر جواب طلب کیا؟
کتنے لوگوں سے پوچھا کہ وہ اپنے حلقوں میں عوام کو متحرک کرنے میں کیوں ناکام رہے؟
اڈیالہ کے باہر حاضری اور سیاسی جدوجہد کو منظم کرنے کے لیے کیا کیا؟
خان کی بہنوں کے خلاف غلیظ ترین زبان استعمال کی گئی، پارٹی کے منتخب نمائندے خاموش رہے، اور ستائیسویں آئینی ترمیم پر بند کمروں میں ننگی حمایت کے سوالات ہیں، مگر احتساب کہاں ہے؟
اور یہ سوال صرف جنرل سیکریٹری تک محدود نہیں!!!
عبوری چیئرمین نے بھی بین الاقوامی فورمز پر پارٹی کا مؤقف مؤثر انداز میں اٹھانے اور بین الاقوامی رابطوں کو منظم کرنے کے لیے آخر کیا کیا؟
کیا کسی اہم بین الاقوامی فورم پر مسلسل اور سنجیدہ engagement نظر آئی؟
کیا پارٹی کے مؤقف، خان کی قید تنہائی اور جمہوری و آئینی معاملات پر کوئی واضح، مربوط اور قابل پیمائش سفارتی حکمت عملی سامنے آئی؟
محض عہدہ سنبھال لینا اور عملی طور پر اس ذمہ داری کو نبھانا دو بالکل مختلف باتیں ہیں۔
26 نومبر ایک ایسا موڑ تھا جسکے بعد پارٹی کو اپنی تنظیم نو، قیادت کی جواب دہی، عوامی متحرک کاری اور بین الاقوامی سطح پر سیاسی رابطوں کا ازسرنو جائزہ لینا چاہیے تھا۔ اگر اسکے بعد بھی تنظیمی کارکردگی کا کوئی واضح معیار نہیں، منتخب نمائندوں سے کوئی جواب طلبی نہیں، اور بین الاقوامی سطح پر مؤثر engagement کا کوئی نمایاں ریکارڈ نہیں، تو پھر بھی آپ لوگ سیٹوں سے کیوں چپکے ہوئے ہیں؟
اصل مسئلہ یہ ہے کہ پارٹی میں عہدے تو موجود ہیں، مگر ان عہدوں کے ساتھ وابستہ ذمہ داریوں کے نتائج کہاں ہیں؟
دوسروں کے کام پر تنقید کرنے سے پہلے قوم کو اور ووٹرز کو اپنے کام کا حساب دیجئے۔ کارکن سڑکوں پر نکلیں، قربانیاں دیں، دباؤ برداشت کریں، اور عہدوں پر بیٹھے لوگ اپنی بنیادی ذمہ داریوں پر بھی سوالات کا جواب نہ دیں، یہ سلسلہ بلکہ تماشا آخر کب تک چلے گا؟
کوئی ابہام نہ رہے۔ سہیل آفریدی ایک بہادر نوجوان ہے جو عمران خان صاحب کے نظریے پہ ثابت قدم کھڑا ہے۔ تاہم لانگ مارچ کے انتظامی معملات کا تنقیدی جائزہ ضروری ہے۔ یہ جائزہ سہیل آفریدی کے خلاف سازشی بیانیوں کا جواب دینے کیلئے ضروری ہے۔ کور کمیٹی میں گفتگو کو سیاق و سباق سے ہٹ کر اور توڑ مروڑ کر پیش کرنا سازشی بیانیوں کا حصہ ہے۔















