Farhan Malik (@farhanmalikview) header
Farhan Malik (@farhanmalikview) profile picture

Journalist at @Samaatv | IR Scholar | Geopolitics & Diplomacy Analyst | Pakistan & Regional Affairs

Pakistan
Joined April 2022
میں آپ کو ثابت کرکے دوں گا یہی جمیعت علمائے اسلام والے گورنر راج سے پہلے کہتے تھے گورنر راج لگائیں ہماری ان سے جان چھڑائیں یہ جو آپ کیساتھ بیٹھ کر اپوزیشن کرتے ہیں یہ گورنر راج لگوانا چاہتے تھے۔ محسن نقوی کا بیرسٹر علی ظفر سے مکالمہ
جمعیت علمائے اسلام اسلام کو بزنس اور سیاست کے لیے استعمال کرتی ہے۔ ان کیلئے جے یو آئی کے لیے ریاست تب تک ماں ہوتی ہے جب تک وہ اس سے فائدہ اٹھاتی ہے۔ ریاست مخالف باتیں کسی سیاستدان کو زیب نہیں دیتیں، ریاست مخالف باتیں کرنے پر مولانا فضل الرحمان کی میرے دل میں اب کوئی عزت نہیں رہی۔ جے یو آئی والے کہتے تھے کہ گورنر راج لگائیں اور ہماری پی ٹی آئی سے جان چھڑائیں۔ اب جے یو آئی کو ریاست میں نوکری نہیں ملے گی، نہ ہی ریاست سے پیسے اور ٹکٹ ملیں گے۔ جے یو آئی نے لائن کراس کی ہے، اب انہیں جواب ملے گا۔ محسن نقوی
4
10
326
جمعیت علمائے اسلام اسلام کو بزنس اور سیاست کے لیے استعمال کرتی ہے۔ ان کیلئے جے یو آئی کے لیے ریاست تب تک ماں ہوتی ہے جب تک وہ اس سے فائدہ اٹھاتی ہے۔ ریاست مخالف باتیں کسی سیاستدان کو زیب نہیں دیتیں، ریاست مخالف باتیں کرنے پر مولانا فضل الرحمان کی میرے دل میں اب کوئی عزت نہیں رہی۔ جے یو آئی والے کہتے تھے کہ گورنر راج لگائیں اور ہماری پی ٹی آئی سے جان چھڑائیں۔ اب جے یو آئی کو ریاست میں نوکری نہیں ملے گی، نہ ہی ریاست سے پیسے اور ٹکٹ ملیں گے۔ جے یو آئی نے لائن کراس کی ہے، اب انہیں جواب ملے گا۔ محسن نقوی
1
3
2
13
934
پاسداران انقلاب IRGC کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محبی نے امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگوں کو صاف کرنے کی کی تصدیق کریں اور آزادانہ طور پر قابل تصدیق ثبوت پیش کرے۔ ایسے دعووں کو صرف سرکاری بیانات کے بجائے ٹھوس ثبوتوں سے ثابت کیا جانا چاہیے۔ 1956 کے سویز بحران کس طرح طاقتور قومیں بھی سٹریٹیجک طور پر اہم سمندری راستوں کو کنٹرول کرنے کی کوشش کرتے وقت اہم رکاوٹوں کا سامنا کر سکتی ہیں۔
5
608
سعودی وزارت جنگ نے ایک تصویر پبلک کی ہے جس میں پاکستانی ملٹری سروس کے ایک رکن اور بحرین کے پائلٹ موجود ہیں اور یہ کارروائی یمنی حوثی ملیشیا کیخلاف کی جا رہی ہے۔
13
1,072
امریکی جریدے ریئل کلیئر ڈیفنس کی رپورٹ کے مطابق میں امریکی اسلحہ پاکستان پر حملہ آور دہشت گردوں کی صلاحیت بڑھا رہا ہے۔افغانستان میں امریکی اسلحے، دہشت گردی اور پاکستان کی سلامتی پر تفصیلی جائزہ لیا گیا ہے۔افغانستان میں رجیم چینج کے وقت 7.12 ارب ڈالر مالیت کا امریکی فوجی سازوسامان موجود تھا۔امریکی انخلا کے بعد افغانستان میں 3 لاکھ سے زائد ہتھیار، 40 ہزار سے زائد فوجی گاڑیاں اور 78 طیارے موجود تھے۔ امریکی جریدے ریئل کلیئر ڈیفنس کے مطابق اقوام متحدہ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان ٹی ٹی پی کو جدید اسلحہ فراہم کر رہے ہیں۔ دہشت گردوں کو ایم 24 اسنائپر رائفلز، ٹیلی اسکوپ والی ایم 4 رائفلز اور تھرمل سائٹس والی ایم 16 رائفلز فراہم کی گئیں۔ realcleardefense.com/terrori…
4
12
515
خواجہ کو موقع مل گیا۔
خواجہ آصف کو کل مولانا کی پاپولر اور کلاسک سیاسی تقریر کے بعد جس لوز بال کی تلاش تھی وہ جے یو آئی کے ارکان نے آج پارلیمنٹ میں انہیں بڑے آرام سے تھما دی اور انہوں نے اس کا خوب فائدہ اٹھایا اور اگر چھکے نہیں تو چوکےضرور مارے۔ جب خواجہ صاحب مولانا کی کل کی گئی تقریر کا جواب دے رہے تھے اور ان پر خاصے سنگین الزامات لگا رہے تھے کہ کیسے وہ سب جرنیلوں اور سیاسی حکمرانوں کے ساتھ مل کر کھاتے پیتے رہے تو اس وقت ہی جے یو آئی کی خاتون رکن نے کورم پوائنٹ آئوٹ کر دیا تاکہ ہاوس معطل ہو جائے اور خواجہ آصف مولانا کی تقریر کا جواب نہ دے پائیں اور وہ سب پی ٹی آئی ارکان سمیت واک آئوٹ کر گئے۔ گنتی کی گئی تو ہاوس آڈر میں تھا۔ یہ وہ پہلی لوز بال تھی کہ آپ خواجہ آصف کا جواب سننے سے ڈرتے ہیں۔ جے یو آئی اور پی ٹی آئی کا یہ وار خالی گیا تو وہ واپس ہاوس میں آئے۔ دوسری لوز بال فوا کرائی گئی جب جے یو آئی خواتین ارکان نے شور ڈالنا شروع کر دیا اور یہی خواجہ صآحب چاہتے تھے کہ انہیں جو تقریر میں مصحالہ لانے کے لیے جوش درکار تھا وہ انہیں مل گیا اور انہوں نے پھر وہ حملے شروع کیے جس کا وہ کل سے انتظار کررہے تھے۔ جب تک خواجہ صاحب کی تقریر میں ڈسٹربنگ نہ کی گئی تھی انہیں اپنا جوش اور pace and passion تلاش کرنے میں دقت ہورہی تھی۔ اور انہیں خود لفظ ڈھونڈنے میں مشکل ہورہی تھی۔ لیکن جونہی خواتین نے شور مچایا خواجہ صاحب کی پرانی فارم لوٹ آئی اور انہوں نے بغیر رحم دلی دکھائے مولانا پر سنگین الزامات لگائے اور مذہب کے نام پر کمائیوں کا الزام لگایا۔انہیں حصہ مل جائے تو چپ ورنہ دھمکیاں دیتے ہیں اور پنجابی محاوروں کا استمعال کیا۔ خواجہ صاحب کی یہ بات ٹھیک تھی کہ کل انہوں نے مولانا کی تقریر سکون سے سنی تھی اور آج جے یو آئی کو خاموشی سے سنننا چاہئے تھی اور پھر جواب دیتے۔ جے یو آئی کو شاید ابھی تک خواجہ صاحب کی شخصیت کے بارے یہ اندازہ نہ ہے کہ ان کی تقریر میں اگر ہاوس میں سکون ہو تو وہ جارحانہ انداز میں گفتگو نہیں کرسکتے۔ ان پر الہامی الفاظ اس وقت ہی نازل ہوتے ہیں جب ان کی تقریر کے دوران جملے کسے جائیں، شور کیا جائے،ان کا مذاق اڑایا جائے۔ انسلٹ کی جائے۔؟ اس لیے جے یو آئی خواتین کے شور شرابے میں خواجہ صاحب اچانک بدل گئے اور پرانی فارم لوٹ آئی اعر پھر سب نے سنا اور خواجہ صاحب کو بھی یقینا ٹھنڈ پڑ گئی جو کل سے جل رہے تھے۔ خواجہ صاحب نے اس شور میں اپنی تقریر مکمل کی اور اپنے تئیں کل کا بدلہ لے لیا۔ جے یو آئی کا کورم پوانٹ آوٹ کرنا اور شور شرابہ ڈالنا مولانا کی کل تقریر کا اثر بڑی حد تک زائل کر گیا کہ شاید پارٹی کے پاس خواجہ صاحب کی باتیں سننے کا حوصلہ اور جواب نہیں تھا۔ اس سے پہلے خواجہ صاحب کل سے کمزور وکٹ پر کھیل رہے تھے لیکن جے یو آئی کے جذباتی ری ایکشن نے انہیں چوکے چھکے مارنے میں مدد دی۔ خواجہ آصف کو جے یو آئی کی ان خواتین ممبران پر غصہ کی بجائے تھینک یو کارڈ بھیجنا چاہئیے۔ اگر وہ شور نہ ڈالتیں تو خواجہ کی تقریر بورنگ ہوتی اور مولانا کی تقریر کا اثر زائل نہ کرپاتے۔ (پارلیمنٹ سے براہ راست رئوف کلاسرا) @KhawajaMAsif @MoulanaOfficial @juipakofficial @CMShehbaz @AyazSadiq122
1
211
مولانا کو دفاع کے لئے خواتین کی ضرورت پڑ گئی ہے، مرد کہاں ہیں؟
سیر کے اوپر کبھی سو سیر بھی آ جاتا ہے۔ ایک وقت تھا کہ خواجہ آصف کی شعلہ بیان تقریر سے مشرف بھی خوف کھا جاتا تھا۔ پھر تحریک انصاف پر خواجہ آصف کے کئی قرض تھے جو وہ اتار نہیں سکے تھے۔ مراد سعید جذباتی تقریر کرتا تھا مگر اس کا مقابلہ نہیں بنتا تھا۔ پیپلز پارٹی کے قادر پٹیل کا مقابلہ بنتا ہے۔ کل مولانا فضل الرحمان نے خواجہ آصف کو بے بس کر دیا۔ خواجہ آصف سے طارق فضل چودھری نے پوچھا کہ جواب آپ دیں گے یا میں دوں خواجہ آصف جواب دینے میں بے بس نظر آئے۔ کہا تم ہی دو۔ مولانا مسلم لیگ ن کی سیکنڈ قیادت کو ٹارگٹ کر رہے ہیں۔ لیکن بڑی قیادت سے خود کو دور کر رہے ہیں۔مولانا کا مقابلہ اس سیکنڈ قیادت سے نہیں بنتا۔ ان کو تنقید شہباز شریف اور نواز شریف پر کرنی چاہئے۔ مگر مولانا کا رخ دوسری طرف ہے۔ سہیل آفریدی کیساتھ محسن نقوی کے اچھے تعلقات تھے مگر جب انھوں نے یہی روایہ اپنایا تو بڑے گھر کو پسند نہیں آیا مولانا کا روایہ بھی ملتا جلتا ہے لگتا ہے کہ کہیں مولانا کی باری آ گئی ہے اور مولانا اس چیز کو پھانپ چکے ہیں۔ دیوبندیوں میں بڑی طاقت یہی بچی ہوئی ہے اس کو ختم کرنے کا پلان شاید ہوچکا ہے۔
3
4
1
7
411
امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگستھ نے پینٹاگون کے اعلیٰ فوجی منصوبہ ساز لیفٹیننٹ جنرل بریٹ سلویا کو عہدے سے ہٹا دیا۔ دی اٹلانٹک کے مطابق بریٹ سلویا کو بغیر کوئی وجہ بتائے عہدے سے ہٹایا گیا۔ ایک سال کے دوران پینٹاگون کے اعلیٰ فوجی منصوبہ ساز کو دوسری بار عہدے سے ہٹایا گیا ہے۔
1
11
599
پاکستان سعودی عرب اور ترکیہ کا ایران جانا کام کرتا ہوا نظر آ رہا ہے ایران کی تعاون کی یقین دہانی نے امریکہ کو مجبور کر دیا ہے ایران پر حملے رینجل پاور ہی رکوا سکتی ہیں۔ وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے پاسداران انقلاب کے سابق کمانڈر اور نیشنل سپریم کونسل کے سیکرٹری جنرل محسن رضائی کو پیغام بھیجا ہے۔ خط کا مقصد مذاکرات دوبارہ شروع کرنا ہے۔ نائب صدر کے مطابق ایران کے ہارڈ لائنر سے براہ راست بات چیت بہتر نتائج دے سکتی ہے۔ بات چیت کا فوکس کسی معاہدے پر نہیں بلکہ مذاکراتی فریم ورک پر ہے۔ خط میں لکھا گیا کہ ممکنہ امریکی حملوں سے بچنے کے لیے مذاکرات میں ایران کے جوہری پروگرام پر بات کرنا لازمی ہے۔ امریکی اخبار کے مطابق خط امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ہدایت پر بھیجا گیا۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ جے ڈی وینس کے ذریعے محسن رضائی کو پیغام بھیجنے کے خواہش مند تھے۔ لیکن امریکی صدر نے نائب صدر جے ڈی وینس کو ہدایت دینے کی تردید کردی۔ کہا کہ ایران کو طبی سامان کی ضرورت ہے، جو ہم پہنچا رہے ہیں۔ ہمارا مقصد بیمار افراد کی مدد کرنا ہے، امن مذاکرات شروع کرنا نہیں۔ جنگ جلد ختم کردیں گے۔ ایران بھی وینزویلا کی طرح جلد امریکی کامیابیوں کی فہرست میں شامل ہوگا۔ امریکی اخبار ایگزیوس کو امریکی عہدیدار نے بتایا کہ سعودی حکام نے ایران کے دورے کے بعد وائٹ ہاؤس سے اہم رابطہ کیا۔ سعودی عرب کو مڈٹرم الیکشن کے بعد ایران پر ممکنہ بمباری پر تشویش ہے۔ سعودی عرب نے ٹرمپ انتظامیہ کو ایران کے خلاف جنگ میں جلد بازی نہ کرنے کہا اور ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے مزید وقت دینے کی درخواست کی۔ سعودی عرب نے امریکا پر دباؤ ڈالا کہ ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی سے گریز کیا جائے۔ پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ، قطر ، مصر امریکہ پر جتنا دباؤ بڑھائیں گے امریکہ ایران پر ممکنہ حملے کرنے سے گریز کرے گا۔ یہ دباؤ ایران کے تعاون سے ہی بڑھایا جاسکتا ہے کہ اگر ایران پراکسیز کو چھوڑ کر صرف اپنی بقا کی جنگ لڑے اور ریجنل پاور کیساتھ الائنس میں آئے۔ ایران ایک فریق سے تعلقات میں بہتر کرتا ہے تو دوسرے کیساتھ بگاڑ دیتا ہے۔ یہ سب ہارڈ لائنر کی وجہ سے ہو رہا ہے۔ ایرانی پولیٹکل لیڈرشپ کو ان ہارڈ لائنر کی وجہ سے سیاسی و سفارتی ڈیلما کا سامنا ہے۔ جب تک یہ ان دونوں کے آپسی اختلافات ختم نہیں ہوتے اور ریجنل پاور کیساتھ الائنس میں نہیں آتے ایران کو چائنہ اور روس سے بھی سپورٹ نہیں ملے گی۔ امریکہ کیخلاف الائنس ہی مزاحمت کر سکتے ہیں۔ گریٹر پاور کے اپنے مفاد ہیں۔ چائنہ کو ووینزویلا سے نکالا گیا تو وہ ایران کے پاس آگیا ایران سے روکا گیا تو روس کے پاس چلا گیا۔ ان ریجنل پاورز ترکیہ ، پاکستان اور سعودی عرب کے تینوں گریٹر پاور کیساتھ اچھے تعلقات ہیں۔ یہ الائنس تینوں بڑی پاورز پر دباؤ کی پالیسی اپنا سکتے ہیں۔ براک اوباما نےٹرمپ کیخلاف تقریر کی ہے۔ مگر ٹرمپ اوباما کے معاہدے سے کچھ زیادہ کرنا چاہے گا کیونکہ اس معاہدے پر واپسی آنا ہے تو امریکہ کی ہجمنی ڈیمج ہوگی۔ انھوں نے کبھی اس چیز کو قبول ہی نہیں کیا۔ تحریر:فرحان ملک #farhanmalik #Geopolitics #USAIRAN #IranWar #JDVANCE
1
7
1
51
8,160
سیر کے اوپر کبھی سو سیر بھی آ جاتا ہے۔ ایک وقت تھا کہ خواجہ آصف کی شعلہ بیان تقریر سے مشرف بھی خوف کھا جاتا تھا۔ پھر تحریک انصاف پر خواجہ آصف کے کئی قرض تھے جو وہ اتار نہیں سکے تھے۔ مراد سعید جذباتی تقریر کرتا تھا مگر اس کا مقابلہ نہیں بنتا تھا۔ پیپلز پارٹی کے قادر پٹیل کا مقابلہ بنتا ہے۔ کل مولانا فضل الرحمان نے خواجہ آصف کو بے بس کر دیا۔ خواجہ آصف سے طارق فضل چودھری نے پوچھا کہ جواب آپ دیں گے یا میں دوں خواجہ آصف جواب دینے میں بے بس نظر آئے۔ کہا تم ہی دو۔ مولانا مسلم لیگ ن کی سیکنڈ قیادت کو ٹارگٹ کر رہے ہیں۔ لیکن بڑی قیادت سے خود کو دور کر رہے ہیں۔مولانا کا مقابلہ اس سیکنڈ قیادت سے نہیں بنتا۔ ان کو تنقید شہباز شریف اور نواز شریف پر کرنی چاہئے۔ مگر مولانا کا رخ دوسری طرف ہے۔ سہیل آفریدی کیساتھ محسن نقوی کے اچھے تعلقات تھے مگر جب انھوں نے یہی روایہ اپنایا تو بڑے گھر کو پسند نہیں آیا مولانا کا روایہ بھی ملتا جلتا ہے لگتا ہے کہ کہیں مولانا کی باری آ گئی ہے اور مولانا اس چیز کو پھانپ چکے ہیں۔ دیوبندیوں میں بڑی طاقت یہی بچی ہوئی ہے اس کو ختم کرنے کا پلان شاید ہوچکا ہے۔
12
8
2
66
13,961
پشاور میں ریاست غیر قانونی تجاوزات کا خاتمہ کرنا چاہ رہی ہے مگر سرکاری نوٹس ملنے پر جمعیت علمائے اسلام کے رہنما عطاء الرحمن نے دھمکی دی کہ کسی کی جرات ہے تو وہ سرکاری زمین پر بنے مفتی محمود سینٹر کو گرا کر دکھائے۔ رضوی برادران بھی ایسے دھمکیوں کیساتھ جوش دکھاتے تھے۔ کیونکہ ان کو لگتا تھا کہ ہم مذہبی لوگ ہیں تو جذبات کو ابھار کر ریاست پر چڑھ دوڑیں گے ایک سال ہوگیا ہے کسی کو نظر تک نہیں آئے۔ لال مسجد آپریشن میں بھی ان کو یہی لگتا تھا کہ ریاست کچھ نہیں بگاڑ سکتی پھر وقت نے دکھایا کہ برقع پہن کر فرار کی کوشش کر رہے تھے۔ ثمر ہارون بلور کے مطابق خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی نافذ ہونے کے بعد سب سے پہلا اقدام مدارس کو رجسٹرڈ کرنا ہے۔ عمران خان اس تاریخی کام کو انجام نہیں دے سکے کیونکہ مدارس کی بلیک میلنگ آڑے ہاتھوں آگئی تھی۔ مگر اس وقت پاور جن کے ہاتھ میں ہے ان کا یہ فیصلہ بہترین اور تاریخی ہوگا کہ وہ مدارس سسٹم کو رجسٹریشن میں لیکر آئیں۔ مولوی حضرات اس نظام کے خلاف اس وجہ ہیں کیونکہ رجسڑیشن میں آمد و خرچ کا حساب کتاب ہوتا ہے۔ جو یہ دینا نہیں چاہ رہے یہ بھی ریاست کی غلط پالیسی کی وجہ سے ہوا تھا کہ سرکاری زمینوں پر ہر جگہ مدارس بنائے گئے اب یہ رواج اتنا چل چکا ہے جس کے پاس دو مرلہ زمین ہو وہ اپنی دوکان کھول لیتا ہے اور ریاست کو جرأت نہیں ہوتی کہ اس کو روک سکے یا رجسڑیشن کے عمل میں لا سکے۔ مولانا فضل الرحمان مدارس کی رجسٹریشن کیخلاف ہیں۔ عمران خان نے ان سے بات چیت کی تھی کہ بجلی کا بل حکومت ادا کرے گی۔مدارس کو رجسڑیشن کے عمل سے گزارنا ہوگا۔ مدرس کو تنخواہیں اخراجات اور آمد کا حساب کتاب ریاست کو دینا ہوگا۔ ان مدارس میں ایجوکیشن سسٹم کا کوئی میکانزم نہیں ہے پاکستان کے کئی لوگ سعودی عرب، قطر ، متحدہ عرب امارات اور مصر سے پڑھ کر آئے ہیں ان کے نصاب میں اور پاکستان و انڈیا کے نصاب میں زمین آسمان کا فرق ہے یہاں دو سال تک بچے کو عامہ کا امتحان نہیں دینے دیا جاتا فارسی پڑھائی جاتی ہے۔ مولانا فضل الرحمان ریاست سے ٹکرا رہے ہیں تو پھر ان کا بھی وہی حال کرنا چاہیے جو رضوی برادران کا ہوا ہے اسی فارمولے کے تحت سب کیساتھ نمٹا جائے اور مذہبی بلیک میلنگ کا راستہ بند کیا جائے۔ ریاست کو یہ تفریق ختم کرنی ہوگی کہ کسی غریب کی دوکان بیچ میں آ جائے تو قانون نافذ ہوگا اگر کسی مذہبی جماعت کی دھمکی آئے تو باہمی احترام کا جواز پیش کیا جائے۔ مذہب ایک بےجان چیز ہے جس کو شاطر لوگ عوامی جذبات کو ابھار کر اپنے مفادات کا تحفظ کرتے ہیں۔ کسی اسلامی ملک میں کسی مذہبی ٹچ والوں کو جرات نہیں ہوتی کہ وہ ریاست پر چڑھائی کریں مگر پاکستان میں ہر بندہ شیر ہے۔ اسلامی قوانین بھی غیر مسلم ریاست کے قانون کی پاسداری کا حکم دیتے ہیں یہاں سرکاری زمین پر قبضہ کرنا ہے تو مدرسہ بنا دیں یا مسجد بنا دیں۔ یا رشوت دیکر اپنے نام کروا لیں۔ اس سلسلہ ختم ہونا چاہیے۔ تحریر: فرحان ملک
10
5
4
35
4,673
بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے آسیان وزرائے دفاع کے اجلاس میں امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگستھ سے ملاقات کے دوران پاکستان کے F-16 لڑاکا بیڑے کے لیے امریکی فوجی تعاون پر نئی دہلی کی تشویش کا اظہار کیا۔ یہ اعتراضات پاکستان کے F-16 بحری بیڑے کے لیے 686 ملین امریکی ڈالر کے تحفظ اور جدید کاری کے پیکج کے حوالے سے اٹھایا گیا۔ اس اپ گریڈیشن کا اعلان دسمبر 2025 میں کیا گیا تھا، جس میں ایویونکس اپ گریڈ، کرپٹوگرافک سسٹمز اور لنک-16 ٹیکٹیکل ڈیٹا سسٹم شامل ہیں۔
2
24
1,342
پاکستان اور انڈیا کی جنگ کے بعد پاکستان کو پہلا دعوت نامہ آگیا ہے بھارت نے پاکستان کے نیشنل ہیریٹیج اور کلچر کے وزیر اورنگزیب خان کھچی کو نئی دہلی میں ہونے والے پہلے شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) سویلین ڈائیلاگ فورم میں مدعو کیا ہے۔ یہ پروگرام 20-22 نومبر 2026 کو دہلی کے پرانا قلعہ میں مقرر ہے، اور اس کا افتتاح نریندر مودی کریں گے۔ یہ مئی 2023 میں گوا میں ایس سی او کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے بعد کسی پاکستانی وزیر کو پہلی دعوت ہے، اور مئی 2025 کے فوجی تنازعے کے بعد پہلی دعوت ہے۔
2
4
26
957
آریانا نیوز کے مطابق افغانستان کی عبوری حکومت کی وزارت دفاع نے بتایا کہ افغان فورسز نے صوبہ پکتیکا سے پاکستان کے ملٹری بیسز اور سرحدی چوکیوں پر حملے شروع کر دیے ہیں، ان حملوں کو انگور اڈہ کے قریب مبینہ پاکستانی ڈرون حملوں کا جوابی کارروائی کہا اور دعویٰ کیا کہ متعدد پاکستانی فوجی اہلکار مارے گئے یا زخمی ہوئے اور فوجی تنصیبات کو نقصان پہنچا ہے۔
1
9
1,544
نورین خانم کی طبعیت میں بہتری، تمام میڈیکل رپورٹس تسلی بخش آنے پر دوبارہ کوٹ لکھپت جیل منتقل ​لاہور: کوٹ لکھپت جیل میں قید نورین خانم کی طبیعت اچانک بگڑنے پر انہیں فوری طبی امداد فراہم کی گئی۔ ذرائع کے مطابق انہیں سانس لینے میں شدید دشواری کا سامنا تھا جس کے بعد ان میں دمے (Asthma) کے دورے کی تشخیص ہوئی۔ ​طبی عملے نے صورتحال کے پیش نظر ان کا مکمل طبی معائنہ کیا اور ضروری تشخیصی ٹیسٹ کروائے۔ ہسپتال و میڈیکل بورڈ کے مطابق نورین خانم کی تمام رپورٹس بالکل تسلی بخش (کلیئر) آئی ہیں اور ان کے اہم اعضاء معمول کے مطابق کام کر رہے ہیں۔ ​ڈاکٹرز کی جانب سے صحت کو خطرے سے باہر قرار دیے جانے اور کلیئرنس جاری ہونے کے بعد جیل انتظامیہ نے سیکیورٹی کے سخت انتظامات میں انہیں دوبارہ کوٹ لکھپت جیل منتقل کر دیا ہے۔ جیل ذرائع کا کہنا ہے کہ جیل کے اندر بھی ان کی صحت کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے تاکہ ضرورت پڑنے پر فوری طبی سہولت فراہم کی جا سکے۔
2
2
1
11
1,232
اس ملک نے جس کو بھی عزت، دولت اور شہرت دی ہے اس نے ان بلندیوں پر پہنچ کر اسی ریاست کو گالیاں دیں۔ اس ملک کو لوٹنے میں اگر کسی کا کردار نہیں ہے تو وہ بندہ ہے جس کا ہاتھ نہیں پہنچا۔ مولانا اپنی گفتگو پر شرمندگی کی بجائے ہنستے ہوئے فرما رہے ہیں کہ اس ریاست نے انھیں کیا دیا ہے؟ مولانا اسمبلی، سینیٹ، کئی سال اقتدار کے مزے اور جائیدادیں حاصل کرنے کے بعد ایسا کیا رہ گیا ہے جو مولانا حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں اور ریاست ماں کو تھو کہہ رہے ہیں؟ بڑوں سے سنا تھا کہ خاندانی لوگ وضع دار ہوتے ہیں۔مولانا اتنا کچھ حاصل کرنے کے باوجود بھی گلے شکوے کر رہے ہیں۔ اور اخلاقیات سے ماوارئے گفتگو کر رہے صرف اس وجہ سے کہ حکومت میں کہیں حصہ نہیں ملا اور ریٹ درست نہیں لگا؟
1
4
11
553
یمنی حوثی ملیشیا انصار اللہ کے ترجمان کی عدن کے لوگوں کو دوسری بار وارننگ
القوات المسلحة تجدد دعوتها وللمرة الأخيرة للمتواجدين في مطار عدن للإخلاء الفوري للمطار نظرا لوجود طائرة شحن عسكرية تابعة للعدو السعودي تنقل أسلحة لقتل أبناء الشعب اليمني.
194
پاکستان نے بڑا اقدام اٹھا لیا ہے تو کیا پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات سرد مہری کا شکار ہوگئے ہیں؟کمنٹ سیکشن میں رائے دیجئے۔ بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان نے ون چائنا پالیسی کی حمایت میں تائیوان کی ایئر لائنز کے لیے اپنی فضائی حدود بند کر دی ہیں۔ پاکستان دنیا کا پہلا ملک ہے جس نے چائنہ کی ون چائنا پالیسی کی حمایت میں پابندی عائد کی ہے۔ یہ اقدام چائنہ کے سفارتی موقف کو تقویت دے رہا ہے کہ تائیوان چین کا اٹوٹ انگ ہے۔ ایران بارڈر کھول دیا گیا ہے پاکستانی پانی میں امریکی ملٹری موومنٹ بند ہوگئی ہے۔ سعودی عرب اور ترکیہ کو پاکستان کا ملٹری چیف ایران لیکر پہنچ گیا۔ وہاں علاقائی تعاون پر بات چیت کی گئی کل سے ایرانی بھی دو اہم میٹنگ کرچکے ہیں ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی بار بار علاقائی تعاون پر زور دے رہے ہیں۔ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبی خامنہ ای نے بھی ریجنل سیکیورٹی کے استحکام پر نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیرکٹری محسن رضائی سے بات کی اور تعاون کا کہا۔ چائنہ اور پاکستانی وفد کی دو اہم میٹنگ ہوچکی ہیں جن کی تصدیق کل چائنیز حکام نے بھی کی ہے۔ چائنیز مندوب نے بھی اقوام متحدہ میں امریکہ کو خبردار کیا۔ ایرانی دورے کے بعد عدن میں سعودی ملٹری کارگو کی موومنٹ تیز ہو رہی ہے۔
12
6
76
8,318
بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان نے ون چائنا پالیسی کی حمایت میں تائیوان کی ایئر لائنز کے لیے اپنی فضائی حدود بند کر دی ہیں۔پاکستان دنیا کا پہلا ملک ہے جس نے چائنہ کی ون چائنا پالیسی کی حمایت میں پابندی عائد کی ہے۔ یہ اقدام اس دیرینہ سفارتی موقف کو مزید تقویت دیتا ہے کہ تائیوان چین کا اٹوٹ انگ ہے۔
2
4
34
956
مکہ ڈیفنس جوائنٹ ایگریمنٹ میں ایران شامل ہوسکتا ہے؟ یہ وہ سوال ہے جس کے جواب کی تلاش میں ہر شخص تھا۔ 6 دن قبل ڈان نیوز نے اپنے ارٹیکل میں مکہ معاہدے کی 16 شق کو شائع کر دیا جس سے ایک چیز بالکل واضح ہوگئی ہے۔ یہ معاہدہ Extended Deterrence نہیں ہے۔ کیونکہ اس میں نیو کلیئر چھتری کی فراہم کے متعلق کچھ بھی سامنے نہیں آیا۔ امریکہ نے جرمنی اور جنوبی کوریا کو Extended Deterrence فراہم کیا ہوا ہے۔ اگر ان پر کوئی حملہ کرتا ہے تو ان کی ڈاکٹرائن پالیسی کے مطابق امریکہ ان کو نیو کلیئر کی چھتری فراہم کرے گا۔ پاکستان ترکیہ اور سعودی عرب کے اس معاہدے کو Collective Deterrence کا میکانزم کہہ سکتے ہیں۔ کیونکہ اس میں ریاست اپنے اتحادی کو کسی ممکنہ حملہ آور کو حملے سے باز رکھنے کی کوشش کرتی ہے۔ جس کا عملی نمونہ پاکستان اور ترکیہ دکھا چکے ہیں۔ پاکستان نے کئی بار ایران کو سعودی عرب پر حملے کرنے سے باز رہنے کا کہا۔ اس کی تصدیق وزیر خارجہ اسحاق ڈار بھی کرچکے ہیں۔ مکہ معاہدے کی شق نمبر 7 مشترکہ دفاعی پیداوار اور ٹیکنالوجی کے تعاون سے متعلق ہے۔شق 2 کے مطابق ایک رکن پر حملے کو تمام ارکان پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ رکن ملک پر حملے کی صورت میں دوسرے دفاع میں مدد دینے کا عہد کرتے ہیں۔ یہ Collective Defence ہے۔ شق نمبر 1میں بارڈر کا تحفظ ہے۔ اگر خطرہ ہوا تو تینوں ممالک تحفظ فراہم کریں گے۔ شق نمبر 3 تینوں ممالک دفاع، دفاعی صنعت اور سلامتی کے شعبوں میں تعاون کریں گے، شق نمبر 4 تینوں ممالک بین الاقوامی سلامتی پر مشاورت کریں گے۔ شق نمبر 5 انسداد دہشت گردی میں تینوں ممالک تعاون کریں گے۔ شق نمبر 6 مشترکہ فوجی تربیت اور مشقیں ہوں گی۔ شق نمبر 8 تینوں ممالک ایک اسٹریٹجک سیاسی و دفاعی کمیٹی قائم کریں گے، ہر ملک کا وزیر دفاع، وزیر خارجہ اور ملٹری چیف ہوگا۔ سال میں دو بار اجلاس ہوگا میزبانی بدلتی جائے گی، کمیٹیاں قائم ہوں گی، پروٹوکول اور انتظامات طے ہوں گے، نئے ممالک کی شمولیت کے اصول اتفاق رائے سے طے ہوں گے۔ سعودی میں سیکریٹریٹ ہوگا۔ سیکریٹری جنرل تین سال کیلئے ہوگا اور تینوں ممالک کی باری آئے گی، پہلا سیکریٹری جنرل پاکستان سے ہوگا۔ شق نمبر 9 انٹیلی جنس کا تبادلہ ہوگا اس کو خفیہ رکھنا پڑے گا۔ شق نمبر 10 لاجسٹک اور فوجی سازوسامان کی فراہمی کی جائے گی جس میں ہتھیار، گولہ بارود، فیول، اسپیئر پارٹس اور ملٹری سازوسامان فراہم کرنا ہوگا۔ شق نمبر 11 قانونی طریقہ ہے کہ اپنے ملک اور انٹرنیشنل لاء کے تابع اس کو جوائن کریں گے۔ شق نمبر 12 پہلے سے تینوں ممالک کے بین الاقوامی معاہدے متاثر نہیں ہوں گے، شق نمبر 13 خفیہ معلومات کا تحفظ سب پر فرض ہوگا، کسی غیر رکن ریاست، کمپنی یا فرد کو انفارمیشن نہیں دی جائے گی بلکہ ضرورت اور سکیورٹی کلیئرنس کی رسائی مجاز شخص تک ہوگی اور اپنے متعلقہ ملکی قوانین کی پابندی کرے گا۔ شق نمبر 14 اختلاف کی صورت میں مشاورت ضروری ہوگی۔ شق نمبر 15 میں ترمیم کے متعلق بھی سب کی مشاورت ہوگی، شق نمبر 16 کے مطابق معاہدہ غیر معینہ مدت تک نافذ رہے گا۔10 سال بعد کوئی الگ ہونا چاہئے گا تو 3 ماہ پہلے سفارتی چینل کے ذریعے ریٹن لکھ کر دے گا۔ معاہدے کے خاتمے یا کسی کی علیحدگی سے چلنے والے منصوبے ختم نہیں ہوں گے خفیہ معلومات کی راز داری ضروری ہوگی چاہے الگ بھی ہوجائیں۔ ترکش، عربی اور انگریزی زبان میں نسخے موجود ہیں اختلاف کی صورت میں انگریزی کو فوقیت حاصل ہوگی۔ مکہ ڈیفنس جوائنٹ ایگریمنٹ کو اوپن رکھا گیا ہے۔ اس میں ممکنہ طور پر دس فیصد امکان ہے کہ ایران بھی شامل ہوسکتا ہے۔ اگر Extended Deterrence ہوتا جس میں نیو کلیئر کی چھتری بھی شامل ہوتی تو ایران کی کسی صورت میں شمولیت ممکن نہیں ہوسکتی تھی۔ کیونکہ مڈل ایسٹ میں ترکیہ، متحدہ عرب امارات ، سعودی اور ایران نیو کلیئر کی دوڑ میں تھے۔ ترکیہ نیٹو کا ممبر بھی اس بنیاد پر بنا تھا۔ امریکہ ایران کو نیو کلیئر پاور اس وجہ سے نہیں بننے دے رہا کیونکہ اس کے اتحادی بھی پریشر بلٹ کریں گے۔ اور نیو کلیئر عام ہو جائے گا۔ ایران کے نیو کلیئر پروگرام کو روس اور چائنہ بھی سپورٹ نہیں کرتے۔ روس 2010 میں اس کا فزیکلی ایران کیخلاف ووٹ دیکر کردار ادا کرچکا ہے۔ بدر ایگریمنٹ کو دیکھتے ہوئے پاکستان اگر ایران کیساتھ کسی معاہدے میں جائے گا تو وہ مکہ ڈیفنس جوائنٹ ایگریمنٹ کی طرز کا نہیں ہوگا۔ کیونکہ ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب کے ملٹری میکانزم ایران سے بہت مختلف ہیں۔ تحریر:فرحان ملک #farhanmalik #Geopolitics #MJDA #Pakistan
2
10
39
4,204