غفران retweeted
This is not Indian occupied Kashmir or Israeli occupied Palestine. This is Rawalakot under the administration of Pakistan that claims the ambassador of Kashmiris.
#RightsMovementAJK
غفران retweeted
میری بیٹی اٹھائیس ماہ کی ہے۔ ابھی پوری طرح اور واضح الفاظ میں بات نہیں کر پاتی، البتہ کوشش کرے تو اپنی توتلی زبان میں کچھ نہ کچھ سمجھا ضرور دیتی ہے۔
گزشتہ روز میرے اور اس کے درمیان ہونے والا ایک مختصر سا مکالمہ آپ سے شیئر کرنا چاہتا ہوں۔
وہ مجھے کہنے لگی۔
بابا! آج فائرنگ بہت زیادہ ہے اور میں کمبل میں چھپی ہوئی ہوں۔"
میں نے پوچھا: آپ کمبل میں کیوں چھپی ہوئی ہیں؟
کہنے لگی: "فائرنگ دور دور حسام بھائی کے پاس بھیج دیتی ہے۔"
حسام بنارس شہید، میرے پڑوسی، جو اسی تحریک کے دوران 27 جولائی کو شہید ہوئے تھے۔
میری بیٹی تحریک کے نعرے سناتی ہے، اسے کور ممبران کے نام تک یاد ہیں۔ کسی کی تقریر لگا کر دیکھیں تو اکثر آواز پہچان کر بتا دیتی ہے کہ یہ فلاں کی تقریر ہے۔ یعنی اپنی عمر سے کہیں زیادہ اس ماحول اور اس کے کرداروں سے واقف ہو چکی ہے۔
یہ سب کچھ اس عمر میں ہے جب بچوں کی دنیا عموماً کھلونوں، کہانیوں اور معصوم شرارتوں تک محدود ہوتی ہے۔ مگر میری بیٹی کے ابتدائی شعور میں تحریک کے نعرے، لوگوں کے نام، شہادتیں اور فائرنگ کی آوازیں بھی شامل ہو چکی ہیں۔
بچپن دراصل وہ عمر ہے جب بچے اپنے اردگرد کی دنیا کو پہچاننا شروع کرتے ہیں۔ میری بیٹی بھی پہچان رہی ہے، فرق صرف اتنا ہے کہ اس کی ابتدائی یادداشتوں میں کھلونوں اور کہانیوں کے ساتھ تحریک کے نعرے، شہیدوں کے نام اور فائرنگ کی آوازیں بھی شامل ہو چکی ہیں۔ شاید وقت گزرنے کے ساتھ اسے ان سب باتوں کا مفہوم سمجھ آئے اور یہ مفہوم اب نسل در نسل بغاوت ہے۔
بقلم حماد اخلاق
#RightsMovementAJK
#JKJAAC
غفران retweeted
کم سن شہیدِ کشمیر، کیا ضمیر گنوارا کر سکتا ھیکہ وہ سکون سے گھر میں رہے اور بچے قربان ہوتے رہیں*
غفران retweeted
ہم 100 لاشیں اٹھا کر بھی دہشت گرد!
اور وہ 100 لاشیں گرا کر بھی معصوم!
اے منصف! تیری ایسی تحریر پہ لعنت!
غفران retweeted
سردار عمر نذیر کشمیری کا اہم پیغام*
گزشتہ روز جنوبی باغ میں ایک بڑا سانحہ پیش آیا، جہاں ایک ہی گھر کے چار افراد کو پاکستانی فورسز نے بے دردی سے شہید کیا۔ یہ سانحہ کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا۔
ہماری جدوجہد پُرامن ہے اور ہم عوامی طاقت کے ذریعے اس کا جواب دیں گے۔ ہم نے نہ پہلے اسلحہ اٹھایا اور نہ ہی اب ایسا کوئی ارادہ رکھتے ہیں۔
عوام الناس سے اپیل ہے کہ دھرنے کو مزید منظم کریں اور ناکہ بندی کریں۔ ان قاتلوں کو کسی صورت معاف نہیں کریں گے۔
سردار عمر نذیر کشمیری
ممبر جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی
غفران retweeted
پونچھ ڈویژن کے ضلع باغ کے نواحی علاقے میں مبینہ ڈرون/گرنیڈ حملہ، ایک ہی خاندان کے چار افراد شہید؛ کشمیریوں پر ریاستی جبر اور ظلم و ستم کا سلسلہ جاری
پاکستان کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کے ضلع باغ کے جنوب میں واقع گاؤں پندی ٹوپی میں ایک رہائشی مکان پر ہونے والے مبینہ فورسز کی بربریت کے نتیجے میں دھماکے سے ایک ہی خاندان کے چار افراد شہید جبکہ ایک بچی شدید زخمی ہو گئی ہے۔ اس دلخراش واقعے نے ایک بار پھر کشمیریوں پر جاری ظلم و ستم اور ریاستی جبر کو بے نقاب کر دیا ہے۔
مقامی ذرائع کے مطابق یہ لرزہ خیز واقعہ جمعرات کی شام سات سے آٹھ بجے کے درمیان پیش آیا۔ علاقے میں پاکستانی فورسز کی جارحیت اور مبینہ حملے کے نتیجے میں معصوم شہریوں کو نشانہ بنایا گیا، جس سے پورا خاندان اجڑ گیا۔ شکتر حسین ایک غریب محنت کش ہے جو پاکستان میں تندور پر کام کرتا ہے اور پچھلے تین سال سے حالات کی تنگدستی کی وجہ سے اپنے اہل و عیال سے نہیں مل سکا تھا۔
اس المناک واقعے میں شہید ہونے والے افراد کی شناخت: شازیہ شکتر (عمر تقریباً 38 سے 40 سال، زوجہ شکتر) نصیبہ بیگم والدہ شکتر (عمر تقریباً 75 سال) حارث شکتر (بیٹا، عمر تقریباً 11 سال) ملائکہ شکتر (بیٹی، عمر تقریباً 8 سال)
جبکہ اس سفاکانہ کارروائی میں شدید زخمی ہونے والی انیقہ شکتر (عمر تقریباً 17 سے 18 سال) کو فوری طور پر ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال باغ منتقل کیا گیا، جہاں سے اسے تشویشناک حالت اور سٹی سکین کے لیے مظفرآباد ریفر کر دیا گیا۔
اس علاقے سمیت پورے پاکستانی زیر انتظام کشمیر میں پچھلے پانچ ماہ سے انٹرنیٹ کی سہولیات میسر نہیں ہیں جس کے باعث تصاویر اور ویڈیوز میسر نہیں ہیں ۔
اس علاقے میں فورسز کا قبضہ ہے اور اس گھر کو جان بوجھ کر پاکستانی فورسز کی جانب سے نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس علاقے میں خواتین کی مزاحمت فورسز کو کئی بار پیچھے ہٹنے پر مجبور کر چکی ہے، اور اس واقعے میں زخمی ہونے والی بچی انیقہ شکتراس سے قبل بھی مزاحمت کے دوران فورسز کی شیلنگ سے زخمی ہو چکی ہے۔"
مقامی سطح پر اس واقعے کو کشمیری عوام کے حقوق اور ان کی پرامن مزاحمت کو کچلنے کے لیے پاکستانی فورسز کی ایک اور ظالمانہ کارروائی قرار دیا جا رہا ہے۔ عینی شاہدین اور سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ اس خطے میں فورسز کا گھیراؤ اور عام شہریوں کے گھروں کو نشانہ بنانا اس بات کا ثبوت ہے کہ کشمیریوں پر ظلم و ستم کا سلسلہ جاری ہے، اور پرامن شہریوں کو ریاستی جبر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
#RightsMovementAJK
#JKJAAC #HumanRightsViolations
#Aljazera #BBCUrdu #Reuters
#CNN #AmnestyInternational #BBCWorld
@BBCWorld
@BBCNews @AJEnglish
@AJENews @CNN @cnnbrk
@AssociatedPress
@AlJazeera @Reuters
@AssociatedPress
@DWNews @TRTWorld
@France24 @UNHumanRights
@BBCUrdu @AJEnglish @FoxNews @CNN #RawalakotToMuzaffarabad #KashmirLongMarch #HumanRights
غفران retweeted
*جنوبی باغ پندی ہمارے پھولوں کے جنازے، آخری دیدار کر لیں، جنت کے مسافر ہیں رکیں گے نہی
غفران retweeted
Yesterday evening, a tragic incident in Bagh, Pandi, claimed the lives of five people. Among the debris recovered from the scene is a black plastic fragment bearing the clearly engraved letters BSVT.
What is BSVT? It refers to Belspetsvneshtechnika, a Belarusian company associated with the supply and development of military equipment, drones, and related systems.
Interestingly, the recovered fragment bears a resemblance to a payload holder or release mechanism used in certain drones to carry and release explosives or grenades. Its presence at the scene raises serious questions that cannot simply be ignored.
Was the house targeted by a drone? Is this component connected to the incident? Or is there another explanation? These questions deserve clear answers through an independent, impartial forensic and technical investigation. No conclusions should be drawn without credible evidence.
What is truly disappointing is the conduct of certain journalists and social media activists who seem more interested in promoting a particular narrative than establishing the facts. Without proper investigation, they are dismissing the possibility of an attack, blurring the distinction between an attack and an accident, and turning a human tragedy into an opportunity to build a narrative against an entire nation.
If you have the courage to speak, then have the courage to speak the truth. Why does your pen hesitate when it comes to asking difficult questions?
The truth will eventually come out, but those who exploit human suffering to push a one-sided narrative must also be held accountable.
Perhaps we only understand the true depth of oppression when the suffering reaches our own doorstep.
#RightsMovementAJK
#JKJAAC #HumanRightsViolations
#Aljazera #BBCUrdu #Reuters
#CNN #AmnestyInternational #BBCWorld
@BBCWorld
@BBCNews @AJEnglish
@AJENews @CNN @cnnbrk
@AssociatedPress
@AlJazeera @Reuters
@AssociatedPress
@DWNews @TRTWorld
@France24 @UNHumanRights
@BBCUrdu @AJEnglish @FoxNews @CNN #RawalakotToMuzaffarabad #KashmirLongMarch #HumanRights








