
Student wing of @OfficialMQM Founder & Leader @Altafhussain_90
Joined April 2022
- Tweets6.1K
- Following37
- Followers2K
- Likes4.8K
Pinned Tweet
If you’re interested in knowing who the leader of MQM is, and if you want to understand who has been giving their full dedication to MQM since day one, then you should definitely watch this documentary at least once.
youtu.be/_kVxIrqYAzI?si=Wwgd…
APMSO retweeted
جموں وکشمیر میں اپنے حقوق کے لئے آواز اٹھانے والے معصوم کشمیریوں پر سیکوریٹی فورسزکی فائرنگ سے متعدد بے گناہ کشمیریوں کی شہادت کے واقعات قابل مذمت ہیں۔
#RightMovementAJk
کشمیری عوام گزشتہ کئی مہینوں سے راولاکوٹ میں پرامن دھرنا دیے ہوئے ہیں،وہ صرف اپناحق مانگ رہے ہیں لیکن ان کے جائز مطالبات پر توجہ دینے کے بجائے ان پرگولیاں چلائی جارہی ہیں،ان کوخون میں نہلایا جارہا ہے، ان کے گھروں کوآگ لگائی جارہی ہے۔ دوروزقبل بھی جموں وکشمیرمیں بیدریغ گولیاں چلائی گئی ہیں جن کے نتیجے میں کئی بے گناہ کشمیری شہید اورمتعددزخمی ہوئے ہیں۔ یہ ظلم ہے او ر میں اس ظلم کی مذمت کرتا ہوں۔ ہم پر بھی اس طرح کے بہت ظلم ڈھائے گئے ہیں، مظلوم کشمیری عوام ہمارے بھائی ہیں اورہم ان کے درد کومحسوس کرسکتے ہیں۔
میں حکمرانوں سے یہی کہوں گا کہ خدارا کشمیری عوام پر گولیاں چلانے اوران پر ظلم وستم ڈھانے کے بجائے ان کے جائزمطالبات پر توجہ دی جائے،انہیں ان کے تمام بنیادی حقوق دیے جائیں، انہیں دیوار سے نہ لگایا جائے۔ میں بے گناہ کشمیری نوجوانوں کی شہادت پر تمام کشمیریوں سے دلی تعزیت وہمدردی اور مکمل یکجہتی کااظہارکرتاہوں۔
الطاف حسین
7 نومبر2026ء
APMSO retweeted
الطاف حسین بھائی اور اصل ایم کیو ایم کی جڑیں عوام میں موجود ہیں۔ الطاف حسین بھائی عوام کے دلوں میں بستے ہیں۔ الطاف حسین بھائی پر عائد تمام پابندیاں فوری طور پر ختم کی جائیں۔
ملکی اور بین الاقوامی حالات کے پیشِ نظر اس وقت پاکستان کو سیاسی محاذ آرائی اور انتقام کے بجائے قومی مفاہمت، اتحاد اور استحکام کی اشد ضرورت ہے۔
@AltafHussain_90
@AwazEhaq90
@OfficialMQM
@HassanNisar
@ImranKhanPTI @USAUrdu @CMShehbaz @NawazSharifMNS @OfficialDGISPR @BBhuttoZardari @MoulanaOfficial @NaeemRehmanEngr @BBCUrdu @voaurdu @dw_urdu @HamidMirPAK @AajKamranKhan @shazbkhanzdaGEO @Kashifabbasiary @asmashirazi @MazharAbbasGEO @WusatUllahKhan @Xadeejournalist @WaseemBadami @mujibshami1 @SaleemKhanSafi @meherbokhari @ShahzadIqbalGEO
@nadeemmalik @suhailswarraich @FrontlineKamran @NasimZehra @MalickViews @najamsethi @realrazidada @SImranshafqat @ZarrarKhuhro @OryaMaqboolJan @Aftab_Iqbal1 @husainhaqqani @arifanoor72 @AbsarAlamHaider
@soldierspeaks
@MoeedNj @SSEHBAI1 @ImranRiazKhan @ARYSabirShakir @SHaiderRMehdi @ShazadAkbar
@OfficialDGISPR
Sara and Ali discussing Altaf Hussain Bhai’s recent video log and his appeal to Field Marshal Syed Asim Munir for national reconciliation and political unity in Pakistan.
⬇️⬇️⬇️⬇️
APMSO retweeted
عظیم لیڈر ۔عظیم قائد ۔عظیم رہنما ۔
جناب الطاف حسین بھائی ۔۔
بہت جلدی انشاءﷲ ۔۔
اپنی فکری نشست 500 ویں مکمل کرنے والے ہیں ۔۔
@AltafHussain_90
@AwazEHaq90
@OfficialMQM
@OfficialAPMSO_
APMSO retweeted
فطرت کاتقاضا ہے کہ فطرت کا ہو اظہار
اور
حالات کے جبر کے باوجود @AltafHussain_90 کے چاہنے والےوفاپرست اپنی فطرت کااظہار کررہے ہیں
مہاجروں سمیت مظلوم کارکنان وعوام کا عزم اور
پُرزور مطالبہ نوشتہ دیوار ہے
#LiftBanOnAltafHussain
**2016 میں قائدِ تحریک جناب الطاف حسین بھائی کی تقریر، تصویر اور تحریر پر پابندی عائد کرکے کراچی کی آواز کو خاموش کرنے کی کوشش کی گئی، سرفراز صدیقی**
اے پی ایم ایس او کے چیئرمین سرفراز صدیقی نے کہا کہ 2016 میں قائدِ تحریک جناب الطاف حسین بھائی کی تقریر، تصویر اور تحریر پر پابندی عائد کرکے گویا کراچی کی آواز کو خاموش کرنے کی کوشش کی گئی۔ مقصد صرف ایک آواز کو دبانا نہیں تھا بلکہ کراچی اور اس کے عوام کو بے یار و مددگار چھوڑنا تھا۔
انہوں نے کہا کہ آج اسی محرومی کی ایک دردناک تصویر ہمارے سامنے ہے۔ اپنے تعلیمی مستقبل، اپنی محنت اور اپنے جائز حقوق کے لیے آواز اٹھانے والے معصوم طلبہ کو ایک بروکر مافیا سرِعام تشدد کا نشانہ بنا رہا ہے۔
سرفراز صدیقی نے کہا کہ سوچیے! جن ہاتھوں میں قلم اور کتابیں ہونی چاہئیں، وہ اپنے ہی مستقبل کے تحفظ کے لیے ظلم کے سامنے کھڑے ہونے پر مجبور ہیں۔ جن آنکھوں میں خواب ہونے چاہئیں، ان میں آج خوف اور بے بسی دکھائی دے رہی ہے۔
انہوں نے بروکر مافیا کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ طلبہ کسی کی جاگیر نہیں ہیں اور نہ ہی ان کے مستقبل کی قیمت لگائی جا سکتی ہے۔ دھونس، دھمکیوں اور تشدد کے ذریعے طلبہ کی آواز دبانے کی کوششیں کامیاب نہیں ہوں گی۔ اس مافیا کے کرداروں کے ساتھ ساتھ ان کے سرپرستوں کو بھی بے نقاب کیا جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ آج سوال صرف ایک طالب علم پر ہونے والے تشدد کا نہیں بلکہ کراچی کے ہر اس طالب علم کے مستقبل کا ہے جو اپنے حق اور انصاف کے لیے آواز بلند کر رہا ہے۔
**قائدِ تحریک جناب الطاف حسین بھائی نے جس نوجوان نسل کے روشن مستقبل کا خواب دیکھا، آج اسی نسل کو اپنے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے جدوجہد کرنا پڑ رہی ہے۔**
سرفراز صدیقی نے مطالبہ کیا کہ طلبہ کو فوری انصاف فراہم کیا جائے، تشدد میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائی کی جائے اور بروکر مافیا کا احتساب کیا جائے۔
**سرفراز صدیقی**
چیئرمین
آل پاکستان متحدہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (APMSO)
**کراچی انٹر بورڈ کے متنازع نتائج طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے کے مترادف ہیں، تمام پرچوں کی اسکین کاپیاں فراہم کی جائیں، سرفراز صدیقی**
لندن ۔۔۔ 3 نومبر 2026ء
آل پاکستان متحدہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (اے پی ایم ایس او) کے چیئرمین سرفراز صدیقی نے کراچی انٹرمیڈیٹ بورڈ کے فرسٹ ایئر کے متنازع نتائج کے خلاف طلبہ کے احتجاج کی حمایت کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ تمام متاثرہ طلبہ کو ان کے چیک شدہ امتحانی پرچوں کی اسکین کاپیاں فراہم کی جائیں تاکہ وہ اپنے نتائج کی شفاف جانچ کرسکیں۔
انہوں نے کہا کہ طلبہ کے مطابق احتجاج کے دوران مبینہ بروکر مافیا کی جانب سے ہاتھا پائی اور احتجاج روکنے کی کوششیں قابلِ مذمت ہیں۔ متعلقہ حکام ان الزامات کی شفاف تحقیقات کرکے طلبہ کو تحفظ فراہم کریں۔
سرفراز صدیقی نے کہا کہ چند طلبہ کے پرچے ان کیمرا چیک کروانے کی پیشکش مسئلے کا حل نہیں۔ طلبہ کا مطالبہ جائز ہے اور بورڈ انتظامیہ کو اسے فوری تسلیم کرنا چاہیے۔
انہوں نے طلبہ، والدین اور سول سوسائٹی سے اپیل کی کہ وہ 5 نومبر کو کراچی پریس کلب کے باہر ہونے والے احتجاج میں بھرپور شرکت کریں اور متاثرہ طلبہ کو انصاف دلانے میں اپنا کردار ادا کریں۔
**شعبۂ اطلاعات**
آل پاکستان متحدہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن (اے پی ایم ایس او)
APMSO retweeted
فوجی جرنیلوں کے احکامات کے زیراثر پارلیمنٹ کو آزاد اورخودمختار پارلیمنٹ قرارنہیں دیا جاسکتا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سیاسی جماعتیں اپنے ملک میں ترقیاتی کاموں اور عوام کی فلاح وبہبود کیلئے منشور دیتی ہیں اورانتخابات کے مواقع پر اپنے منشور کے نکات میں اضافہ بھی کرتی رہتی ہیں، سیاسی جماعتوں کا منشور Country bound ہوتا ہے۔ ایسانہیں ہوتا کہ پاکستان کی سیاسی جماعتوں کا منشور کسی اور ملک میں چلے اور کسی اورملک کی کسی سیاسی جماعت کا منشور پاکستان میں چلے جبکہ سچی نظریاتی تحریکوں کانظریہ کسی بھی ملک کی جغرافیائی حدود کا پابند نہیں ہوتا۔کسی ملک میں نظام کی تبدیلی کیلئے جو نظریہ دیا جاتا ہے وہ سرحدوں کا محتاج نہیں ہوتا۔ سچے انقلابی نظریئے کو کسی ایک ملک کی جغرافیائی حدود میں قیدنہیں کیاجاسکتا، نظریہ ایک جغرافیے کی حدود سے نکل کر دوسرے جغرافیے اور پھر تیسرے جغرافیے میں پہنچ جاتا ہے
نظریاتی تحریکوں کامقصد کسی بھی ملک میں رائج ظالمانہ نظام اور طرز حکومت کو چیلنج کرکے وہاں تبدیلی لانا ہوتا ہے اورتحریکیں ہمیشہ نظام کو تبدیل کرنے کیلئے چلائی جاتی ہیں۔ پاکستا ن میں قیام پاکستان سے لیکرآج کے دن تک فرسودہ جاگیردارانہ اورچند مخصوص خاندانوں کا موروثی نظام قائم رہا ہے۔ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کے زمانے سے آج تک سیاسی جماعتیں، سیاسی جماعتوں کے اتحاد اور ان کی جو مخلوط حکومتیں بنتی رہی ہیں،جو صدوراور وزرائے اعظم بنتے رہے ہیں اورجو سویلین حکومتیں قائم ہوتی رہی ہیں وہ فوجی جرنیلوں کے اثرورسوخ، ان کے دباؤاوران کی پسند ناپسند کی بنیاد پر چلتی رہی ہیں۔ایسی صورتحال میں کسی بھی انتخابات کے نتیجے میں قائم ہونے والی مقننہ (Legislative body) اگراجتماعی فیصلہ نہ کرسکے یاان کا اجتماعی فیصلہ فوجی جرنیلوں کے احکامات کے زیراثر ہو تو ہم ایسی پارلیمنٹ کو آزاد اورخودمختار پارلیمنٹ قرارنہیں دے سکتے۔
یہ صرف پاکستان کا ہی مسئلہ نہیں ہے، دنیا کے جن ممالک کی منتخب حکومتیں فوج کے جرنیلوں کے ماتحت ہوتی ہیں ان ممالک کی خارجہ پالیسی بھی پارلیمنٹ نہیں بلکہ فوج بناتی ہے۔ مثال کے طورپر جب اسرائیل نے فلسطین پر حملے شروع کیے اوربمباری کرکے غزہ سمیت فلسطین کے مختلف علاقوں کے انفرااسٹرکچر کو تباہ کرکے گراؤنڈ زیرولیول کردیا تو کتنے اسلامی ممالک نے ان اسرائیلی حملوں کی مذمت کی؟ اسرائیلی بمباری کوروکنے کیلئے فلسطین کے عوام کی مدد کی؟ یقینا کسی نے بھی نہیں کی۔
تازہ ترین مثال ایران پر امریکہ اوراسرائیل کے مشترکہ حملوں کی ہے جب دونوں ملکوں نے ایران پر بموں، میزائلوں اورڈرونوں سے حملہ کیاتو 50 سے زائد اسلامی ممالک میں سے کسی نے بھی امریکہ اور اسرائیل کے ان حملوں کی کھل کرمذمت نہیں کی اورایران کاکھل کر ساتھ نہیں دیا۔غورطلب بات یہ ہے کہ ایسا کیوں ہوا؟اس لئے کہ جن جن ممالک میں بادشاہت اور موروثیت کے تحت حکمرانی چلتی ہو، آمریت ہو، فوج کی برتری ہواس ملک کی خارجہ پالیسی عوام کے ووٹوں سے آنے والی حکومتیں طے نہیں کرتیں بلکہ اس ملک کی اسٹیبلشمنٹ طے کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے پاکستان سمیت کوئی بھی اسلامی ملک ایسا نہیں ہے جسے آزاد اورخودمختار ملک کہاجائے۔
میں نے فکری اورنظریاتی بنیادوں پرسیاسی کارکنوں کی تربیت کاسلسلہ ابتداء میں تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والی Gen Z اورMillennials کیلئے شروع کیاتھا، پی ٹی آئی کے رہنماؤں کیلئے نہیں کیاتھاکیونکہ عمران خان صاحب، انکی اہلیہ اور انکے وفادار رہنما وکارکنان گزشتہ تین برسوں سے جیل میں قید ہیں اوراب عمران خان کی بہنوں کو بھی جیل میں بند کردیا گیا ہے، ایک صوبہ KPK جہاں دوتہائی اکثریت سے پی ٹی آئی کی حکومت قائم تھی وہاں کے منتخب وزیراعلیٰ کو اغوا کرکے صوبے میں گورنرراج اور ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔ بظاہر پیپلزپارٹی کے صدر آصف زرداری نے گورنرراج کے حکمنامے پر دستخط کیے ہیں اگر وہ پاکستان کے صدر ہوتے تو گورنرراج کے احکامات پر دستخط نہ کرتے اسی طرح میاں شہبازشریف بھی ن لیگ کے وزیراعظم ہیں جوفارم 47 کے تحت وزیراعظم بنے وہ اپنی پارٹی کے مفاد ات کیلئے ڈکٹیشن لیکر صوبہ KPK میں گورنرراج کے نفاذ کی تجویز پیش کرتے ہیں جس پر صدرزرداری دستخط کرکے عملدرآمد کرتے ہیں۔ پیپلزپارٹی اورمسلم لیگ (ن) دونوں کا پاکستان سے کوئی واسطہ نہیں ہے یہ دونوں جماعتیں اپنے اپنے خاندان اورپارٹی کے مفادات کو عزیز رکھتی ہیں اوران کا پاکستان اوراس کے عوام کے مفادات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
تحریک انصاف کے جتنے رہنما ہیں ان کی اکثریت کمپرومائزہے جبکہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے اسٹیبلشمنٹ کی ڈکٹیشن لینے سے انکار کردیاتھا اورجب انہوں نے اپنے سربراہ عمران خان کی رہائی کیلئے لانگ مارچ کاآغاز کیاتو انہیں اغوا کرلیاگیا اور صوبے کی اسمبلی تحلیل کرکے وہاں گورنر راج اورایمرجنسی نافذکردی گئی۔
1/2
بانی ایم کیو ایم گل صاحب کچھ یاد ایا
teapawt.org/SHABAZGIL/status/21145…
APMSO retweeted
فوج کشی کی پالیسی سے پاکستان کے مسائل حل نہیں ہوں گے۔
باقیماندہ پاکستان کوقائم رکھنا ہے تو حقائق تسلیم کرنا ہوگا۔
حقائق بیان کرنے پر مجھے غدار قرار دینا درست نہیں
—————————-
پاکستان کی داخلی اوربین الاقوامی صورتحال بہت نازک ہوتی جارہی ہے، پاکستان کی مشکلات بڑھتی جارہی ہیں، تیسری عالمی جنگ کی باتیں بھی ہورہی ہیں مگرپاکستان میں عوام سے حقائق چھپائے جاتے ہیں۔بالکل ایسے ہی جیسے کہ 1971ء، میں چھپائے گئے،جب سابقہ مشرقی پاکستان میں جنگ کے دوران 16 دسمبر 1971ء کوپاکستان کی فوج انڈیاکی فوج کے سامنے ہتھیارڈال رہی تھی لیکن مغربی پاکستان میں اخبارات میں یہ شہ سرخیاں شائع کی جارہی تھیں کہ ہماری فوجیں دشمن کو ہر محاذ پر شکست دے رہی ہیں۔مشرقی پاکستان کی طرح آج بلوچستان کی جوسنگین صورتحال ہے اس سے بھی عوام کو بےخبر رکھا جارہا ہے، دو روزقبل بلوچستان کے علاقے گوادرمیں جو واقعہ ہوااس بارے میں بھی عوام سے حقائق چھپائے جارہے ہیں۔
ہمیں بحیثیت قوم یہ سوچناہوگا کہ بنگالیوں نے توتحریک پاکستان میں صف اول میں حصہ لیا تھا، غیر منصفانہ سلوک کے باوجود انہوں نے پاکستان کا سو فیصد ساتھ دیا تھا، پھر مشرقی پاکستان ہم سے الگ کیوں ہوا؟ مشرقی پاکستان بنگلہ دیش کیوں بنا؟یہ پاکستان کی تاریخ کے تلخ حقائق ہیں، آخرنئی نسل کویہ حقائق کیوں نہ بتائے جائیں؟ نئی نسل کو حقائق بتانے پر مجھے غدارکہاجاتا ہے، میں نے بعض سوشل میڈیابراڈ پر حقائق بیان کئے تو بعض متعصب لوگوں نے مجھے غداراوربی ایل اے کاحمایتی کہا، میں حقائق بیان کرتا ہوں، میراسوال یہ ہے کہ بی ایل اے جیسی تنظیمیں کیوں وجود میں آئیں؟کسی قوم کے لوگ ا گر ہتھیار اٹھاتے ہیں توکیوں اٹھاتے ہیں؟ کیا امریکیوں نے سلطنت برطانیہ کی کالونی سے آزادی حاصل کرنے کے لئے ہتھیارنہیں اٹھائے تھے؟ اگرمیں تاریخی حقائق بیان کرتاہوں اوراس کی روشنی میں پالیسیاں درست کرنے کی بات کرتاہوں توآپ میرے بیان کردہ نکات سے اختلاف کرسکتے ہیں، میرے پیش کردہ حقائق کوثبوت وشواہد اوردلائل کی بنیاد پر مجھے غلط ثابت کرسکتے ہیں، اگرآپ مجھے غلط ثابت کردیں تومیں اس پرمعافی مانگ لوں گا، لیکن حقائق بیان کرنے پرآپ مجھے غدارقرار نہیں دے سکتے۔
کیا یہ حقائق نہیں کہ جب 14 اگست 1947ء کوپاکستان وجود میں آیا تو اس وقت بلوچستان پاکستان کا حصہ نہیں تھا بلکہ آزادریاست تھی،اس وقت کا پاکستان کانقشہ دیکھ لیں،اس میں بلوچستان نہیں ملے گا، 4 اگست 1947ء کوسلطنت برطانیہ کے نمائندے کی موجودگی میں قائداعظم محمدعلی جناح اور خان آف قلات میراحمدیارخان کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا جسے Standstill agreement کہا جاتاہے جس کے تحت پاکستان نے ریاست قلات کوایک آزاد اور خودمختارریاست تسلیم کرلیا تھا۔ اس حوالے سے 11 اگست 1947ء کوباقاعدہ اعلان ہوگیا تھا۔ریاست قلات ایک آزاد اور خودمختار ریاست تھی لیکن بعد میں قلات کوپاکستان میں شامل ہونےکے لئے دباؤڈالا گیا،جب خان آف قلات نے پاکستان میں شامل ہونے سے انکارکردیا تو ان کومجبور کرنے کےلئے مارچ 1948ء میں پاکستان کی فوج بلوچستان میں داخل ہوگئی۔27مارچ 1948ء کو قلات پرفوج کشی کردی گئی،خان آف قلات کے محل پر حملہ کردیاگیا، اورخان آف قلات میراحمد یارخان پر دباؤ ڈال کران سے جبری الحاق نامے پر دستخط لےلئے گئے۔جسے ”جبری الحاق“ کہا جاتا ہے، خان آف قلات کے چھوٹے بھائی پرنس کریم نےاس الحاق کو تسلیم نہیں کیااوربلوچستان کے عوام کے ساتھ ملکر جدوجہدشروع کردی۔ اس جبری الحاق کےخلاف بلوچوں کی یہ جدوجہد 1948سے آج تک جاری ہے۔
اسی طرح ریاست کشمیرکابھی معاملہ ہے کہ وہ 14 اگست1947ء میں ایک آزاد اور خودمختارریاست تھی، وہاں مہاراجہ ہری سنگھ کی حکومت تھی۔ کشمیرنہ انڈیا کا حصہ تھا اورنہ ہی پاکستان کا، انڈیا ہو یا پاکستان، دونوں نے کشمیرپر قبضہ کیا، اسی لئے کشمیری آج بھی ایک آزاد اور خودمختار کشمیرکی بات کرتے ہیں۔ یہ تاریخی حقائق ہیں، ان حقائق کے بیان کرنے پر مجھ پر غداری کے الزامات لگانا درست نہیں۔
1/2
APMSO retweeted
جس طرح پولیٹیکل انجینئرنگ کرکے ایم کیو ایم کوتوڑا گیا تھا اسی طرح اب پی ٹی آئی کو توڑنے کے لئے پولیٹیکل انجینئرنگ کی جارہی ہیے، پی ٹی آئی میں گروپ بندیاں کرائی جارہی ہیں اورمائنس الطاف حسین کی طرح مائنس عمران خان منصوبے پر کام کیا جارہا ہے۔
پیپلزپارٹی اورمسلم لیگ ن یوں توجمہوریت کی علمبرداربنتی ہیں لیکن ان دونوں جماعتوں کی مشترکہ حکومت نے خیبرپختونخوا کی منتخب حکومت کوجس طرح ختم کرکے وہاں گورنرراج اورایمرجنسی نافذ کی ہے کیا اس اقدام کوجمہوری اقدام کہاجائے گا؟ کیا اسے عوام کی خواہشات اورامنگوں کے مطابق کہا جائے گا؟ یہ اقدام جمہور کے مینڈیٹ اور فیصلے کو بوٹوں تلے روندنا ہے۔ گورنر راج کے نفاذ کے موقع پر وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور خیبرپختونخوا کی اسمبلی کے اسپیکر کو اغوا کیا گیا جن کا اب تک کچھ پتہ نہیں ہے۔
جب مسلم لیگ ن کے میاں نوازشریف کی حکومت کوختم کیا گیا تومسلم لیگ ن نے اس کے خلاف پورے ملک میں احتجاج کیا، نوازشریف، شہبازشریف نے ”مجھے کیوں نکالا“ کی مہم چلائی، نوازشریف نے یہی شورمچایا کہ مجھے کیوں نکالا؟ جب ان کی حکومت ختم ہوتومجھے کیوں نکالا کاسوال کھڑا ہوجاتا ہے لیکن جب خیبرپختونخوا کی منتخب حکومت کاخاتمہ کیا جائے، وہاں گورنرراج نافذکیاجائے تووہ جائز قراردیا جاتاہے۔
اسی طرح پیپلزپارٹی کانعرہ تھا”جمہوریت بہترین انتقام ہے“۔ آصف زرداری، بلاول زرداری اور ان کے تمام رہنمایہ نعرہ لگاتے تھے لیکن آصف زرداری نے خیبرپختونخوا میں گورنرراج اور ایمرجنسی نافذ کرنے کا فرمان جاری کرنے میں زرا دیر نہیں لگائی، پیپلزپارٹی اورمسلم لیگ ن کے جمہوریت کے نعرے اوردعوے کہاں گئے؟
خیبرپختونخوا میں تحریک انصاف کی منتخب حکومت ختم کرنے اوروہاں گورنرراج اور ایمرجنسی نافذ کرنے کے بعداب تحریک انصاف کوتوڑنے اوراسے مختلف گروپوں میں تقسیم کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں، جو اس عمل کے خلاف آواز اٹھارہے ہیں، ان کو نشانہ بنایا جارہا ہے، کل مرادسعید کے گھرپر بھی چھاپہ ماراگیاہے، جو قابل مذمت ہے۔ظلم سے لوگوں کووقتی طورپر خاموش کیا جاسکتا ہے لیکن ان کے دلوں سے ان کی جماعت اور رہنما کی محبت کودلوں سے نکالا نہیں جاسکتا۔
تحریک انصاف کے کارکنوں کوچاہیے کہ وہ پارٹی کوتوڑنے اوراسے گروپ بندیوں میں تقسیم کرنے کی کوششوں کوناکام بنائیں اور انہیں ان حالات سے مایوس نہیں ہوناچاہیے۔
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر 488 ویں فکری نشست سے خطاب
23 اکتوبر2026ء
APMSO retweeted
2/2
ہمیں باقیماندہ پاکستان کی فکرہے توہمیں اس پرسوچنا ہوگا کہ پاکستان کے دولخت ہونے کی وجوہات کیا تھیں؟ بنگالیوں نے اپنا حق مانگا،ہم نےنہیں دیا،سابقہ مشرقی پاکستان آبادی کے لحاظ سے 56 فیصد تھا، انہوں نے اپنی آبادی کے تناسب سے ہر شعبہ میں اپناحق مانگا لیکن ہم نے آبادی کے تناسب سے ان کاحق دینے کے بجائے پیرٹی (Parity) یا برابری کاغیرمنصفانہ قانون بنایا، بنگالیوں نے اس کوبھی قبول کرلیا لیکن ہم نے اس قانون کے مطابق بھی بنگالیوں کوان کاحق نہیں دیا۔ کیایہ حقیقت نہیں کہ 1970ء کے عام انتخابات میں شیخ مجیب الرحمن کی عوامی لیگ نے بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی تھی لیکن اس وقت کی ملٹری لیڈرشپ اورذوالفقارعلی بھٹو نے عوامی لیگ کو ملنے والے مینڈیٹ کوتسلیم نہیں کیا، اقتدارکی منتقلی کے لئے اسمبلی کااجلاس تک نہیں بلایا گیا، شیخ مجیب نے ڈھاکہ میں اسمبلی کااجلاس بلایا توبھٹو نے دھمکی دی کہ جو رکن اجلا س میں شرکت کرنے ڈھاکہ جائے گااس کی ٹانگیں توڑدی جائیں گی، ہم نے عوامی لیگ کو اقتدار دینے کے بجائے مشرقی پاکستان میں فوج کشی کی اوربنگالیوں کا قتل کیا؟ اس کانتیجہ یہ نکلا کہ پاکستان ٹوٹ گیا اورمشرقی پاکستان الگ ہوکربنگلہ دیش بن گیا۔
آج بھی پاکستان میں جہاں بھی لوگ اپنا حق مانگ رہے ہیں تووہاں بات چیت کرنے اور ڈائیلاگ کرنے کے بجائے فوج کشی کا عمل کیا جارہا ہے،اس پالیسی سے پاکستان کے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس کے بھیانک نتائج برآمد ہوں گے۔ اگر باقیماندہ پاکستان کوقائم رکھنا ہے تو ہمیں حقائق تسلیم کرنا ہوگا۔
آج بھی بلوچستان میں فوج کشی کی جارہی ہے، خیبرپختونخوا میں پشتونوں نے تحریک انصاف کواپنا مینڈیٹ دیا لیکن پشتونوں کے مینڈیٹ کااحترام کرنے کے بجائے وہاں گورنرراج اورایمرجنسی نافذ کرکے پشتونوں کے مینڈیٹ کاخون کردیا گیا۔ یہ پشتونوں کے مینڈیٹ کی توہین ہے۔ خیبر پختونخوا کے منتخب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے وفاقی حکومت کویہی کہا تھا کہ ان کےصوبے میں جوبھی آپریشن کرنا ہے وہ صوبائی حکومت کرے گی لیکن اس بات پر سہیل آفریدی کی حکومت کو اڑا کرپھینک دیا گیا۔ منظور پشتین پاکستان کے آئین وقانون کے تحت پشتونوں کے حقوق مانگ رہاتھا، لیکن ان کی تنظیم پر پابندی لگادی گئی۔حکمرانوں کو سوچنا چاہیے کہ ایسے اقدامات سے پشتونوں میں کیا جذبات پیدا ہورہے ہیں۔
میں سمجھتا ہوں کہ اب وقت آگیا ہے کہ ایک آزاداورخودمختارالیکشن کمیشن قائم کیاجائے جس کے تحت آزادانہ اورمنصفانہ الیکشن کرائے جائیں اورفارم 47 میں نتائج تبدیل کرنے کے بجائے عوام جسے منتخب کریں، اقتدارعوام کے حقیقی منتخب سویلین نمائندوں کےحوالے کیا جائے، سویلین کوحکومت چلانے دی جائے، فوج بیرکوں میں واپس جائے، ملک کے تمام اداروں کوچلانا فوج کا کام نہیں ہے، البتہ فوج کی ایجنسیوں کے پاس کسی بھی سیاستدان کے کرپشن اورلوٹ مار میں ملوث ہونے کی رپورٹس ہوں تو وہ ثبوت وشواہد کے ساتھ حکومت کوپیش کردیں۔ اسی طرح ملک میں آئین وقانون کی حکمرانی ہوسکتی ہے اور ہم ملک کو حقیقی معنوں میں مضبوط ومستحکم کرسکتے ہیں۔
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر489 ویں فکری نشست سے خطاب
24، اکتوبر2026ء
APMSO retweeted
خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کانفاذ عوام کی آواز کو ریاستی طاقت کے ذریعے دبانے کاایک ایساحربہ ہے جوآمرانہ ہتھکنڈوں کے زمرے میں آتا ہے۔
پاکستان اس وقت کی صورتحال انتہائی نازک دور میں داخل ہوگئی ہے، اس نازک صورتحال میں ہر گزرتے ہوئے دن اورلمحے کے ساتھ ہی اس میں اضافہ ہورہا ہے، خیبرپختونخوا میں گورنرراج اور ایمرجنسی کا نفاذ کسی بھی طرح ملک کے مفاد میں نہیں ہے، دیکھنا یہ ہے کہ اس پر تحریک انصاف کاردعمل کیا ہوگا، خیبرپختونخوا کے عوام اس ظالمانہ اور غیرآئینی وغیرقانونی اقدام کو قبول کریں گے یانہیں؟ گورنر راج اورایمرجنسی کے نفاذ کے ساتھ ہی ان کے تمام بنیادی انسانی حقوق چھین لئے جائیں گے توخیبرپختونخوا کے عوام اس پر شعوری، فکری اورعقلی لحاظ سے کس طرح ردعمل کا اظہارکرتے ہیں؟
پاکستان میں یہ المیہ رہاہے کہ پاکستان میں کبھی جمہوری قوتوں کوپھلنے پھولنے اور عوامی امنگوں کے مطابق فیصلے نہیں کئے گئے، عوامی امنگوں کے خلاف فیصلے کئے گئے جس سے ملک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا، ملک دولخت ہوگیا، اب بلوچستان کی صورتحال آپ کےسامنے ہے، اگرگورنرراج اور ایمرجنسی کے نفاذ سے خیبرپختونخوا میں بھی ایسی ہی صورتحال نے جنم لیا توکس کانقصان ہوگا؟بدقسمتی سے حکمراں طاقت کے نشے میں یہ بات بھول جاتے ہیں کہ ہر ایکشن کاری ایکشن ضرورہوتا ہے۔
میں یہی کہتا ہوں کہ طاقت کااستعمال کسی بھی جانب سے ہو، اگرحق اورسچ کی بات کرنے والوں کے خلاف طاقت استعمال کی جائے تو اس کے بھیانک نتائج سامنے آتے ہیں۔ لہٰذا میں یہ سمجھتاہوں کہ حکومت کوبات چیت کاراستہ اختیارکرنا چاہیے، صلح جوئی کا راستہ اختیارکرناچاہیے، نہ کہ ظلم کا راج نافذ کیا جائے، کیونکہ ظلم سے عوام کے دل جیتے نہیں جاتے، بلکہ اس سے عوام میں نفرتیں پیداہوتی ہیں۔
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر483 ویں فکری نشست سے خطاب
10 اکتوبر2026ء
APMSO retweeted
خیبرپختونخوا میں گورنرراج اورایمرجنسی کا نفاذکرکے پختونخوا کے پشتون عوام کے مینڈیٹ کا خون کیا گیا ہے، یہ آمرانہ اقدام جمہوریت کےلئے ایک سیاہ اقدام ثابت ہوگا۔
پاکستان میں گزشتہ 79برسوں سے جمہوریت کاخون ہوتاچلا آیاہے، منتخب جمہوری حکومتوں کی کوئی قدرو منزلت نہیں ہے، ملک میں جمہوریت کے نام پر جوپارلیمانی سیاست ہورہی اس میں جمہوریت کےنام پر دو خاندانوں کی آمریت رائج ہے۔ 2024ء کے انتخابات کے نتیجے میں خیبرپختونخوا میں قائم ہونے والی تحریک انصاف کی حکومت کو شروع دن سے قبول نہیں کیا گیا، صوبائی حکومت نے اپنے حقوق کے حصول اورملک میں آئین وقانون کی بالادستی کے لئے لانگ مارچ نکالا تو ہر دور میں جمہوریت کا خون کرنے والی طاقتوں نے آج خیبرپختونخوا میں سہیل آفریدی کی منتخب حکومت اوراسمبلی کومعطل کرکے وہاں گورنرراج اورایمرجنسی نافذ کردی ہے۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اوران کے رفقا ء کوگرفتارکرکے لاپتہ کردیا ہے اوران کے بارے میں کچھ نہیں پتہ چل رہاہے کہ انہیں کہاں رکھا گیا ہے۔
میں سوال کرتا ہوں کہ خیبرپختونخوا کی حکومت کوبرطرف کرنے کی کیاوجہ ہے؟ اگر ہم ایک لمحےکے لئے یہ مان بھی لیں کہ صوبائی حکومت دہشت گردی کے خلاف کوئی ایکشن نہیں کررہی تھی، تو گزشتہ 20 برسوں سے آپ دہشت گردی کے خلاف مختلف ناموں سے ایک کے بعد دوسرااوردرجنوں آپریشن کرتے آئے ہیں، جس کے لئے پشتونوں کوان کے گھروں سے نکال کرآئی ڈی پیز بناکرخیموں میں رہنے پر مجبور کیاگیا، پھربھی آپ نے دہشت گردی کا صفایاکیوں نہیں کیا؟ بات یہ نہیں بلکہ اصل بات یہ ہے کہ سہیل آفریدی جن مطالبات کے لئے لانگ مارچ کررہے تھے، جس کی حمایت میں لوگ اس میں شامل ہورہے تھے،اسی وجہ سے سہیل آفریدی کی حکومت کو برطرف کیا گیا ہے۔ وہاں گورنرراج اور ایمرجنسی ہی نافذ نہیں کی گئی بلکہ اب صوبے کوفوج کے حوالے کردیا گیا ہے۔ اگر ایسے آمرانہ اقدامات کرکے یہ سمجھا جارہا ہے کہ وہاں امن قائم ہوگیا ہے، تویہ خاموشی کسی بڑے طوفان کی آمد کی اطلاع دیتی ہے۔ ان آمرانہ اورجابرانہ اقدامات کے نتیجے میں اب خیبرپختونخوا کا ہرپشتون یہ سوچنے پر مجبور ہےکہ کیا وہ پاکستان کاحصہ نہیں ہیں؟ کیا یہ ملک ہمارانہیں ہے؟ آخرہماراکیا قصور ہےکہ ہماری دوتہائی اکثریت سےمنتخب حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا ہے؟ ہم خیبر پختونخوا میں گورنرراج اورایمرجنسی کے نفاذ کونہیں مانتے، میں فارم 47کی موجودہ حکومت اور اس کےسرپرستوں سے کہتا ہوں کہ خیبرپختونخوا میں سہیل آفریدی کی حکومت کوبرطرف کرکے وہاں گورنر راج اور ایمرجنسی نافذ کرنے کاآمرانہ اقدام فی الفور واپس لیا جائے، خیبرپختونخوا کے عوام کے مینڈیٹ کا احترام کیا جائے، صوبائی حکومت بحال کی جائے اوروہاں بھیجی گئی فوج کو واپس بلایا جائے۔
غیور پشتون عوام گورنرراج اورایمرجنسی کے نفاذ کے ظالمانہ اقدام کوکسی بھی قیمت پر قبول نہیں کریں گے، پشتون عوام صوبائی حکومت پر دہشت گردوں کے ساتھ تعلقات کے الزامات کوبھی مستردکرتے ہیں۔
ٓصدرآصف علی زرداری نے خیبرپختونخوا کی منتخب جمہوری حکومت کوختم کرنے کے فرمان پر دستخط کرکے خیبرپختونخوا کے پشتون عوام کے مینڈیٹ کاجوخون کیا ہے، پشتون عوام اس کونہیں بھولیں گے اوراس ظلم کاحساب لیں گے۔ پشتون عوام سمجھتے ہیں کہ تم ملک کے صدرنہیں بلکہ ایک ظالم وجابر ہواورظالموں کے بادشاہ ہو۔ گورنرراج اورایمرجنسی کےظالمانہ اقدام کی کہیں کوئی گنجائش نہیں ہے اورجولوگ اس جابرانہ اقدام کی حمایت میں آئین وقانون کی تشریح کررہے ہیں وہ ان درباری ملاؤں کی طرح ہیں جواپنے مطلب کےلئے قرآن کی آدھی آدھی آیات کی تشریح کرکے عوام کودھوکہ دیتے ہیں۔ایسے ہی ملاؤں نے سہیل آفریدی کوبھی دھوکہ دیا۔ اسی طرح آئین کی تشریح کرتے ہوئے 26 ویں اور 27 ویں آئینی ترمیم کی گئی اور سپریم کورٹ اور دیگراعلیٰ عدالتوں کومفلوج کردیا گیا ہے جس کی وجہ سے آج ان کے فیصلوں کی کوئی وقعت نہیں ہے۔سپریم کورٹ عمران خان کوشفا اسپتال منتقل کرنے کا حکم دیتی ہے لیکن اس کے فیصلے کوبوٹوں تلے روند دیا گیا۔
میں خیبرپختونخوا کے پشتون عوام سے کہتا ہوں کہ آپ ان حالات سے مایوس نہ ہوں،اپنی صفوں میں اتحاد برقراررکھیں اور اپنے اتحاد سے اس ظلم وجبر کامقابلہ کریں۔ الطاف حسین حقوق کی جدوجہد میں پشتون عوام کے ساتھ ہے۔
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر 484 ویں فکری نشست سے خطاب
11 اکتوبر 2026ء
APMSO retweeted
*سانحہ 30، ستمبرحیدرآباد اور یکم اکتوبرکراچی 1988ء ناقابل فراموش ہے،قائد تحریک الطاف حسین*
*کراچی اورحیدرآبادمیں مہاجر آبادیوں پر مسلح حملوں اور مہاجروں کے قتل عام کا میڈیا میں تذکرہ تک نہیں کیاجاتاجوکہ افسوسناک ہے*
*سانحہ30 ستمبراوریکم اکتوبر کے شہداء کی 38ویں برسی کے موقع پر بیان*
#سانحہ_حیدرآباد_30ستمبر










