Pinned Tweet
Plz watch my video on YouTube and if you like my effort do subscribe to my channel. Causes and Symptoms of Type 2 Diabetes in Urdu/Hindi شوگر ہونے کی وجوہات... youtu.be/OXQge3WRWE0 via @YouTube – at Rochdale, England
90s Forever retweeted
HISTORY FOR AZAD JAMMU & KASHMIR! 🏏🔥
Their first-ever First-Class victory and what a way to do it! A massive 109-run win over Karachi Whites! 🤯🔥
What a performance💚
Hussain Nadeem with the bat, while Faizan and Azad were outstanding with the ball👏
Congratulations, AJK!
90s Forever retweeted
یہ کیسی بکواس جمہوریت ہے امریکہ میں جہاں نہ تو اُمیدوار اغواء ہوئے ، نہ گھر والے اغواء ہوئے ، نہ ویگو ڈالے گھومتے نظر آئے ، نہ کاغذات نامزدگی چھینے گئے اور نہ ہی ووٹوں پر دھاندلی کا رولا ڈالا گیا - ہائے امریکیوں کو کیا معلوم وہ جمہوریت کے اصل حُسن سے محروم ہیں...
Fantastic win to keep Manchester United in contention for the Champions League knockout stages. If this comeback doesn’t kick start our season, then it risks being nothing more than papering over the cracks. Still not convinced Carrick is the long term solution.
#MUFC
On one hand, they insist they have nothing to do with politics, yet statements like this tell a completely different story. Whether the KP government is competent or not is for the people of KP to decide, not for you to pronounce. Have some shame.
دہشتگردی کے سہولت کاروں میں سے ایک خیبرپختونخوا کی نااہل حکومت تھی، ڈی جی آئی ایس پی آر geonewsurdu.tv/latest/444957…
Someone should inform him that he is a sitting minister in power. This tragedy unfolded under your watch.
کل ڈسکہ میں ھونے والے واقعہ کی جتنی مذمت کی جاۓ کم ھے۔ایک ٹک ٹاکر جس کو پتلو کے نام سے پکارا جاتا ھے اپنے شادی کی تقریب پہ قیمتی انعامات اناؤنس کرکے جسمیں بھاری کیش بھی شامل ھے پبلک کو اکٹھا کر لیا ۔ یہ سارا ڈرامہ اس ٹک ٹاکر نے مزید کمائی کے لئے کیا ۔ انعامات اس کی انویسٹمنٹ تھی اور کمائی سوشل میڈیا سے۔علاقہ کے غریب عوام کی غربت کا مذاق بنایا گیااور ایک بڑے ھجوم میں بھگدڑ میں دو انسانی جانیں گئیں اور درجنوں لوگ زخمی ھوئے۔ ٹک ٹاکر مفرور ھے اور اپنا اثرورسوخ استعمال کرکے قانون کو بے اثر بنا رہا ھے۔
بے لگام سوشل میڈیا معاشرے اور ریاست کے لئے زہر قاتل ثابت ھو سکتا اسکا احتساب ھونا چاہئیے۔
یہ ٹک ٹاکر کروڑوں نہیں اربوں کما رہے ھیں کیا ٹیکس قوانین انُ کو ریگولیٹ کر رہی ھیں؟
Does this guy even know what the Hong Kong Sixes tournament is? And, more importantly, does he have the slightest clue about the state of Pakistan cricket under Naqvi?
Congratulations to our boys on a superb four-wicket victory over India in the opening clash of the Hong Kong Sixes 2026! It was a good game of cricket
I also commend Chairman PCB Mohsin Naqvi @MohsinnaqviC42 and his team for their dedicated efforts in preparing and supporting our players.
90s Forever retweeted
غالبا 2022 کی بات ہے عمران خان صاحب نے گورمنٹ کالج یونیورسٹی میں طلباء سے خطاب کیا تھا۔۔ نیشنل میڈیا پاگل ہو گیا تھا۔۔ وہاں خطاب نہیں کرنا چاہیے تھا۔۔ ایک تعلیمی ادارے کی وائس چانسلر کو فارغ کرنے کے مطالبات کیے گئے۔۔ آج پنجاب کے ایک سکول میں مریم نواز صاحبہ کا جنم دن منایا جا رہا ہے!
Fleetwood is a coastal town in Lancashire, north-west England, on the Fylde Peninsula. It’s next to Blackpool a famous holiday spot. Current league position 18th in League 2.
@Imran_Javeed79 @Satti78678 @RotiShukr @ammar_farooq
My Melbourne sources tell me Mitchell Starc at the age of 3 was taken to a secret underground laboratory in Australia. They spliced his DNA with a cheetah, a fighter jet and a nuclear reactor, fed him uranium and made him bowl at the moon for years. Now he’s 36, touching 150kph.
Michael Carrick staying at #MUFC and being given time to turn things around? What the hell are we seeing that justifies this faith? Falling out with senior players, unable to buy a win, and absolutely no discernible style of play. What exactly is he going to change?
90s Forever retweeted
یہ نومبر 2007 کے وسط کی بات ہے۔ ڈاکٹر طاہر القادری کی رہائش گاہ کے ڈرائنگ روم میں پولیس کے ایک اعلی ترین افسر ڈاکٹر صاحب سے ملاقات کے لئے آئے ہوئے تھے۔ موصوف ڈاکٹر صاحب سے دیرینہ نیاز مندی رکھتے تھے اور جب کبھی پتہ چلتا کہ ڈاکٹر صاحب پاکستان میں موجود ہیں تو شام کے بعد ملنے آجایاکرتے۔ افسر صاحب سے مختلف موضوعات پر بات چیت ہو رہی تھی۔ ملکی سیاست پر ان سے پوچھا گیا تو کہنے لگے کہ اب مزید 10 سال تک مشرف کا ہی اقتدار ہے۔ انہوں نے بڑی واضحیت اور اعتماد سے دعوی کیا کہ 7 نومبر کو کامیابی سے ایمرجنسی لگانے کے بعد مشرف اب ویسا ہی مضبوط ہو چکا ہے جیسے وہ 1999 میں تھا۔ میں حیرت سے ان کے چہرے کو دیکھ رہا تھا۔ اس وقت یہ سوچ صرف ان کی نہیں تھی مشرف کی جماعت کے بہت سے لوگوں کی یہ ہی سوچ تھی۔ ۔ اکتوبر ميں 2007رمضان المبارک کے آخری عشرے میں چوھدری پرویز الہی نے منہاج القرآن کے شہر اعتکاف کا وزٹ کیا۔ ان ڈاکٹر صاحب کے حجرہ اعتکاف میں ملاقات کے دوران انہوں نے کمال اعتماد سے اس بات کا اظہار کیا کہ نئے انتخابات کے بعد ان کی جماعت کی نہ صرف پنجاب میں بلکہ مرکز میں بھی دوبارہ حکومت قائم ہو رہی ہے!! بعد ميں ہوا کیا وہ آپ سب جانتے ہيں۔
خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی لگانے کے بعد موجودہ حکومت اور ریاستی حلقے بھی بلا کے اعتماد میں ہیں۔ ان کو یقین ہے کہ اب موجودہ حکومتی نظام کو دہائيوں تک کوئی خطرہ نہیں۔ مستقبل بعید میں تاحد امکان آرمی چیف جنرل عاصم منیر ہی ہونگے۔ کچھ مہینوں و سالوں کی بات ہے عمران خان کا کرشمہ ختم ہو چکا ہوگا۔ ان کے ورکرز تھک چکے ہونگے۔ تنظیمات توڑ پھوڑ کا شکار تو پہلے ہی ہیں، رہی سہی کسر بھی ختم ہو چکی ہوگی۔ ملک میں بیرون سرمایہ کاری کے اربوں ڈالر آچکے ہونگے ۔ معدنیات کی برامد سے ملک بھر میں معاشی خوشحالی کا دور دورہ ہوگا۔ 2029 میں انتخابات ہونگے تو عوام کے پاس سوائے ن لیگ اور پیپلز پارٹی کے کوئی اور آپشن موجود ہی نہیں ہوگا۔ اگر نئی نسل کے کچھ ووٹرز نے خود سری دکھائی بھی تو ان کاآرمی چیف کی معاونت سے وہ ہی علاج کردیا جائے گا جیسا 9 فروری 2024 کو کر دیا گیا تھا اور یوں 2034 تک تو راوی کو سوائے چین کے اور کچھ نظر ہی نہیں آئے گا کہ لکھے۔ 2034 میں عمران خان ذندہ بھی ہوا تو 82 سال کاہوچکا ہوگا۔ بانس باقی بھی رہا تو وہ بانسری بننے کے قابل کہاں رہے گا؟ سو کم از کم آئيندہ تین عشرے پاکستان کی سیاسی افق پر مریم نواز ، بلاول بھٹو، ایمل ولی و مثلھم کے سیارے ہی ریاست کے خاکی آفتاب کی روشنی سے چمکتے رہیں گے۔
سوال یہ ہے کہ کیا موجودہ حکومت اور اسٹبلشمنٹ کے اعتماد اور مشرف و ق لیگ کے 2007 کے اعتماد میں کوئی مماثلت ہے کہ نہیں؟ مجھے تو ڈاکٹر طاہرالقادری کے ڈرائنگ روم میں موجود پولیس افسر اور حجرہ اعتکاف گاہ میں بیٹھے چوھدری پرویز الہی کے اعتماد پر جو حیرت ہو رہی تھی اس سے دس گنا ذیادہ حیرت موجودہ ارباب اختیار کے اعتماد پر ہورہی ہے۔
میری حیرت کی اصل وجہ یہ ہے کہ ان سب کی نظر میں سب سے بڑا مسئلہ عمران خان ہے جبکہ مجھے یہ ارباب اختیار اور محافظین ریاست اصل مسئلہ نظر ارہے ہیں۔ عمران خان رہے یا نہ رہے مجھے نظر آرہا ہے کہ موجودہ نظام جبر و ظلم اب ذیادہ دیر نہیں چل پائے گا اور اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان کی نئی نسل سو فیصد اتفاق سے اس نظام جبر سے بے زار ہوچکی ہے۔ یہ بے زاری بتدریج نفرت میں بدل رہی ہے۔ ارباب ریاست اصل مسئلے کی تشخیص ہی نہیں کر پارہے سو وہ جس دوا کا بھی اہتمام کرتے ہیں اس سے مرض میں اضافہ ہی ہورہا ہے۔ بیزاری سے نفرت کے سفر میں تیزی آرہی ہے۔ یہ نفرت ایک حد سے بڑھے گی تو اس سے بغاوت جنم لے گی ۔ مہینوں او ر سالوں کا تعین کرنا تو میرے لئے ممکن نہیں لیکن میں یہ نوشتہ دیوار بغیر کسی دوربین کے پڑھ رہا ہوں۔پریشانی یہ ہے کہ پاکستان جیسے مذہبی مسلکی لسانی اور علاقائی تعصاب والے ملک میں اگر کوئی بغاوت رونما ہوتی ہے اس کی تباہی خاکم بدہن لیبیا و شام و عراق کی بغاوتوں سے بھی ذیادہ تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے
اس بغاوت کو روکنے کی چابی صرف ایک بندے کا ہاتھ میں ہے اور اس کا نام ہے عمران خان ۔ کاش ہمارے ارباب ریاست و محافظین ریاست یہ بات سمجھ پائیں کہ جس عمران خان کی شخصیت کو وہ ام الامراض سمجھے رہےہیں اسی کے ہاتھ اس زہر کا تریاق جو اس وقت وجود پاکستان کی رگوں میں سرایت ہو چکا ہے۔
رحیق احمد عباسی
























