ہائبرڈ رجیم ایک طرف نئے صوبائی یونٹس بنانا چاہ رہی ہے، اور دوسری طرف پہلے سے وفاق میں موجود قومی یونٹس کے عوام کا میڈیٹ روندتی جا رہی ہے۔ ترقی پسند اور جمہوری قوتوں نے خاکی راج سے اگر اس موقع پر مشترکہ جدوجہد نا کی تو بچی کچھی آزادیاں ہم سب سے چھین لی جائیں گی۔
عوامی ورکرز پارٹی وفاق کی جانب سے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی نفاذ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتی ہے۔
یہ اقدام آمرانہ طرزِ حکمرانی کی تازہ ترین مثال ہے جس سے ملک کی تاریخ بھری پڑی ہے۔ اس سے عدم استحکام اور معاشی بدحالی میں شدت اور دائیں بازو کی انتہاپسند قوتوں کی مضبوطی کا باعث ہو گی
The AWP-M demands justice for the innumerable lives lost, exemplary punishment for the civilian and military personnel who ordered the crackdown and an immediate acceptance of all JAAC demands.
The holding of a sham election in Mirpur division on the same day, in fact, shows that AJK is completely subject to a colonial-style occupation.
the Pakistani state is unwilling and unable to even acknowledge the legitimate needs of civilian populations in AJK, just as it has repeatedly demonstrated in Balochistan, Pakhtunkhwa, Sindh, Gilgit-Baltistan and a host of metropolitan centres.
While dozens of civilian have been killed over the past few weeks, the events of 27th July represent a descent into total state barbarism. The JAAC represents the aspirations of the vast majority of the AJK’s people, and its criminalization makes clear that ,...,
Awami Workers Party (Marxist) condemns the violent crackdown against unarmed protestors in Rawalakot who have been organizing on the platform of the Joint Awami Action Committee for almost two months. The complete media blackout of the unprovoked attack is equally condemnable.
مزید ازیں اے ڈبلیو پی (م) تمام جمہوری قوتوں کو اپیل بھی کرتی ہے کہ منظم جدو جہد کا رستہ اختیار کریں وگرنہ مکمل آمریت کا نظام قائم ہو جائے گا، جس میں پاکستان کے اندر رہنے والے ہر انسان کو غلامی کی زندگی کی طرف دکھیلا جائے گا۔
اے ڈبلیو پی (م) ڈاکٹر مہرنگ کیخلاف تمام جھوٹے مقدموں کو واپس لینے اور علی وزیر، ایمان مزاری، ارباب بھیل اور عمران خان سمیت دیگر تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کرنے کا مطالبہ دھرا رہی ہے. ہم بلوچ یکجہتی کمیٹی کی شٹر ڈاؤن ہڑتال کی بھی مکمل حمایت کرتے ہیں۔
یوں پاکستان میں موجود غیر اعلانیہ مارشل لاء بد ترین شکل اختیار کر چکا ہے اور پارلیمان میں بیٹھی ہوئے نام نہاد جمہوری پارٹیاں، اعلی عدالتیں بھی، اسٹیبلشمنٹ کے سامنے گھٹنا ٹیک چکی ہیں۔
اس طرح کے بہادر نوجوان عوامی رہنما کو جھوٹے مقدمے میں اس طرح کی سزا سنانے کا مطلب یہ ہے کہ ہائیبرڈ رجیم اور اس کا عدالتی نظام اندھا تو پہلے سے ہی تھا مگر اب اس نے کانوں میں عسکری ہیڈ فون بھی لگائے دیے ہیں.
اس فیصلے سے بلوچ بحیثیت مجموعی لولی لنگڑے عدالتی نظام سے اور زیادہ متنفر ہوجائیگے. سیکرٹری جنرل بخشل تھلہو نے کہا ہے ڈاکٹر مہرنگ صرف بلوچ نہیں بلکہ پاکستان کے ہریت پسند عوام کی لیڈر ہیں، جس نے ریاستی جبر اور پدرشاہی کے خلاف اورمحکوم اقوام و عوام کے حقوق کی بے مثال جدو جہد کی ہے
حکمرانِ وقت کو خبردار کیا ہے کہ یہ فیصلہ ملک میں بنیادی انسانی، قومی اور جمہوری سوال پہ جدوجہد کرنے والوں کی مزاحمتی تاریخ میں اک اور سیاہ فیصلے کے طور پہ لکھا اور پڑھا جائیگا.
عوامی ورکرز پارٹی (مارکسسٹ) کا بی وائی سی کی شٹر ڈاون ہڑتال کی مکمل حمایت کا اعلان
عوامی ورکرز پارٹی (مارکسسٹ) نے ڈاکٹر مہرنگ بلوچ کو کوئٹہ کی ایک انسداد دہشتگردی عدالت کی جانب سے سنائی جانے والی عمر قید کی سزا کی شدید مذمت کی ہے
Awami Workers Party (Marxist) retweeted
عوامی سیمینار
مسماریاں، مہنگائی، بےروزگاری: محنت کشوں کا معاشی قتل اور عوامی مزاحمت
بروز جمعہ | 19 جون 2026ء | سہ پہر 3:30 بجے | نیشنل پریس کلب اسلام آباد
امن- زمین۔ روٹی
#StopEvictions
#StopDemolitions
#HousingForAll
عوامی سیمینار
مسماریاں، مہنگائی، بےروزگاری: محنت کشوں کا معاشی قتل اور عوامی مزاحمت
بروز جمعہ | 19 جون 2026ء | سہ پہر 3:30 بجے | نیشنل پریس کلب اسلام آباد
امن- زمین۔ روٹی
#StopEvictions
#StopDemolitions
#HousingForAll
انہوں نے کہا کہ ریاستی جبر اور معاشی قتل کا یہ سلسلہ بہت دیر تک نہیں چلے گا اور حکمرانوں اگر ہوش کے ناخن نہ لیے تو آنے والے وقت میں ایک چھوٹی سی چنگاری ایک بڑی آگ بھی بن سکتی ہے۔
ریاستی جبر کے ساتھ جس طرح آئین کو مسخ کر دیا گیا ہے اس کی ذمہ داری حکومت میں بیٹھی ہوئی جماعتوں پر بھی عائد ہوتی ہے۔ اور اب 28ویں ترمیم کی خبریں بتاتی ہیں کہ پاکستان میں لمبی جمہوری جدوجہد کے نتیجہ میں صوبوں اور محکوم اقوام کو حاصل ہونے والے حقوق بھی چھیننے کا منصوبہ تیار ہے۔
نہ روزگار ہے اور نہ ہی زندگی کی ضمانت، اور اسلام آباد میں کچی آبادیوں کے خلاف نہ ختم ہونے والا آپریشن یہ واضح کرتا ہے کہ بلوچستان، کشمیر اور دیگر محکموم خطوں والی صورتِ حال اب دارالحکومت میں بھی عام ہو گئی ہے۔







