حرف مزاحم retweeted
نئے صوبے بننے سے حکومت اور عوام کے درمیان کا فاصلہ ختم ہوسکتا ہے، کسی چیز کی سہولت نہیں نظام ناکام ہوگیا، نیا نظام آنا چاہیے، ہمارے مستقبل کیلیے، صحت تعلیم کیلیے نیا نظام آنا ضروری ہے، سندھ کے شہریوں کا نئے صوبوں اور نظام کا مطالبہ
#ZarayeNews #Karachi #NayaNizam
فقیر کا کاسہ، مہاجر کا سوال اور سندھ کا المیہ
عید کا دن تھا۔ کراچی کی ایک سڑک کے کنارے اندرونِ سندھ سے آیا ہوا ایک فقیر بیٹھا تھا۔ ہاتھ میں کشکول، جسم پر بوسیدہ کپڑے اور چہرے پر زمانے بھر کی تھکن تھی۔ کراچی کا ایک مہاجر نوجوان اس کے قریب سے گزرا تو فقیر نے آواز دی:
’’بچہ! اللہ تیرا بھلا کرے، آج عید کا دن ہے۔ اللہ تجھے خوش رکھے، تیرے رزق میں برکت دے، ہماری بھی عید کروا دے۔ کشکول خالی ہے، کچھ ڈال دے۔ زیادہ نہیں، بس سو روپے دے دے۔‘‘
نوجوان رکا، فقیر کو دیکھا اور بولا:
’’بابا سائیں! اگر میرے پاس دینے کو ہوتا تو سو کیا، ہزار دے دیتا۔ آپ کے کشکول میں نوٹ ہی نوٹ بھر دیتا۔ مگر آپ بھی کیا کریں، میں کراچی کا مہاجر نوجوان ہوں۔ میرے پاس مستقبل کے خواب ہیں، مگر ان خوابوں کی تعبیر نہیں۔ ڈگری ہے، مگر روزگار نہیں۔ صلاحیت ہے، مگر مواقع نہیں۔ ٹیکس دیتا ہوں، مگر بنیادی سہولتوں کے لیے ترستا ہوں۔ شہر کماتا ہے، مگر شہر ہی اپنے حصے کے پانی، ٹرانسپورٹ، صفائی اور بہتر زندگی کے لیے محتاج ہے۔
حکومتیں بدلتی ہیں، چہرے بدلتے ہیں، نعرے بدلتے ہیں، مگر کراچی کی قسمت نہیں بدلتی۔ ہر انتخاب سے پہلے یہ شہر پاکستان کی معاشی شہ رگ بن جاتا ہے، اور انتخابات کے بعد اس کے زخموں پر وعدوں کی پٹیاں باندھ دی جاتی ہیں۔‘‘
فقیر نے افسردگی سے کہا:
’’بچہ! تم تو پڑھے لکھے معلوم ہوتے ہو۔ تمہیں کس بات کا دکھ ہے؟ عید کا دن ہے، خوشی مناؤ، اللہ کا شکر ادا کرو۔‘‘
نوجوان ہنس پڑا۔
’’بابا سائیں! خوشی منانے سے کس نے روکا ہے؟ مگر خوشی منانے کے لیے زندگی میں کچھ خوشی بھی تو ہونی چاہیے۔ آپ عید پر کشکول لے کر بیٹھے ہیں، ہم عید پر بجلی، پانی، مہنگائی اور بے روزگاری کے بل گن رہے ہیں۔ آپ کے پاس مانگنے کے لیے کشکول ہے، ہمارے پاس شکایت کرنے کے لیے سوشل میڈیا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ آپ کے کشکول میں کبھی کوئی سکہ گر جاتا ہے، ہماری شکایتوں کے جواب میں اکثر کوئی نیا وعدہ آ گرتا ہے۔
آپ اندرونِ سندھ سے آئے ہیں، میں کراچی کا رہنے والا ہوں۔ آپ کو غربت نے یہاں پہنچایا ہے، ہمیں شہر کے وسائل پر اختیار نہ ہونے نے بے بس کر رکھا ہے۔ آپ اپنے حصے کی خیرات مانگ رہے ہیں، ہم اپنے شہر کے حصے کا حق مانگ رہے ہیں۔‘‘
فقیر نے قدرے خفگی سے کہا:
’’بچہ! تم کراچی والے ہر وقت اپنے حق کی بات کرتے ہو۔ سندھ تمہارا بھی ہے۔ یہ دھرتی تمہیں قبول کر چکی ہے۔ تم اپنے آپ کو مہاجر کیوں کہتے ہو؟ تم سندھی کیوں نہیں بن جاتے؟‘‘
نوجوان نے سنجیدگی سے جواب دیا:
’’بابا سائیں! سندھ سے محبت کرنے کے لیے اپنی تاریخ سے انکار کرنا ضروری نہیں۔ کراچی ہمارا گھر ہے، سندھ ہماری سرزمین ہے اور پاکستان ہمارا ملک ہے۔ ہم نے پاکستان کو اپنا وطن بنایا، کراچی کو اپنا گھر بنایا اور اس شہر کی تعمیر میں اپنی محنت، ہنر، سرمایہ اور صلاحیتیں لگائیں۔
ہمیں اپنی شناخت سے محبت ہے، مگر اپنی شناخت کی بنیاد پر کسی دوسرے کی حق تلفی کا حق نہیں مانگتے۔ ہم سندھی زبان بولنے والوں کے دشمن نہیں، ہم کسی قوم کے مخالف نہیں۔ ہم تو صرف یہ پوچھتے ہیں کہ اگر سندھ ہم سب کا ہے تو اس کے وسائل، اختیارات اور مواقع پر سب کا منصفانہ حق کیوں نہیں؟
اگر سندھ کی وحدت کا مطلب یہ ہے کہ اقتدار چند ہاتھوں میں رہے، کراچی کے فیصلے کہیں اور ہوں اور شہر کے شہری اپنے بنیادی مسائل کے حل کے لیے بھی دوسروں کے محتاج رہیں، تو پھر بابا سائیں، اس وحدت کے نعرے سے عام آدمی کو کیا ملتا ہے؟
ہمیں نقشے پر لکیر نہیں، زندگی میں تبدیلی چاہیے۔ ہمیں کسی کی زمین نہیں چاہیے، ہمیں اپنے شہر پر اختیار چاہیے۔ ہمیں کسی کی زبان مٹانی نہیں، ہمیں اپنی آواز دبنے سے بچانی ہے۔‘‘
فقیر نے اپنی داڑھی پر ہاتھ پھیرا اور بولا:
’’بچہ! تم تو بڑی بڑی باتیں کرتے ہو۔ مگر سندھ کی تاریخ، اس کی ثقافت، اس کی زبان اور اس کی وحدت کا بھی تو کوئی مقام ہے۔ کیا تم چاہتے ہو کہ سندھ کے ٹکڑے ہو جائیں؟‘‘
نوجوان نے کہا:
’’بابا سائیں! تاریخ کا احترام اپنی جگہ، مگر تاریخ کو موجودہ نسلوں کے لیے سزا نہیں بنایا جا سکتا۔ سندھ کی ثقافت، اس کی زبان اور اس کی تہذیب ہماری مشترکہ میراث ہیں۔ لیکن ثقافت کے احترام اور انتظامی اختیارات کی تقسیم میں کوئی تضاد نہیں۔
پاکستان کے دوسرے صوبے بھی انتظامی اکائیاں ہیں۔ ان کی حدود کے اندر اضلاع، ڈویژن اور مقامی حکومتیں بنتی ہیں۔ کیا اس سے پاکستان ٹوٹ جاتا ہے؟ کیا نئے انتظامی انتظامات سے کسی علاقے کی زبان ختم ہو جاتی ہے؟ کیا کسی شہر کو بہتر انتظام دینے سے اس کی ثقافت مٹ جاتی ہے؟
پھر کراچی کے لیے انتظامی اختیارات اور مؤثر بلدیاتی نظام کی بات آتے ہی سندھ کی وحدت خطرے میں کیوں پڑ جاتی ہے؟
1/3
پاکستان کی وحدت صرف صوبوں کی موجودہ حدود سے نہیں، شہریوں کے مساوی حقوق، انصاف، آئینی تحفظ اور ریاست پر اعتماد سے مضبوط ہوتی ہے۔ اگر ایک شہر کی آبادی، معیشت اور ضروریات بہت بڑی ہوں تو اس کے انتظامی ڈھانچے کو بھی ان کے مطابق ہونا چاہیے۔
بابا سائیں! سندھ کی وحدت کا مطلب یہ نہیں ہونا چاہیے کہ کراچی کے مسائل کا فیصلہ کراچی کے شہری نہ کر سکیں۔‘‘
فقیر نے کشکول کو زمین پر رکھا اور قدرے تلخی سے بولا:
’’بچہ! تمہیں معلوم نہیں، یہاں سیاست کیسے ہوتی ہے۔ یہاں دھرتی کے نام پر ووٹ لیے جاتے ہیں، قوم کے نام پر اقتدار حاصل کیا جاتا ہے، اور پھر ہر کوئی اپنے اپنے حصے کی دیگ پکاتا ہے۔ تم اختیار مانگتے ہو، مگر اختیار دینے والے اپنے ہاتھ سے اقتدار کی چابی کیوں چھوڑیں گے؟‘‘
نوجوان نے کہا:
’’بابا سائیں! یہی تو المیہ ہے۔ یہاں عوام کو شناخت کے نام پر لڑایا جاتا ہے اور اقتدار کے ایوانوں میں مفادات کے سودے ہوتے ہیں۔ غریب سندھی بھی محروم ہے، غریب مہاجر بھی محروم ہے، غریب بلوچ، پشتون، پنجابی، کچھی اور میمن بھی اپنے اپنے مسائل سے لڑ رہے ہیں۔
کراچی میں رہنے والا ہر شخص کسی نہ کسی امید کے ساتھ اس شہر سے جڑا ہوا ہے۔ کوئی یہاں مزدوری کرنے آیا، کوئی کاروبار کے لیے، کوئی تعلیم کے لیے، کوئی اپنے خاندان کا پیٹ پالنے کے لیے۔ یہ شہر مختلف زبانوں، ثقافتوں اور برادریوں کا مجموعہ ہے۔
مگر مسئلہ یہ ہے کہ کراچی کے شہریوں کو ایک مشترکہ شہری شناخت کے تحت اپنے مسائل حل کرنے کا موقع ہی نہیں دیا جاتا۔ پانی سب کو چاہیے، ٹرانسپورٹ سب کو چاہیے، روزگار سب کو چاہیے، صاف سڑکیں اور بہتر اسپتال سب کو چاہییں۔ لیکن جب ان مسائل کے حل کے لیے اختیارات کی بات ہوتی ہے تو بحث کو قوم، زبان اور دھرتی کی جنگ بنا دیا جاتا ہے۔
بابا سائیں! کیا غریب سندھی کو پانی دینے کے لیے بھی کسی وڈیرے کی اجازت درکار ہونی چاہیے؟ کیا کراچی کے کسی محلے کی سڑک بنانے کے لیے بھی شہریوں کو سیاسی آقاؤں کے دروازے پر کھڑا ہونا چاہیے؟
یہ کون سا نظام ہے جس میں عوام ووٹ دیتے ہیں، مگر اپنے روزمرہ کے معاملات پر اختیار نہیں رکھتے؟‘‘
فقیر نے ایک گہری سانس لی۔
’’بچہ! تمہاری باتوں میں وزن تو ہے، مگر یہ بتاؤ کہ تم پاکستان سے کیا چاہتے ہو؟‘‘
نوجوان نے فوراً جواب دیا:
’’پاکستان سے وہی چاہتے ہیں جس کا وعدہ اس کے قیام کے وقت کیا گیا تھا: مساوی شہریت، انصاف، تحفظ اور ترقی کے مواقع۔
ہمیں ایسا پاکستان چاہیے جہاں کسی شہری کی قسمت اس کی زبان، ذات، نسل یا جائے پیدائش سے طے نہ ہو۔ جہاں کسی صوبے کے وسائل پر چند خاندانوں کی اجارہ داری نہ ہو۔ جہاں کراچی کی معاشی اہمیت کو صرف ٹیکس وصول کرنے کے لیے یاد نہ کیا جائے بلکہ اس شہر کے شہریوں کی زندگی بہتر بنانے کے لیے بھی تسلیم کیا جائے۔
ہمیں ایسا سندھ چاہیے جہاں اندرونِ سندھ کا کسان جاگیردار کے خوف سے آزاد ہو، جہاں دیہی نوجوان کو معیاری تعلیم اور روزگار ملے، جہاں شہری نوجوان کو میرٹ پر آگے بڑھنے کا موقع ملے اور جہاں کسی کو اپنا حق مانگنے پر غدار، اجنبی یا دشمن نہ کہا جائے۔
ہمیں ایسا کراچی چاہیے جہاں منتخب شہری حکومت کے پاس وسائل بھی ہوں اور اختیارات بھی، جہاں بلدیاتی ادارے آئینی تحفظ کے ساتھ کام کریں، جہاں پانی کی تقسیم، ٹرانسپورٹ، صفائی، شہری منصوبہ بندی اور مقامی ترقی کے فیصلے مؤثر طور پر مقامی سطح پر کیے جا سکیں۔
اور اگر موجودہ انتظامی ڈھانچہ ان ضروریات کو پورا نہیں کر سکتا تو پھر نئے انتظامی یونٹس پر آئینی اور جمہوری طریقے سے بحث کیوں نہیں ہو سکتی؟
صوبے یا انتظامی اکائیاں بنانا بذاتِ خود کسی قوم سے دشمنی نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کون سا نظام عوام کو زیادہ بہتر حکمرانی، زیادہ جواب دہی اور زیادہ مساوی مواقع فراہم کرتا ہے۔‘‘
فقیر نے نوجوان کو غور سے دیکھا اور بولا:
’’بچہ! تم تو میرے کشکول سے بھی بڑا سوال اٹھا رہے ہو۔ میں تو دو وقت کی روٹی مانگتا ہوں، تم پورے نظام سے جواب مانگ رہے ہو۔‘‘
نوجوان مسکرایا:
’’بابا سائیں! آپ دو وقت کی روٹی مانگتے ہیں کیونکہ آپ کے پاس اسے کمانے کے وسائل نہیں۔ ہم اختیار مانگتے ہیں کیونکہ ہمارے شہر کے پاس وسائل ہونے کے باوجود شہری اپنی بنیادی ضروریات کے لیے ترستے ہیں۔
آپ کا کشکول خالی ہے، ہمارا شہر امکانات سے بھرا ہوا ہے، مگر ان امکانات کو شہریوں کی خوش حالی میں بدلنے کا نظام کمزور ہے۔
آپ کے پاس غربت کی داستان ہے، ہمارے پاس محرومیوں کا حساب ہے۔ آپ کو خیرات چاہیے، ہمیں انصاف چاہیے۔ آپ کو روٹی چاہیے، ہمیں روزگار کے مواقع پیدا کرنے والا نظام چاہیے۔ آپ کو آج کا سہارا چاہیے، ہمیں آنے والی نسلوں کا مستقبل چاہیے۔
2/3
لیکن بابا سائیں! ایک بات یاد رکھیے گا: نہ آپ کی غربت میری خوش حالی کی دشمن ہے، نہ میری شناخت آپ کی ثقافت کی دشمن ہے۔ ہماری اصل دشمنی اس نظام سے ہونی چاہیے جو دونوں کو اپنے اپنے انداز میں محتاج رکھتا ہے۔‘‘
فقیر نے اچانک اپنے کشکول کو اٹھایا اور بولا:
’’اچھا بچہ! ایک آخری سوال۔ اگر تمہیں کراچی کا اختیار مل جائے تو کیا تم اندرونِ سندھ کو بھول جاؤ گے؟‘‘
نوجوان نے جواب دیا:
’’بابا سائیں! اگر ہم بھی وہی کریں جو آج ہمارے ساتھ ہو رہا ہے تو پھر ہمارے اور ان میں کیا فرق رہ جائے گا؟
کراچی کو اختیار دینے کا مطلب اندرونِ سندھ سے دشمنی نہیں۔ کراچی کو مضبوط بنانا پاکستان کی معیشت کو مضبوط بنانا ہے، اور اندرونِ سندھ کو تعلیم، صحت، زراعت، صنعت اور روزگار کے بہتر مواقع دینا پورے سندھ کو مضبوط بنانا ہے۔
ہم ایسا نظام چاہتے ہیں جس میں کراچی کا شہری اپنے شہر کے معاملات کا جواب اپنی منتخب مقامی حکومت سے مانگ سکے، اور اندرونِ سندھ کا کسان اپنے علاقے کے حکمرانوں سے جواب طلب کر سکے۔
ہم ایسا نظام چاہتے ہیں جس میں عوام حکمرانوں کے محتاج نہ ہوں بلکہ حکمران عوام کے سامنے جواب دہ ہوں۔
بابا سائیں! ہم کسی سے خیرات نہیں مانگتے۔ ہم اپنے حصے کا اختیار، اپنے حصے کا انصاف اور اپنے حصے کا مستقبل مانگتے ہیں۔‘‘
فقیر کچھ دیر خاموش رہا۔ پھر اس نے اپنے خالی کشکول میں جھانکا اور آہستہ سے بولا:
’’بچہ! آج عید ہے۔ لوگ ایک دوسرے کو گلے لگا رہے ہیں، مگر تم تو پورے نظام کو کٹہرے میں کھڑا کر رہے ہو۔‘‘
نوجوان نے جواب دیا:
’’بابا سائیں! گلے ملنے سے دلوں کی دوریاں ختم ہوتی ہیں، مگر ناانصافی ختم کرنے کے لیے نظام بھی بدلنا پڑتا ہے۔ صرف عید کے دن گلے ملنا کافی نہیں، سال کے باقی دنوں میں ایک دوسرے کے حقوق کا احترام بھی ضروری ہے۔
سندھ کی محبت کا تقاضا یہ ہے کہ سندھی کو بھی انصاف ملے اور مہاجر کو بھی۔ پاکستان کی محبت کا تقاضا یہ ہے کہ ہر شہری کو برابر کا حق ملے۔ کراچی سے محبت کا تقاضا یہ ہے کہ اس شہر کو اس کی آبادی، معاشی اہمیت اور شہری ضروریات کے مطابق بااختیار بنایا جائے۔
ہمیں ایسی عید نہیں چاہیے جس میں حکمرانوں کے دسترخوان بھرے ہوں اور عوام کے چولہے ٹھنڈے۔ ہمیں ایسا پاکستان چاہیے جہاں خوشی منانے کے لیے کسی کو دوسرے کا محتاج نہ ہونا پڑے۔‘‘
فقیر نے سر جھکا لیا۔
نوجوان نے اپنی جیب ٹٹولی۔ چند سکے نکلے۔ اس نے وہ فقیر کے کشکول میں ڈال دیے۔
فقیر نے حیرت سے پوچھا:
’’بچہ! ابھی تو تم کہہ رہے تھے کہ تمہاری جیب خالی ہے؟‘‘
نوجوان ہنس کر بولا:
’’بابا سائیں! جیب خالی تھی، مگر دل خالی نہیں تھا۔ یہ چند سکے آپ کی عید کے لیے ہیں۔ لیکن یاد رکھیے گا، ان سکوں سے آپ کی غربت ختم نہیں ہوگی۔ اس کے لیے ایسا نظام چاہیے جو آپ کو مانگنے کے بجائے کمانے کا موقع دے۔
اور کراچی کے لیے بھی یہی اصول ہے۔ اسے خیرات نہیں، اختیار چاہیے۔ اسے وعدے نہیں، جواب دہی چاہیے۔ اسے نعروں کی نہیں، بااختیار شہری حکمرانی کی ضرورت ہے۔‘‘
پھر نوجوان آگے بڑھ گیا۔
فقیر دیر تک اسے جاتا ہوا دیکھتا رہا۔ اس نے اپنے کشکول میں پڑے سکوں کو دیکھا، پھر دور کراچی کی بلند عمارتوں کی طرف نگاہ اٹھائی اور بڑبڑایا:
’’عجیب شہر ہے! یہاں کشکول بھی خالی ہیں اور اختیار کے ایوان بھی۔ فرق صرف اتنا ہے کہ ایک خالی کشکول والا بھیک مانگتا ہے، اور اختیار رکھنے والا اپنے اقتدار کو حق سمجھ کر بیٹھا رہتا ہے۔‘‘
نوجوان کی آواز دور سے سنائی دی:
’’بابا سائیں! جب تک عوام سوال نہیں کریں گے، حکمران جواب نہیں دیں گے۔ اور جب تک حکمران جواب دہ نہیں ہوں گے، سندھ بھی ادھورا رہے گا اور پاکستان بھی!‘‘
3/3
حرف مزاحم retweeted
In Pakistan a 14 year old girl kills her pet cat. In Stockholm a 15 year old stabs an elderly man. In Oregon, USA a 16 year old opens fire in an elementary school killing 3 people...all these cases are linked to a shadowy group called the 764 network dawn.com/news/2041504
حرف مزاحم retweeted
دنیا کے اس امیر ترین ملک کے صدر کا پروٹوکول! جو 86 کھرب 72 ارب روپے کا مقروض ہے۔ یعنی 8672 ارب روپے یا 86 لاکھ 72 ہزار کروڑ (86720000000000) روپے کا قرض دار۔
میں نے تو 46 گاڑیاں گن لیں۔ آپ بھی ٹرائی کرلیں۔ جن میں سے ہر گاڑی کئی کروڑ روپے مالیت کی ہے۔
یہ ملک ایسے ہی دنیا کے 195 ممالک میں نیچے سے 31ویں نمبر پر نہیں آیا۔ اسے غربت کی رینکنگ میں مسلسل ترقی دلانے کے لیے نہایت اخلاص کے ساتھ شبانہ روز محنت جاری ہے۔ وہ بھی عبادت سمجھ کر!
حرف مزاحم retweeted
Replying to @QindeelAzeem
یہ جو زرداری اور اس کا چھوکرا اپنے اقلیتی فرقے کو چھوڑ کے اس ملک کے اکثریتی چھیانوے فیصد لوگوں کو انتہائی حقارت کے ساتھ "ملا" کہہ کر پکارتا ہے، تقاریر میں ان کی تضحیک کرتا ہے کیا یہ مذہبی انتہا پسندی نہیں ہے؟؟؟؟؟
حرف مزاحم retweeted
جمہوریت کا قافلہ
یہ منظر کسی انگریزی فلم کا نہیں ہے جس میں کسی تباہ حال افریقی ملک اور اس کے حکمرانوں کے جاہ و جلال کی منظر کشی کی گئی ہو۔
بلکہ یہ سندھ میں جمہوریت کے قافلے کا ایک منظر ہے جو ایک ٹوٹی پھوٹی سڑک پر اپنے آب و تاب سے رواں دواں ہے۔
حرف مزاحم retweeted
پیپلز پارٹی کے ۱۸ سالہ دور حکمرانی میں جس طرح سرکاری ٹھیکوں میں ٹھیکیداروں نے رشوت دیکر ٹھیکوں میں جو اندھی مچائی ہے یہ اس کی چھوٹی سی ایک مثال ہے سندھ اس اندھی کرپشن سے بھرا پڑا ہے جب کبھی ۱۸ سالوں میں ۲۲۰۰۰ ارب کا حساب کوئی کرنا شروع کرے گا تو ان ظالم حکمرانوں کو چھپنے کی جگہ نہیں ملے گی۔ قیامت سے پہلے عوام کے پیسے کا کوئی حساب کرتا نظر نہیں آرہا اور ظالم کرپٹ حکمرانوں کو قیامت کا کوئی خوف نہیں۔شکر ہے سندھی بھائی اب خود حکمرانوں کی کرپشن دنیا کو دکھا رہے ہیں حکمرانوں کا دھرتی ماں والا چورن اب فیل ہوتا نظر آرہا ہے۔
اباڑو : 2 ارب 30 کروڑ روپے کا مکمل بجٹ پاس ہوا۔ یہ ٹھیکیدار پالش مار کر ٹھیکہ پکڑ کر غیرمعیاری کام کرتے ہیں اور پھر فرار، اینٹی کرپشن سے کاروائی کی گزارش۔
#SindhPolitics #Sindh #کراچی #انتظامی_یونٹ_تو_بنکر_رہیگا #SindhWantsAsministrativeUnits #OfficialDGISPR #DGISPR #Pakistan #Karachi
حرف مزاحم retweeted
کراچی میں نویں جماعت کے نتائج میں 50 ہزار بچوں کو فیل کردیا گیا •
کراچی کی انتظامیہ کراچی کے بچوں کی تعلیم کی دشمن بن چکی یے • شرم آنی چاہئے !
حرف مزاحم retweeted
A Karachi resident expresses frustration over Bahria Town management’s decision, claiming that vehicles, including those carrying schoolchildren, are being forced to wait for hours at the entrance.
#TOKReports
حرف مزاحم retweeted
صبح سندھ سالڈ ویسٹ والا بھی کچرا نالے میں پھینک رہا تو یہ ریسٹورنٹ والے کیسے پیچھے رہتے۔ ان سب کیخلاف ایکشن ہونا چاہیے
حرف مزاحم retweeted
کراچی کا وہ علاقہ جہاں
پیپلز پارٹی کا
یوسی ناظم
ٹاؤن ناظم
سٹی ناظم
اور پیپلز پارٹی کا وزیراعلی
اور پیپلز پارٹی کا ہی ایک اور روایتی ترقیاتی منصوبہ
حرف مزاحم retweeted
اباڑو : 2 ارب 30 کروڑ روپے کا مکمل بجٹ پاس ہوا۔ یہ ٹھیکیدار پالش مار کر ٹھیکہ پکڑ کر غیرمعیاری کام کرتے ہیں اور پھر فرار، اینٹی کرپشن سے کاروائی کی گزارش۔
حرف مزاحم retweeted
کراچی کے شہریوں کو اذیت دینا پیپلزپارٹی کا مشغلہ ہے، ایم ٹیگ کی جگہ ایم ای ٹیگ لگا کر عوام پر ذہنی اور معاشی تشدد کیا جارہا ہے۔
@MuradAliShahPPP
@murtazawahab1

















