Independent Software Consultant

Joined July 2009
𝕸𝖚𝖍𝖆𝖒𝖒𝖆𝖉 𝕬𝖘𝖑𝖆𝖒 retweeted
نہایت ہی اہم ایشو جو اجکل کافی دیکھنے کو مل رہا ہے لوگ شادی تو کر لیتے ہیں مگر اولاد نہی چاہتے ۔۔اور ایسے لوگ اپکو معاشرے میں سینکڑوں ملیں گے ۔۔ اور جب عمر نکل جاتی ہے تو تب یاد اتا ہے اولاد ہونا لازمی ہے ۔ اور پھر پوری زندگی ایسی پچھتاوے کے ساتھ گزار دیتے ہیں ۔ اب ایسا ہی اک نیا شادی شدہ جوڑا ایا ہے اک گائنکالوجسٹ کے پاس چھ ماہ شادی کو ہو گئے ہیں ۔۔ میاں بیوی اولاد کیلے زہنی طور پر تیار نہی ہیں عمر پہلے سے 36 سال ہے ۔ بیوی اولاد چاہتی ہے شوہر کہتا ہے پہلے سیٹ ہو جائیں پھر اس بارے میں سوچیں گے ۔ اس کیلے وہ ڈاکٹر کے پاس مشورہ لینے اۓ ہیں۔۔ اب ڈاکٹر نے اس پر کیا ہی زبردست جواب دیا ہے ۔ وہ سنیں
20
116
2
475
41,359
𝕸𝖚𝖍𝖆𝖒𝖒𝖆𝖉 𝕬𝖘𝖑𝖆𝖒 retweeted
ہوشیار! شام 4 بجے کے بعد اور ہفتہ کے دن اگر تھانے بلایا جائے تو جانے کی فاش غلطی کبھی مت کریں! کیا آپ جانتے ہیں کہ قانون کی معلومات نہ ہونا آپ کو کس قدر بڑی مصیبت میں ڈال سکتا ہے؟ ہمارے معاشرے میں ایک عام تاثر ہے کہ جب بھی کوئی مسئلہ ہو، فوراً تھانے کا رخ کریں۔ لیکن قانونی ماہرین اور تجربہ کار وکلاء ایک ایسی تلخ حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں جسے جان کر آپ کے رونگٹے کھڑے ہو جائیں گے۔ وہ کہتے ہیں: "اگر آپ پر کوئی سنگین افتاد نہ پڑی ہو، تو شام 4 بجے کے بعد اور ہفتہ (Saturday) کے دن کبھی تھانے مت جائیں!" آئیے جانتے ہیں کہ اس انتباہ کے پیچھے چھپی وہ چونکا دینے والی وجوہات کیا ہیں جو آپ کو ایک بڑی دلدل میں پھنسا سکتی ہیں۔ یہ دو وقت اتنے خطرناک کیوں ہیں؟ 1۔ عدالتیں بند ہو جاتی ہیں (کوئی فوری ریلیف نہیں) قانون کے مطابق اگر پولیس کسی کو گرفتار یا حراست میں لیتی ہے، تو اسے 24 گھنٹوں کے اندر مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کرنا لازمی ہوتا ہے۔ شام 4 بجے کے بعد: عدالتیں بند ہو جاتی ہیں۔ اگر پولیس آپ کو کسی بھی وجہ سے (خواہ تفتیش کے نام پر ہی) تھانے میں روک لے یا حراست میں لے لے، تو آپ کے وکلاء اگلی صبح سے پہلے آپ کی ضمانت یا رہائی کے لیے عدالت سے رجوع نہیں کر سکتے۔ آپ کو پوری رات حوالات میں کاٹنی پڑ سکتی ہے۔ ہفتہ کا دن: ہفتہ اور اتوار کو عدالتوں میں باقاعدہ کام نہیں ہوتا (صرف ڈیوٹی مجسٹریٹ ہوتے ہیں جہاں ریلیف ملنا انتہائی مشکل ہوتا ہے)۔ اگر آپ ہفتے کے دن تھانے گئے اور وہاں حالات خراب ہوئے، تو آپ کو کم از کم دو راتیں (ہفتہ اور اتوار) تھانے کے رحم و کرم پر گزارنی پڑیں گی کیونکہ پیر سے پہلے باقاعدہ قانونی کارروائی شروع نہیں ہو سکے گی۔ بلیک میلنگ اور دباؤ کا سنہری موقع کچھ کرپٹ عناصر یا تھانہ کلچر کا فائدہ اٹھانے والے اہلکار اسی وقت کا انتظار کرتے ہیں۔ انہیں معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت شہری کے پاس قانونی مدد یا عدالت جانے کا راستہ بند ہو چکا ہے۔ ایسے میں سائلین یا ملزمان پر ذہنی دباؤ ڈال کر اپنی شرائط منوانا، رشوت طلب کرنا یا مرضی کا بیان لکھوانا بہت آسان ہو جاتا ہے۔ جج اور سینیئر افسران کی عدم موجودگی شام کے وقت یا ویک اینڈ پر اعلیٰ پولیس حکام (جیسے ایس پی یا ڈی پی او) اور جوڈیشل افسران اپنے دفاتر میں موجود نہیں ہوتے۔ اگر تھانے میں آپ کے ساتھ کوئی زیادتی ہو رہی ہو، تو فوری طور پر کسی سینیئر افسر تک شکایت پہنچانا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔ اگر جانا "نہایت ضروری" ہو جائے، تو کیا احتیاطی تدابیر اپنائیں؟ زندگی میں بعض اوقات ایسے ہنگامی حالات (جیسے کوئی حادثہ، چوری، یا خاندانی جھگڑا) آجاتے ہیں جب آپ کو اسی وقت تھانے جانا پڑتا ہے۔ اگر ایسی صورتحال بن جائے، تو درج ذیل حفاظتی اقدامات کے بغیر قدم نہ اٹھائیں: اکیلے کبھی نہ جائیں : تھانے ہمیشہ اپنے ساتھ دو یا تین ایسے سمجھدار افراد کو لے کر جائیں جو دباؤ میں نہ آئیں۔ اگر ممکن ہو تو اپنے علاقے کے کسی معزز شخص یا کونسلر کو ساتھ رکھیں۔ اپنے وکیل کو ساتھ لیں : اگر معاملہ کسی تنازع یا کسی کے خلاف درخواست کا ہے، تو اپنے وکیل کو فیس دے کر ساتھ لے جائیں۔ پولیس کسی عام شہری پر جتنا مرضی دباؤ ڈال لے، قانون کے ماہر وکیل کے سامنے وہ ہمیشہ ضابطے کے اندر رہ کر بات کرنے پر مجبور ہوتی ہے۔ گھر والوں کو لوکیشن اور مقصد بتا کر جائیں : تھانے داخل ہونے سے پہلے اپنے قریبی رشتہ داروں یا دوستوں کو واضح بتا دیں کہ آپ کس تھانے جا رہے ہیں، کس کام سے جا رہے ہیں اور وہاں کس افسر سے ملنا ہے۔ موبائل فون کا سمارٹ استعمال : تھانے کے اندر داخل ہوتے ہی اپنا موبائل فون ہرگز بند نہ کریں، بلکہ اپنے کسی قریبی دوست کو آن لائن رکھیں یا اسے میسج کر دیں کہ "میں اندر جا رہا ہوں"۔ اگر پولیس آپ کا فون جمع کرنے کی کوشش کرے، تو باہر موجود اپنے ساتھی کو فوراً اطلاع دیں۔ کاغذی ثبوت باہر چھوڑیں : اپنے اصل شناختی کارڈ کے علاوہ کسی بھی اہم جائیداد، لین دین یا معاملے کے اصل کاغذات تھانے کے اندر لے کر نہ جائیں۔ ان کی صرف فوٹو کاپیاں ساتھ رکھیں، اصل دستاویزات باہر موجود اپنے کسی بااعتماد ساتھی کے پاس چھوڑیں۔ غصے پر قابو اور کم گوئی : تھانے کے ماحول میں پولیس آپ کو اشتعال دلانے کی کوشش کر سکتی ہے۔ ہمیشہ پرامن رہیں، غصہ نہ کریں اور صرف اتنی بات کریں جتنی ضروری ہو۔ کسی بھی ایسے کاغذ پر دستخط یا انگوٹھا نہ لگائیں جسے آپ نے اچھی طرح پڑھ اور سمجھ نہ لیا ہو۔ قانون آپ کی حفاظت کے لیے ہے، لیکن قانون کے نظام کے اوقاتِ کار سے واقفیت آپ کی اپنی ذمہ داری ہے۔ دانا بنیں، محفوظ رہیں اور اس معلومات کو اپنے دوستوں اور احباب کے ساتھ لازمی شیئر کریں تاکہ کوئی بھی ناواقفیت کی وجہ سے کسی مشکل میں نہ پھنسے۔ منقول
31
190
1
546
47,096
𝕸𝖚𝖍𝖆𝖒𝖒𝖆𝖉 𝕬𝖘𝖑𝖆𝖒 retweeted
1977میں سائنسدانوں نے "ہائیڈرو تھرمل"مقام کی دریافت کی، جس کی بابت اللہ تعالی بزرگ و برتر نے تقریباً 1400سال قبل ہی قرآن پاک کی "سورہ الطور کی آیت نمبر 6 "میں اشارہ دے دیا تھا۔ سبحان اللہ، یہ ایمان تازہ کر دینےوالا قرآن پاک کا ایک زندہ معجزہ ہے۔ دیکھنے اور سننےکےقابل وڈیو کلپ👇
37
258
5
621
15,818
𝕸𝖚𝖍𝖆𝖒𝖒𝖆𝖉 𝕬𝖘𝖑𝖆𝖒 retweeted
مجھے اک عجیب سا خواب اتا ہے میں اپنی امی سے کہتی ہوں کہ میں عمرے پر جاتی ہوں تو میری امی نے کہا کہ تم Mehrum کے ساتھ جاتی ۔۔ یہ کتنا عجیب مائنڈ سیٹ ہے ۔۔ اور یہ لازمی نہی ہے ۔ پہلے تو پڑھیے أَسْتَغْفِرُ ٱللَّٰهَ ۔۔ اس مائنڈ سیٹ پر جس میں وہ کہ رہی ہے کہ عمرے پر جانے کیلے محرم رشتے کی ضرورت نہی ہے ۔ اب اس پر زبردست جواب دیا ہے اس نوجوان نے جو ہماری انکھیں کھولنے کیلے کافی ہے ۔۔ نوجوان کا حلیہ بھی اسلامی نہی ہے بڑی داڑھی بھی نہی ہے مفتی یا دینی مدرسے سے پڑھا ہوا بھی نہی ہے ۔۔ مگر اتنا دین سبکو معلوم ہو کہ کسی لبرل کو ائینہ دیکھا سکیں ۔۔
15
82
6
276
15,746
𝕸𝖚𝖍𝖆𝖒𝖒𝖆𝖉 𝕬𝖘𝖑𝖆𝖒 retweeted
*جب ہنری فورڈ نے ایک بار کہا شہر کا سب سے سستا ہوٹل کہاں ہے؟لوگ حیران رہ گئے۔* وہ ابھی انگلینڈ پہنچے ہی تھے — پہلے سے ارب پتی، پہلے سے دنیا کے مشہور ترین افراد میں شامل۔ لیکن عیش و عشرت کا مطالبہ کرنے کے بجائے وہ سکون سے ایئرپورٹ کے انفارمیشن ڈیسک پر گئے اور پوچھا: "سب سے سستا رہنے کا انتظام کہاں مل سکتا ہے؟" کلرک کچھ لمحے رکا۔ پرانا کوٹ، عام سا سوٹ کیس، دھیمی آواز۔ پھر اچانک اسے احساس ہوا — یہ ہنری فورڈ ہیں! وہی ہنری فورڈ، جو ہر اخبار کی سرخیوں میں تھے۔ کلرک نے حیرانی سے کہا: "سر… کیا آپ ہی مسٹر فورڈ ہیں؟" فورڈ نے مسکرا کر سر ہلایا: "ہاں، میں ہی ہوں۔" کلرک اب بھی حیران تھا: "آپ کا بیٹا تو ہمیشہ بہترین ہوٹلوں میں ٹھہرتا ہے، سب سے قیمتی سوٹ پہنتا ہے۔ اور آپ…؟ آپ یہاں سب سے سستا کمرہ پوچھ رہے ہیں، ایک ایسا کوٹ پہنے ہوئے جو آپ سے بھی پرانا لگتا ہے۔ کیوں؟" فورڈ نے نرمی سے مسکرا کر کہا: "کیونکہ مجھے صرف سونے کی جگہ چاہیے۔ میں جہاں بھی رہوں… میں ہنری فورڈ ہی رہوں گا۔ اور یہ کوٹ میرے والد کا ہے، یہ مجھے گرم رکھتا ہے۔ میرے لیے یہ کافی ہے۔" پھر آہستہ سے بولے: "میرا بیٹا اب بھی اس بات کی فکر کرتا ہے کہ لوگ کیا سوچیں گے۔ لیکن میں نے دوسروں کی منظوری کے لیے جینا چھوڑ دیا ہے۔ میں خرچ کر کے نہیں امیر ہوا، میں یہ سمجھ کر امیر ہوا کہ اصل اہمیت کس چیز کی ہے اور کس کی نہیں۔" ایک خاموش سبق، عاجزی میں لپٹا ہوا: اصل دولت اس میں نہیں کہ آپ کیا دکھاتے ہیں — اصل دولت اس میں ہے کہ آپ کیا سمجھتے ہیں۔ آپ آپ کے ہوٹل، آپ کے کوٹ یا آپ کے بینک بیلنس نہیں ہیں۔ آپ وہ ہیں جو آپ ہیں — چاہے آپ کہیں بھی ہوں۔ منقول ─────••●◎●••─────
6
70
2
405
21,531
𝕸𝖚𝖍𝖆𝖒𝖒𝖆𝖉 𝕬𝖘𝖑𝖆𝖒 retweeted
اس ویڈیو کلپ کو سننے کے بعد میرا سب سے سوال ہے کہ مرد اگر خاک ہے تو یہ سوچ کہاں سے اتری ہے؟ اگر مرد کو "خاک برابر" ہی سمجھنا ہے، تو یہ باتیں کرنے والی خود کون سی عرش سے اتری ہوئی مخلوق ہیں؟ یہ بھی تو اسی مرد کے وجود اور نطفے سے پیدا ہونے والی مخلوق ہیں آج کل ڈیجیٹل میڈیا اور خصوصاً پوڈکاسٹس کی دنیا کو دیکھا جائے تو یوں لگتا ہے جیسے معاشرتی اصلاح کا پردہ اوڑھ کر خاندانی نظام اور باہمی رشتوں کی جڑوں پر کلہاڑی چلائی جا رہی ہے. گزشتہ دنوں عدنان فیصل کے پوڈکاسٹ کا ایک کلپ نظر سے گزرا جس کا عنوان تھا "سرے مرد خاک برابر". شو میں بیٹھ کر جس ہلکے پھلکے انداز میں مردوں کے وجود، ان کی محنت اور ان کے کردار کی تضحیک کی گئی, اس نے مجھے یہ تحریر لکھنے پر مجبور کر دیا۔ ​جب میں اس طرح کی گفتگو سنتا ہوں تو دل میں چند تلخ لیکن انتہائی سنجیدہ سوالات جنم لیتے ہیں: کیا مرد کوئی کھلونہ یا مشین ہے جس کے کوئی جذبات، احسانات یا قربانیاں نہیں؟ کیا اس معاشرے میں تمام تر برداشت اور معصومیت صرف ایک صنف کا حصہ ہے اور مرد سراپا ظالم یا بے حس ہے؟ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اگر مرد کو "خاک برابر" ہی سمجھنا ہے، تو یہ باتیں کرنے والی خود کون سی عرش سے اتری ہوئی مخلوق ہیں؟ یہ بھی تو اسی مرد کے وجود اور نطفے سے پیدا ہونے والی مخلوق ہیں! ​ہمارے میڈیا اور نام نہاد دیسی لبرل حلقوں میں یہ یکطرفہ بیانیہ بڑی چالاکی سے بیچنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ صرف عورت ہی سارا بوجھ اٹھاتی ہے اور وہی قربانی دیتی ہے. میں عورت کے احترام اور اس کی قربانیوں کا منکر نہیں، لیکن کیا مرد کی قربانیوں کو یوں لمحوں میں نفی کر دینا انصاف ہے؟ صبح کے دھندلکے سے لے کر رات کے اندھیرے تک، کڑی دھوپ، گرمی اور سخت حالات میں اپنے بچوں کی روٹی اور ان کی مسکراہٹ کی خاطر پسینہ بہانے والا مرد کیا انسان نہیں؟ گھر کے باہر سو طرح کے لوگوں کی تلخ باتیں، دفتری یا کاروباری دباؤ، اور معاشرتی رویوں کو خاموشی سے جھیل کر جب وہ گھر لوٹتا ہے، تو کیا اس کی اس برداشت کا کوئی وجود نہیں؟ ​افسوس کی بات یہ ہے کہ دن بھر کی تھکن اور باہر کا ذہنی دباؤ سمیٹ کر جب ایک مرد گھر آتا ہے اور کوئی چھوٹی سی بات بھی کر دے، تو آگے سے احترام اور ہمدردی کے بجائے طعنوں اور دس باتوں کا طوفان کھڑا کر دیا جاتا ہے۔ پھر بھی وہی مرد چپ چاپ سب سہہ کر اگلے دن دوبارہ اسی جدوجہد میں نکل پڑتا ہے۔ کیا یہ برداشت نہیں؟ ​پوڈکاسٹس کے ان مائیکروفونز کے سامنے بیٹھ کر آج کی نوجوان نسل سے مخاطب ہونا اور ان کے ذہنوں میں ایک دوسرے کے خلاف زہر گھولنا کون سی تربیت ہے؟ کیا لبرل ازم یہی ہے کہ اپنے ہی گھر، اپنے ہی باپ، بھائی اور شوہر کے وجود کی تضحیک کی جائے؟ سستی شہرت، کلکس اور ویوز کی اس اندھی دوڑ میں ہمارے میڈیا پلیٹ فارمز نے معاشرے کو جوڑنے کے بجائے توڑنے کا ٹھیکا لے رکھا ہے. اس قسم کی یکطرفہ، غیر متوازن اور منفی گفتگو سے کوئی اصلاح نہیں ہو رہی، بلکہ نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کے درمیان خلیج، نفرت اور غلط فہمیاں بڑھ رہی ہیں. ​کوئی بھی گھرانہ یا رشتہ کسی ایک کی برتری یا کسی دوسرے کی تضحیک سے نہیں چلتا. خاندانی نظام ایک گاڑی کے دو پہیوں کی مانند ہے جہاں مرد اور عورت کا اپنا اپنا مقام، اپنی ذمہ داریاں اور اپنی قربانیاں ہیں. ہمیں اپنے شوز، اپنے میڈیا اور اپنی سوچ میں توازن پیدا کرنے کی شدید ضرورت ہے. مرد کو حقیر یا "خاک" سمجھنے کے بجائے اس کی ان کٹھن کوششوں کا اعتراف کیجیے جو وہ روزانہ خاموشی سے اپنوں کی خاطر کرتا ہے۔ سستی شہرت کے لیے رشتوں کا تماشہ بنانا بند ہونا چاہیے۔ #GenderDynamics #CriticalThinking
3
6
36
7,968
𝕸𝖚𝖍𝖆𝖒𝖒𝖆𝖉 𝕬𝖘𝖑𝖆𝖒 retweeted
ایک بار ایک انٹرویو میں نصیر الدین شاہ نے کہا تھا کہ امیتابھ بچن کا معیاری سنیما میں کوئی خاص کردار نہیں ہے کیونکہ وہ خالصتاً کمرشل اداکار ہیں۔ اس کے بعد ایک صحافی نے امیتابھ بچن کو اس بیان کے بارے میں بتایا اور ان کا ردعمل چاہا۔ بچن نے کہا، "جب نصیر الدین شاہ جیسا بین الاقوامی سطح پر مانا ہوا اداکار کوئی بات کہے تو انسان کو ردعمل دینے کے بجائے اپنے اندر جھانکنا چاہیے۔" کچھ عرصہ پہلے، ایک صحافی نے دلیپ کمار کو بتایا کہ راج کپور نے ان کے بارے میں کوئی بیان دیا ہے اور پوچھا کہ دلیپ کمار اس پر کیا کہنا چاہیں گے۔ دلیپ کمار نے کہا کہ راج ان کے بہت عزیز دوست ہیں اور وہ دلیپ کمار کے بارے میں کچھ بھی کہہ سکتے ہیں۔ ایک بار کسی نے گلزار صاحب سے ان کے پانچ پسندیدہ نغمہ نگاروں کے نام پوچھے تو گلزار صاحب نے پانچ نغمہ نگاروں کے نام لیے اور ان میں جاوید اختر کا نام شامل نہیں تھا۔ اس کے بعد کیا ہوا؟ ایک صحافی نے جاوید اختر کو یہ بات بتائی اور ان کا ردعمل پوچھا۔ جاوید اختر نے کہا، "اس معاملے میں میں صرف یہی کہہ سکتا ہوں کہ گلزار صاحب کی فہرست میں جگہ بنانے کے لیے مجھے ابھی اور محنت کرنے کی ضرورت ہے۔" بولنا اور ردعمل دینا لازمی ہے، لیکن ضبط اور شائستگی کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے۔ برداشت اسی کا نام ہے۔
29
343
7
2,492
106,103
𝕸𝖚𝖍𝖆𝖒𝖒𝖆𝖉 𝕬𝖘𝖑𝖆𝖒 retweeted
میں نے یہ ویڈیو دیکھی اور سچ کہوں تو ڈاکٹر دعا اظہر کی باتیں سن کر میرے ہوش اڑ گئے۔ وہ بتا رہی ہیں کہ بل گیٹس اور پاکستان کے وزیراعظم کی اقوام متحدہ میں جو ملاقات ہوئی ہے، اس کا اصل مقصد پاکستان میں زراعت اور بیجوں کے نظام پر قبضہ کرنا ہے۔ وہ کہہ رہی ہیں کہ ہمارے دیسی بیجوں کی بجائے زبردستی جینیاتی طور پر تبدیل شدہ یعنی جی ایم او (GMO) بیج لائے جا رہے ہیں، جنہیں اگانے کے لیے ایک خطرناک کیمیکل گلائفوسیٹ کی ضرورت پڑتی ہے جو کہ کینسر کی بہت بڑی وجہ ہے اور سبزیوں یا پھلوں کو دھونے سے بھی نہیں نکلتا۔ ​ویڈیو میں یہ بات سن کر واقعی ڈر لگتا ہے کہ ان بیجوں سے پیدا ہونے والے پھل اور سبزیاں سیڈلیس یعنی بغیر بیج کے ہوتی ہیں، جس کی وجہ سے کسان خود اگلی فصل کے لیے بیج محفوظ نہیں کر پائیں گے۔ انہیں ہر بار یہ مہنگے بیج باہر کی کمپنیوں سے ہی خریدنے پڑیں گے، اور سارا کنٹرول انہی کے ہاتھ میں ہوگا۔ دعا اظہر یہ بھی پوچھ رہی ہیں کہ اگر یہ سب اتنا ہی اچھا ہے تو سعودی عرب اور یورپ نے اس پر پابندی کیوں لگائی ہے؟ ان کا یہ کہنا بالکل خوفناک ہے کہ اگر ہم ان جی ایم او بیجوں کے عادی ہو گئے اور کل کو کسی جنگ یا اختلاف کی وجہ سے ہمیں بیج دینے سے انکار کر دیا گیا، تو صرف چھ مہینے میں ہمارے ملک میں قحط آ سکتا ہے۔ اس سے بچنے کے لیے وہ یہ مشورہ دے رہی ہیں کہ ابھی سے اپنے پاس دیسی بیج محفوظ کرنا شروع کر دو اور جہاں بھی تھوڑی بہت زمین ملے، اپنی سبزی اور گندم خود اگاؤ۔ ​اس سب کے بعد جب میں نے دیکھا کہ ہمارے شوبز ستارے اس پر کیا ردعمل دے رہے ہیں، تو عمران عباس نے تو ڈاکٹر دعا کا شکریہ ادا کیا ہے کہ انہوں نے اس اہم مسئلے پر آواز اٹھائی، اور ماریہ بی نے بھی ان کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ بل گیٹس کے اس گیم کو سمجھنے کے لیے واقعی عقل کی ضرورت ہے۔ ​اور جب میں نے تحقیق کی اور مختلف آرٹیکل پڑھے تو یہ بات سامنے آئی کہ گلائفوسیٹ (Glyphosate) کے استعمال اور جی ایم او بیجوں کے حوالے سے دنیا بھر میں پہلے ہی کافی بحث اور مخالفت موجود ہے۔ بہت سی سائنسی رپورٹس میں اس کیمیکل کو صحت کے لیے نقصان دہ قرار دیا گیا ہے، جبکہ کسانوں کے حقوق اور بڑی کارپوریشنز کے اجارہ دارانہ معاہدوں (جیسے کہ بیجوں کاپی رائٹ اور بار بار خریدنے کی پابندی) پر بھی بین الاقوامی سطح پر تحفظات کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو فوڈ سیکیورٹی اور خود انحصاری کے حوالے سے اٹھائے جانے والے یہ خدکات مکمل طور پر بے بنیاد نہیں ہیں۔ ​#BillGates #GMOSeeds
56
1,504
35
2,119
54,046
𝕸𝖚𝖍𝖆𝖒𝖒𝖆𝖉 𝕬𝖘𝖑𝖆𝖒 retweeted
You’re building your future… but are you taking care of the mind running it? Your brain powers every thought decision and action. It’s the engine behind everything you do.
7
183
6
758
26,445
𝕸𝖚𝖍𝖆𝖒𝖒𝖆𝖉 𝕬𝖘𝖑𝖆𝖒 retweeted
تین فاتح، ایک ہی انجام دوسری جنگ عظیم نے 7 کروڑ لاشیں چھوڑیں اس جنگ کے بعد دنیا کا نقشہ 3 آدمیوں نے بنایا تھا واشنگٹن میں روزویلٹ، لندن میں چرچل اور ماسکو میں سٹالن۔ دنیا انہیں "بگ تھری" کہتی تھی جن 3 ہاتھوں نے دنیا بانٹی، ان کا خاتمہ ایک ہی ہتھیار سے ہوا 1👈
5
25
81
17,605
𝕸𝖚𝖍𝖆𝖒𝖒𝖆𝖉 𝕬𝖘𝖑𝖆𝖒 retweeted
ایک دن فیملی کورٹ میں جا کر بیٹھو۔ پھر شادی کی حقیقت تمہیں سمجھ آئے گی۔ بس ایک دن۔ پچھلی قطار میں جا کر بیٹھو اور دیکھو کہ جب رشتے میں دراڑ آتی ہے اور کاغذی کارروائی شروع ہوتی ہے تو کیا ہوتا ہے۔ تمہیں وہاں ایک بھی عورت محبت واپس مانگتی ہوئی نظر نہیں آئے گی نہ بچوں کا سوچتی ہوئی نظر آئے گی۔ تم ایک بھی عورت کو یہ کہتے نہیں سنو گے مجھے میرا شوہر واپس چاہیے، مجھے میرا خاندان واپس چاہیے ہم اپنا رشتہ ٹھیک کر لیں گے۔ وہاں خرچوں کی بات ہو رہی ہوگی۔ ایک ایک خرچہ گنا جا رہا ہوگا۔ بچوں کا ماہانہ خرچہ نان نفقہ فیس اور سکول کے اخراجات ’میڈیکل اور دوسرے اخراجات ماہانہ کتنی رقم پچھلے بقایاجات سب کچھ مرد ادا کرے پھر بھی اس سے الگ رہنا ہے۔ اور پھر اسی عدالت کے دوسرے کونے میں بیٹھے ان مردوں کو دیکھو۔ ٹوٹے ہوئے۔ خاموش۔ ہاتھ کانپ رہے ہیں۔ آنکھیں خالی۔ پھر بھی محبت میں۔ پھر بھی یہ سمجھنے کی کوشش میں کہ جس عورت کے گرد اس نے اپنی پوری زندگی کھڑی کی، جس کے لیے وہ اپنی آخری سانس تک دینے کو تیار تھا وہ آج ایک وکیل کے ساتھ بیٹھی اس کی زندگی کا حساب ایسے لگا رہی ہے جیسے کوئی کاروباری لین دین ہو۔ یہ منظر تمہیں ہمیشہ کے لیے بدل دے گا۔ کیونکہ اسی کمرے میں تم شادی کے بارے میں وہ سب سے تلخ حقیقت سیکھتے ہو جو جوانی میں کوئی تمہیں نہیں بتاتا۔ مرد محبت کرتے ہیں۔ عورتیں حساب لگاتی ہیں۔ محبت میں ڈوبا مرد سب کچھ کھو دے گا اور پھر بھی اسی کی فکر کرے گا۔ نفرت میں بیٹھی عورت سب کچھ لے لے گی اور پھر بھی خود کو مظلوم بنائے گی۔ ایک مرد وہاں بیٹھ کر اپنا گھر، اپنی جمع پونجی، اپنے بچے، اپنا سکون سب کھو دے گا، اور اس کے دماغ میں پھر بھی یہی چل رہا ہوگا کہ میں تو اس سے محبت کرتا تھا، ہم یہاں تک کیسے پہنچ گئے؟‘ ایک عورت وہاں بیٹھ کر گھر لے گی، جمع پونجی لے گی، بچے لے گی، اس کا مستقبل لے گی، اور اس کے ذہن میں یہی ہوگا کہ میں اس سے زیادہ کی حقدار ہوں۔ شادی زندگی کا وہ فیصلہ ہے جو زندگی کے ہر چیز سے زیادہ سوچ سمجھ اور دیکھ بھال کی متقاضی ہے۔ یہ آپ کی تعلیم، کریئر اور صحت سے بھی زیادہ اہم ہے۔ تم صرف ایک پارٹنر کا انتخاب نہیں کر رہے۔ تم یہ فیصلہ کر رہے ہو کہ کس کو تمہاری توانائی، تمہارے مقصد، تمہاری محنت، تمہارے پسینے اور آنسوؤں تک رسائی ملے گی۔ تم یہ فیصلہ کر رہے ہو کہ کس کے ہاتھ میں یہ طاقت ہوگی کہ دس سال میں بنائی ہوئی تمہاری ہر چیز کو دس منٹ میں ایک ایسے جج کے سامنے ختم کروا دے جو تمہیں نہیں جانتا، تمہاری محبت کی کہانی سے اسے کوئی سروکار نہیں اسے صرف کاغذات سے مطلب ہے۔ غلط رشتہ صرف تمہارا دل نہیں توڑتا۔ یہ تم سے تمہارا سکون چھین لے گا یہاں تک کہ رات کو نیند نہیں آئے گی۔ یہ تمہارا وقت لے لے گا یہاں تک کہ دوبارہ زندگی بنانے میں سال گزر جائیں گے۔ یہ تمہاری مالی حالت تباہ کر دے گا یہاں تک کہ تمہیں دوبارہ صفر سے شروع کرنا پڑے گا۔ یہ تمہارا مستقبل لے لے گا یہاں تک کہ جس آدمی کے روپ میں تمہیں آگے چل کر بننا تھا وہ بن ہی نہیں پائے گا۔ ایک غلط عورت یہ سب کر سکتی ہے۔ ایک غلط فیصلہ سب کچھ مٹا سکتا ہے۔ اس لیے انتخاب بہت سوچ سمجھ کر کرو۔ اپنی آنکھوں سے نہیں۔ ہوس میں نہیں۔ تنہائی میں نہیں۔ سمجھداری سے انتخاب کرو۔ مستقبل کو سامنے رکھ کر انتخاب کرو۔ ایسے انتخاب کرو جیسے تمہارا سکون، تمہارا وقت، تمہارا پیسہ اور تمہاری آنے والی نسلوں کی میراث داؤ پر لگی ہو۔ فیملی کورٹ ایک دن میں تمہیں وہ سکھا دے گا جو دس سال کا رشتہ بھی نہیں سکھا سکتا۔ مرد محبت میں پڑتے ہیں اور آخر تک محبت میں رہتے ہیں۔ عورتیں اپنی انٹرسٹ سے محبت کرتی ہیں اور تم یہ سب اپنی آنکھوں سے دیکھو گے۔ علی قیصرانی
65
121
8
385
33,973
𝕸𝖚𝖍𝖆𝖒𝖒𝖆𝖉 𝕬𝖘𝖑𝖆𝖒 retweeted
معزز ٹیکس گزار! اپنے ٹیکس کی ادائیگی میں قانونی طریقے سے بچت کریں قانون آپ کو کئی سہولتیں دیتا ہے جن سے آپ کا ٹیکس کم ہو سکتا ہے: پنشن اسکیم میں بچت رضاکارانہ پنشن اسکیم (VPS) میں رقم جمع کروائیں تو ٹیکس کریڈٹ ملتا ہے۔ اپنی قابلِ ٹیکس آمدنی کے 20 فیصد تک کی رقم پر یہ فائدہ ملتا ہے۔ یعنی مستقبل کی بچت بھی اور آج ٹیکس میں کمی بھی۔ (سیکشن 63، انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے مطابق) بچوں کی ٹیوشن فیس اگر آپ کی سالانہ قابلِ ٹیکس آمدنی 15 لاکھ روپے سے کم ہے تو بچوں کی ٹیوشن فیس کا 5 فیصد آپ کی آمدنی سے منہا ہو گا، ہر بچے کے لیے زیادہ سے زیادہ 60 ہزار روپے تک۔ یہ سہولت والدین میں سے فیس ادا کرنے والے کسی ایک کو ملے گی۔ (سیکشن 60D، انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے مطابق) گھر کے لیے قرض اگر آپ نے بینک یا کسی مالیاتی ادارے سے قرض لے کر اپنا گھر خریدا یا بنایا ہے تو اس قرض پر ادا کیے گئے منافع پر ٹیکس کریڈٹ ملتا ہے۔ یہ سہولت ایک ذاتی گھر (2500 مربع فٹ رقبے تک) یا ایک فلیٹ (2000 مربع فٹ تک) کے لیے ہے، اور ایک بار حاصل کرنے کے بعد اگلے 15 سال تک کسی دوسرے گھر یا فلیٹ پر یہ سہولت نہیں ملے گی۔ (سیکشن 63A، انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے مطابق) خیرات اور عطیات منظور شدہ فلاحی اداروں، سرکاری اسپتالوں، اسکولوں یا یونیورسٹیوں کو دیے گئے عطیات پر ٹیکس کریڈٹ ملتا ہے، بشرطیکہ نقد عطیہ کراسڈ چیک کے ذریعے دیا گیا ہو۔ (سیکشن 61، انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے مطابق) زکوٰۃ زکوٰۃ و عشر آرڈیننس 1980 کے تحت ادا کی گئی زکوٰۃ آپ کی قابلِ ٹیکس آمدنی سے منہا ہو جاتی ہے۔ (سیکشن 60، انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے مطابق) میڈیکل الاؤنس اگر آپ کا ادارہ مفت علاج یا علاج کے اخراجات کی واپسی کی سہولت نہیں دیتا تو بنیادی تنخواہ کے 10 فیصد تک میڈیکل الاؤنس ٹیکس سے مستثنیٰ ہے۔ (دوسرا شیڈول، حصہ اول، شق (139)(b)، انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے مطابق) سب سے اہم بات: پنشن اسکیم اور عطیات کی رسیدیں اپنے ادارے کو دیں تاکہ ہر مہینے تنخواہ سے کم ٹیکس کٹے۔ باقی سہولیات کا دعویٰ انکم ٹیکس ریٹرن فائل کرتے وقت کریں۔ (سیکشن 149، انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کے مطابق) ان ٹیکس سہولیات سے فائدہ اٹھائیں اور اپنا انکم ٹیکس گوشوارہ جلد از جلد جمع کروائیں۔ نوٹ: مذکورہ بالا تمام سہولیات کا حصول متعلقہ سیکشنز میں درج شرائط اور حدود سے مشروط ہے۔ (شرائط لاگو ہیں)
50
205
8
592
88,047
𝕸𝖚𝖍𝖆𝖒𝖒𝖆𝖉 𝕬𝖘𝖑𝖆𝖒 retweeted
پرانی بات ہے ایک کمزور سے لڑکے کو کچھ عجیب ہذیان زدہ دورہ پڑا اُس کی ماں اسے کیا قابو کرتی ہم چار لڑکوں سے وہ کنٹرول نہیں ہو رہا تھا لگتا تھا جیسے کوئی جناتی قوت اُس میں آگئی ہو وہ ہمارے قابو میں ہی نہیں آرہا تھا کچھ دیر میں جب دورہ کچھ کم ہوا تو وہ پرسکون ہوتا چلا گیا 1👈
3
4
25
8,044
𝕸𝖚𝖍𝖆𝖒𝖒𝖆𝖉 𝕬𝖘𝖑𝖆𝖒 retweeted
ایک شخص اپنی بیوی پر بدکاری کا الزام لے کر رسول اللہ ﷺ کے پاس پہنچا۔ اس کے پاس چار گواہ نہیں تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’ثبوت پیش کرو، ورنہ تم پر حد ہوگی۔‘‘ وہ شخص حیران ہوا اور عرض کیا: ’’یا رسول اللہ ﷺ! اگر ہم میں سے کوئی اپنی بیوی کے ساتھ کسی مرد کو دیکھ لے تو کیا وہ چار گواہ تلاش کرنے چلا جائے؟‘‘ رسول اللہ ﷺ نے پھر فرمایا: ’’ثبوت پیش کرو، ورنہ تم پر حد ہوگی۔‘‘ یہ شخص حضرت ہلال بن اُمیہؓ تھے، اور انہوں نے اپنی بیوی پر شریک بن سحماء کے ساتھ بدکاری کا الزام لگایا تھا۔ پھر ہلالؓ نے کہا: ’’اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا، میں سچ کہہ رہا ہوں۔ اللہ ضرور ایسی وحی نازل فرمائے گا جو مجھے اس سزا سے بچا دے گی۔‘‘ چنانچہ حضرت جبرئیلؑ وحی لے کر آئے اور سورۂ نور کی آیات 6 تا 9 نازل ہوئیں۔ یہی وہ آیات ہیں جن میں لعان کا طریقہ بیان کیا گیا: شوہر چار مرتبہ اللہ کی قسم کھائے کہ وہ سچا ہے، اور پانچویں مرتبہ کہے کہ اگر وہ جھوٹا ہے تو اس پر اللہ کی لعنت ہو۔ اور بیوی کو بھی اپنا دفاع کرنے کا حق دیا گیا: وہ چار مرتبہ اللہ کی قسم کھائے کہ شوہر جھوٹا ہے، اور پانچویں مرتبہ کہے کہ اگر شوہر سچا ہے تو اس پر اللہ کا غضب ہو۔ ذرا رک کر اس واقعے کو دیکھیں۔ شوہر تھا، مگر اس کا دعویٰ خود بخود ثبوت نہیں بن گیا۔ غصہ ثبوت نہیں۔ شک ثبوت نہیں۔ بدگمانی ثبوت نہیں۔ اور محض الزام کسی عورت کو مجرم نہیں بنا دیتا۔ اسلام نے یہاں ایک انتہائی سخت راستہ رکھا۔ لعان۔ یعنی معاملہ لوگوں کی افواہوں کے حوالے نہیں کیا گیا، بلکہ دونوں فریقوں کو اللہ کو گواہ بنا کر قسمیں کھانے کے مرحلے تک پہنچایا گیا۔ رسول اللہ ﷺ نے دونوں کو متنبہ کرتے ہوئے فرمایا کہ: ’’اللہ جانتا ہے کہ تم دونوں میں سے ایک جھوٹا ہے، کیا تم میں سے کوئی توبہ کرنا چاہتا ہے؟‘‘ پانچویں قسم کے وقت عورت کچھ دیر جھجکی۔ لوگوں نے اسے متنبہ کیا کہ یہ بہت سنگین قسم ہے۔ پھر اس نے اپنی قسم پوری کی۔ اور اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے دونوں کے درمیان جدائی کرا دی۔ صحیح بخاری میں اس جدائی کا واضح ذکر موجود ہے۔ یہاں اسلام کا ایک انتہائی گہرا اصول سامنے آتا ہے: ازدواجی تعلق کسی انسان کو دوسرے کی عزت پامال کرنے کا اختیار نہیں دیتا۔ اگر الزام ہے تو ثبوت چاہیے۔ اگر چار گواہ نہیں تو شوہر کے لیے بھی معاملہ محض دعوے پر ختم نہیں ہوتا۔ اور عورت کو بھی صرف الزام کی بنیاد پر مجرم قرار نہیں دیا جاتا۔ آج کے زمانے میں اس سبق کی اہمیت شاید پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔ ایک جھوٹا میسج، ایک ایڈٹ شدہ تصویر، ایک بے بنیاد پوسٹ، ایک افواہ، اور کسی انسان کی برسوں کی عزت چند گھنٹوں میں تباہ ہو سکتی ہے۔ اس لیے کسی کی پاک دامنی، کردار یا عزت کے بارے میں زبان کھولنے سے پہلے رک جائیں۔ کیا آپ کے پاس حقیقت ہے، یا صرف گمان؟ کیونکہ دنیا کے سامنے انسان اپنی بات منوا سکتا ہے۔ اپنے خاندان کو دھوکا دے سکتا ہے۔ لوگوں کو قائل کر سکتا ہے۔ مگر اللہ کو نہیں۔ لعان کا سب سے بڑا سبق شاید یہی ہے: کسی انسان کی عزت کے بارے میں ایسا لفظ نہ کہو جس کا جواب تمہیں ایک دن اللہ کے سامنے دینا پڑے۔ ماخذ: سورۂ نور، 24:6–9؛ صحیح بخاری، 4747، 5313، 5314۔
4
28
55
5,957
𝕸𝖚𝖍𝖆𝖒𝖒𝖆𝖉 𝕬𝖘𝖑𝖆𝖒 retweeted
اگر آپ نے جلدی بوڑھا ہونا ہے، چہرے پر جھریاں لانی ہیں، اپنے دل گردے جگر پتے کو جلدی ختم کرنا ہے تو ایک کام کیجئے۔ جتنا ہوسکے میٹھی چیزیں کھائیں۔ چینی کھائیں۔ گڑ کھائیں۔ (جعلی) شہد کھائیں۔ آئیس کریم اور کیک کھائیں۔ فریش جوس پیں۔ پیپسی سے لطف اندوز ہوں۔ حلوہ کھائیں۔ کھیر چخیں۔ جلیبیاں نوش جان فرمائیں۔ آپ جلد اپنا ہدف حاصل کر لیں گے۔ اور آسانی سے پندرہ بیس سال آگے چلے جائیں گے۔ دنیا کی مشہور گلوکوز ماہر sugar expert، فرانسیسی بائیو کیمسٹ جیسی انچاوسپے Jessie Inchauspé کی گفتگو کا خلاصہ یقین کریں مجھے اس کا کوئی اندازہ نہيں تھا کہ میٹھا اتنا تباہ کن ہے۔ 😢😢😢😢😢
94
1,153
22
4,014
209,654
𝕸𝖚𝖍𝖆𝖒𝖒𝖆𝖉 𝕬𝖘𝖑𝖆𝖒 retweeted
اپنی بیٹی کو یہ 6 باتیں آج ہی بتا دیں .... دنیا باہر اس کا امتحان لے گی۔ اور اس امتحان میں رزلٹ نہیں، عزت اور زندگی کا سوال ہو گا۔ صرف محبت کافی نہیں ہے۔ انہیں عملی طور پر یہ 6 اصول سکھانا ہوں گے 👇 **1. رات کسی کے گھر نہ رکیں** "پارٹی ہے، گھر ہی سو جاتے ہیں" نہیں۔ اپنی بیٹی کا گھر ہی اس کی سب سے محفوظ جگہ ہے۔ **2. انجان کے ساتھ گاڑی میں نہ بیٹھیں** چاہے وہ کتنا ہی "اچھا" کیوں نہ لگے۔ چاہے وہ دوست کا دوست ہی کیوں نہ ہو۔ Rule سیدھا ہے: جانتے نہیں = ساتھ نہیں۔ **3. اپنا گلاس نظر سے اوجھل نہ ہونے دیں** اگر پانی کا گلاس، جوس یا کافی چھوڑ کر اٹھیں... واپس آ کر نیا لیں۔ چھوڑا ہوا کبھی دوبارہ نہ پئیں۔ **4. مردوں سے تحفے ہوشیاری سے لیں** ہر مفت چیز مہنگی پڑتی ہے۔ تحفہ، مدد، تعریف... ہر چیز کے پیچھے نیت دیکھیں۔ "Carelessly" قبول کرنا سب سے بڑی غلطی ہے۔ **5. ہر کمزور شخص مدد کا مستحق نہیں** کچھ لوگ "بیچارہ" بن کر قریب آتے ہیں۔ ہمدردی اچھی ہے، لیکن اندھا اعتماد خطرناک ہے۔ پہلے سوچیں، پھر مدد کریں۔ **6. برے لوگوں کے حلقے میں شامل نہ ہوں** اگر آپ کی دوست غلط سنگت میں ہے... تو اسے بچانے کے چکر میں خود نہ ڈوب جائیں۔ Circle بدلنا پڑے تو بدل لیں۔ عزت پہلے ہے۔ --- بیٹیاں کمزور نہیں ہوتیں۔ بس انہیں دنیا کے اصول پہلے سے بتا دیں۔
16
236
3
658
31,619
𝕸𝖚𝖍𝖆𝖒𝖒𝖆𝖉 𝕬𝖘𝖑𝖆𝖒 retweeted
شادی شدہ لوگ ذرا یہ ضرور پڑھیں۔ ❤️ گھر ::: ایک جنت ✍️ ایک خاتون مصنفہ ویلنسیا لکھتی ہیں کل رات میرے شوہر سے کچن میں ایک گلاس گر گیا اور وہ ٹوٹ گیا۔ مجھے زور سے آواز آئی، مگر میں نے دیکھا نہیں کہ کیا ہوا۔ انہوں نے صفائی کی، جھاڑو دیا، ٹوٹے ہوئے شیشے سمیٹے اور اطمینان کر کے سو گئے۔ رات کو جب میری آنکھ کھلی تو میں کسی کام سے کچن میں گئی۔ وہاں مجھے فرش پر شیشے کے دو تین ٹکڑے نظر آئے۔ پہلا احساس غصہ تھا۔ دل میں آیا "اتنی سی بات بھی ٹھیک سے نہیں کر سکتے؟ اگر بچے ننگے پاؤں آ جاتے تو؟" میں سوچ رہی تھی کہ انہوں نے کتنی لاپرواہی کی ہے، مگر پھر اندر سے ایک سوال آیا "کیا تم اس کی شریکِ حیات نہیں ہو؟" میں رک گئی۔ میں نے دوبارہ جھاڑو اٹھایا۔ فرش صاف کیا۔ ہر کونے کو دیکھا کہ کہیں شیشے کا کوئی ٹکڑا باقی نہ رہ گیا ہو۔ اور پھر مجھے ایک بات سمجھ آئی۔ یہی تو شادی ہے۔ شادی میں ہمیشہ یہ نہیں دیکھا جاتا کہ دوسرے نے کیا غلط چھوڑ دیا۔ کبھی یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ اس نے اپنی پوری کوشش کی، لیکن کچھ کمی رہ گئی۔ اور جہاں اس کی کمی ہو، وہاں آپ اس کا ہاتھ پکڑ کر وہ کمی پوری کر دیں۔ وہ ہمیشہ کامل نہیں ہوگا۔ آپ بھی ہمیشہ کامل نہیں ہوں گی۔ کبھی آپ تھک جائیں گی، وہ آپ کا سہارا بنے گا۔ کبھی وہ غلطی کرے گا، آپ اسے سنبھال لیں گی۔ کبھی وہ کوئی کام ادھورا چھوڑ دے گا، آپ اسے مکمل کر دیں گی۔ اور کبھی آپ سے کوئی چیز چھوٹ جائے گی، وہ بغیر شکایت کے اسے ٹھیک کر دے گا۔ سچا شریکِ حیات وہ نہیں جو ہر وقت دوسرے کی غلطیاں گنے۔ سچا شریکِ حیات وہ ہے جو دیکھے کہ کہاں کمی رہ گئی ہے اور خاموشی سے اسے پورا کر دے۔ ہر وقت شکایت کرنے کا وقت نہیں ہوتا۔ کبھی کبھی شادی میں شکایت نہیں، کمی کو پورا کرنا محبت ہوتا ہے۔ ❤️ کیونکہ گھر میں "میں نے اپنا کام کر دیا، اب باقی تم جانو" والی سوچ رشتوں کو کمزور کرتی ہے۔ مگر یہ سوچ کہ "جہاں تم سے رہ گیا، وہاں میں سنبھال لوں گا۔" یہی سوچ گھر کو صرف مکان نہیں بلکہ گھر بناتی ہے۔ شادی دو پرفیکٹ انسانوں کا نام نہیں۔ شادی دو نامکمل انسانوں کا ایک دوسرے کی کمی پوری کرنے کا نام ہے۔ اگر آپ شادی شدہ ہیں تو یہ پوسٹ اپنے شریکِ حیات کو بھیجیں۔ ❤️
11
46
3
169
16,223
𝕸𝖚𝖍𝖆𝖒𝖒𝖆𝖉 𝕬𝖘𝖑𝖆𝖒 retweeted
ڈاکٹر ثمرینہ آپ بھی اس شعبہ سے ہیں ۔پلیز اس کیس کے حوالے سے اپنی رائے دیجیئے ۔ کیا ایسا ممکن ہے جو یہ ڈاکٹر کہہ رہی ہے ؟ @samrinahashmi
🔹 یہ بےرحم لیڈی ڈاکٹر خود بھی ماں ہوگی لیکن کس قدر روانی سے جھوٹ بول رہی ہے ۔ 🔹ایک عورت کا حاملہ ہونا نو مہینے کا پراسس ہے ، کئ بار ڈاکٹر لے پاس جانا ہوتا ہے ، الٹرا ساؤنڈ ہوتے ہیں ، دوائیں یا وٹامنز دیئےجاتے ہیں۔ 🔹 گیس نو مہینے تک ایک توازن کے ساتھ پیٹ میں نہیں رہتی ۔۔ اگر کوئ مہذب مُلک ہوتا تو اس ڈاکٹر کا لائسنس کینسل ہو جاتا اور جیل میں ہوتی ۔
23
37
2
153
22,677
𝕸𝖚𝖍𝖆𝖒𝖒𝖆𝖉 𝕬𝖘𝖑𝖆𝖒 retweeted
میرا ماموں پیشاب والی جگہ کبھی پیچھے ڈالتا تھا قوم کی معصوم بیٹی 😭😭 پاکستان میں بڑھتے ہوئے بچوں کے ساتھ Incest کے کیس پر ماریہ بی کا والدین اور قوم کے نام بہترین پیغام آو سب مل کر اس ناسور سے مل کر مقابلہ کریں اور اس کو پاکستان سے باہر پھینک دیں xitter.cf/RealMariaButt/status/2…
We have to protect our kids ourselves!!! Crime against children is rising on a daily basis and a lack of accountability and punishment is making it worse. Our society is full of predators... please 🙏 talk to your children, watch over them, Take their phones away and raise awareness about family ra*e and m*lestati*n... May Allah protect our children from this rampant Evil . Ameen
27
334
4
948
515,400
𝕸𝖚𝖍𝖆𝖒𝖒𝖆𝖉 𝕬𝖘𝖑𝖆𝖒 retweeted
اللہ بندے کو سزا کیوں دیتا ہے؟ مجھے اس سوال کا ایسا جواب ملا کہ آج تک مطمئن ہوں ہمارے ویٹنری ڈپارٹمٹ کے پروفیسر ہوا کرتے تھے ____ میرے اُن سے اچھے مراسم تھے یہ یو نیورسٹی میں میرا تیسرا سال تھا ایک دفعہ میں انکے دفتر گیا۔ مجھ سے کہنے لگے: مہرعلی اک مزے کی بات سناؤں تمہیں؟ ؟ جی سر ضرور پچھلے ہفتے کی بات ہے میں اپنے دفتر می‍ں بیٹھا تھا اچانک اک غیر معمولی نمبر سے مجھے کال آئی: "پندرہ منٹ کے اندر اندر اپنی سراونڈگنز کی کلیئرنس دیں!""________ ٹھیک پندرہ منٹ بعد پانچ بکتر بند گاڑیاں گھوم کے میرے آفس کے اطراف میں آکر رکیں سول وردی میں ملبوس تقریباً حساس اداروں کے لوگ دفتر می‍ں آئے ایک آفیسر آگے بڑھا _____ " """'"امریکہ کی سفیر آئی ہیں ____ انکے کتے کو پرابلم ہے اسکا علاج کریں ___"""" تھوڑی دیر بعد اک فرنگی عورت انکے ساتھ انکا ایک اعلی' نسل کا کتا بھی تھا __ کہنے لگیں ____ میرے کتے کے ساتھ عجیب و غریب مسئلہ ہے میرا کتا نافرمان ہوگیا ہے ____ اسے میں پاس بلاتی ہوں یہ دور بھاگ جاتا ہے خدارا کچھ کریے یہ مجھے بہت عزیز ہے اسکی بےاعتنائی مجھ سے سہی نہیں جاتی میں نے کتے کو غور سے دیکھا ___ پندرہ منٹ جائز لینے کے بعد میں نے کہا میم!! یہ کتا ایک رات کے لیے میرے پاس چھوڑ دیں میں اسکا جائزہ لے کے حل کرتا ہوں اس نے بے دلی سے حامی بھرلی _______ سب چلے گئے ____ میں نے کمدار کو آوز لگائی فیضو اسے بھینسوں والے باڑے میں باندھ کے آ۔۔۔ سن اسے ہر آدھے گھنٹے بعد چمڑے کے لتر مار۔۔ ہر آدھے گھنٹے بعد صرف پانی ڈالنا ___ جب پانی پی لے تو پھر لتر مار______!!! کمدار جٹ آدمی تھا۔ ساری رات کتے کے ساتھ لتر ٹریٹ منٹ کرتا رہا ______ صبح میں پورا عملہ لیئے میرے آفس کے باہر سفیر زلف پریشاں لیئے آفس میں آدھمکی ________Sir what about my pup ? I said ___Hope your pup has missed you too ..... کمدار کتے کو لے آیا ____ جونہی کتا کمرے کے دروازے میں آیا چھلانگ لگا کے سفیر کی گود میں آبیٹھا لگا دم ہلانے منہ چاٹنے ________!!! کتا مُڑ مڑ تشکر آمیز نگاہوں سے مجھے تکتا رہا _____ میں گردن ہلا ہلا کے مسکراتا رہا_____ سفیر کہنے لگی: سر آپ نے اسکے ساتھ کیا کیا کہ اچانک اسکا یہ حال ہے _____؟؟؟ میں نے کہا: ریشم و اطلس ، ایئر کنڈیشن روم، اعلی پائے کی خوراک کھا کھا کے یہ خودکو مالک سمجھ بیٹھا تھا اور اپنے مالک کی پہچان بھول گیا ____بس اسکا یہ خناس اُتارنے کے لیئے اسکو ذرا سائیکولوجیکل + فیزیکل ٹریٹمنٹ کی اشد ضروت تھی ____وہ دیدی۔۔۔ ناؤ ہی از اوکے Now he is ok Apart from the humour, Now read the first sentence again to understand the message اللہ بندے کو سزا کیوں دیتا ہے؟ مجھے اس سوال کا ایسا جواب ملا کہ آج تک مطمئن ہوں
5
16
58
1,512