In English, we say:
“Lost interest in everything.”
But in Urdu, we say:
وہ سلسلے، وہ شوق، وہ نسبت نہیں رہی،
وہ دل نہیں رہا، وہ طبیعت نہیں رہی۔ 💔
Hamza Khan retweeted
ہمارےمکمل طور پر نہتے،جانثار اور پرجوش کارکن علی بلال کو پنجاب پولیس نےشہیدکردیا۔انتخابی ریلی میں شرکت کیلئےآنے والےنہتےکارکنان کیساتھ ایسا وحشیانہ سلوک نہایت شرمناک ہے۔پاکستان اس وقت خون کے پیاسےمجرموں کےچنگل میں ہے۔ہم IG، CCPO اور دیگر کیخلاف قتل کے مقدمات درج کروائیں گے۔
Laka Aimal Wali helicopter ki chakar owaho nu nationalian wae ghamazan oor alee.
Ya khuday hum nur osharmawa sharmedelo. 😂🤣
او غمازانو اوور واخلي بله ويډيو راغله 🔥✊🚩
سر لښکر ايمل ولي خان
#AimalWaliKhan
#AliRazaNationalist
#awaminatinalparty
#USA #Pakistan
@AimalWali
Hamza Khan retweeted
خود دس سال کی سزا، خود پر زندگی کی سخت آزمائشیں، مگر فکر اپنے ساتھیوں کی رہائی کی! 💔
چند روز قبل عادل راجہ صاحب @soldierspeaks کو انٹرویو دیتے ہوئے میں نے کہا تھا کہ نو مئی کے مقدمات میں چار سال سے مفت وکالت کرتے کرتے اب میرے لیے یہ جدوجہد جاری رکھنا مشکل ہو رہا ہے۔ میں خود ایک مڈل کلاس خاندان سے تعلق رکھتا ہوں اور ان مقدمات کے اخراجات بھی اپنی جیب سے برداشت کرتا رہا ہوں۔
آج میرے چیمبر میں ایک نوجوان آیا، جو نو مئی کے مقدمے میں دس سال سزا یافتہ اور ان دنوں اشتہاری ہے۔ اس نے میرا انٹرویو سنا تھا۔ اپنی زندگی کی شدید مشکلات کے باوجود اس نے دس ہزار روپے نکال کر مجھے دیے اور کہا:
’’ملک صاحب! یہ میری طرف سے ورکرز کے مقدمات کے لیے رکھ لیں، لیکن وعدہ کریں کہ آپ ان ورکرز کو اکیلا نہیں چھوڑیں گے اور ان کے مقدمات لڑتے رہیں گے۔‘‘
یہ الفاظ سن کر میرا دل بھر آیا۔ ایک ایسا شخص جو خود مصیبتوں میں گھرا ہوا ہے، جس کی اپنی زندگی آزمائش بن چکی ہے، وہ بھی اپنے ساتھیوں کو بچانے کے لیے فکر مند ہے!
میں نے رقم واپس کرتے ہوئے اسے یقین دلایا کہ ان شاء اللہ، میں آخری دم تک ورکرز کے مقدمات لڑوں گا۔ لیکن جاتے ہوئے وہ رقم میرے چیمبر میں چھوڑ گیا اور کہا:
’’ملک صاحب! یہ رکھ لیں، یہ آپ کا مجھ پر بہت بڑا احسان ہوگا۔‘‘
سوچیے! عمران خان سے محبت کا یہ کیسا جذبہ ہے کہ ایک شخص خود شدید مشکلات میں ہونے کے باوجود اپنے ساتھیوں کی رہائی کے لیے اپنا آخری سہارا بھی پیش کر رہا ہے۔
یہ صرف دس ہزار روپے نہیں، یہ اعتماد، وفا اور قربانی کی وہ امانت ہے جس نے مجھے ایک بار پھر عزم دیا ہے کہ اپنے ورکرز کو تنہا نہیں چھوڑوں گا۔ ان شاء اللہ، ان کے حق اور انصاف کی جنگ آخری دم تک لڑوں گا۔
اُموی
Hamza Khan retweeted
امریکہ کی مشہور پرنسٹن یونیورسٹی (Princeton University Chapel) کی ایک مرکزی کھڑکی پر بنی یہ شیشے کی خوبصورت تصویر (Stained-glass window) دراصل عظیم مسلم سائنسدان، فلسفی اور طبیب ابوبکر الرازی کی ہے۔
اس تصویر میں انہیں ہاتھ میں قلم اور اپنی مشہورِ زمانہ کتاب "الـحاوی فی الطب" تھامے دکھایا گیا ہے۔
پرنسٹن یونیورسٹی جیسے ممتاز علمی ادارے میں اس کی موجودگی، سائنس کے فروغ میں مسلم محققین اور اسکالرز کی نمایاں خدمات کا ایک واضح مغربی اعتراف ہے۔ کتاب ’الحاوی فی الطب‘ صدیوں تک یورپی یونیورسٹیوں میں طب کے حوالے سے ایک بنیادی ماخذ بنی رہی۔
مغرب اپنی ترقی کے لیے علم کے ان میناروں سے رہنمائی لیتا ہے جبکہ افسوس کہ ہم اپنے ہی اس شاندار ماضی کو بھول چکے ہیں!
"کبھی اے نوجواں مسلم! تدبّر بھی کِیا تُو نے
وہ کیا گردُوں تھا تُو جس کا ہے اک ٹُوٹا ہوا تارا!
گنوائی کس طرح تم نے جو اسلاف سے ورثہ ملا تھا
ثریا سے زمیں پر آسماں نے تم کو دے مارا!"
#الف_نگری
Hamza Khan retweeted
وزیر اعظم عمران خان کے سامنے آرمی چیف اور ان کی ٹیم طالبان کی آبادکاری کا پلان لے کر آئے تو ان کی شرائط میں فاٹا مرجر کی واپسی کے ساتھ ساتھ یہ توہین آمیز شرط بھی شامل تھی کہ ریاست ان کے لیے مکانات تعمیر کرے گی اور یا تو ان کو سیکیوریٹی فراہم کی جائیگی یا ان کو اسلحہ سمیت آنے دیا جائیگا۔ میں نے سوال پوچھا کہ اول تو اس آبادکاری کا اُن ۷۰۰۰ سیکیوریٹی فورسز کے شہدا کے لواحقین کو کیا جواز فراہم کیا جائیگا جن کے عیال کے سروں سے فٹ بال کھیلے گئے، جن کے گلے کاٹے گئے؟ اے پی ایس کے معصوم بچوں کے لواحقین کو کیا جواب دیں گے جنہیں بے دردی سے شہید کیا گیا؟ اُن کے ٹیکس کے پیسوں سے آپ اب اُن کے قاتلوں کی آبادکاری کریں گے؟ جن کے گھروں کو آپ نے باقاعدہ مسجدوں میں یہ اعلانات کر کرکے مسمار کیا کہ یہ وطن دشمن اور قوم کے بیٹوں کے قاتل ہیں ان کے گھر آپ کس منہ سے خود تعمیر کریں گے؟ آرمی چیف اور اُن کی ٹیم کے پاس لفظوں میں ان سوالوں کا کوئی جواب نہیں تھا مگر اُن کی شکست خوردہ باڈی لینگیوج اُن کا وہ جواب تھا جس سے میں نے بہت عرصہ نظریں کترائیں۔ میرے ملک کی فوج کے سربراہ ایک ملیشیا کے ہاتھوں اتنے بے بس تھے یا ہمیشہ کی طرح ڈالری جنگ کی خواہش کے نشے میں اتنے مست تھے کہ اپنے جوانوں کے سر کاٹنے والوں کو ناصرف بنا کسی اکاونٹبلٹی واپسی کا راستہ دینے کی منصوبہ بندی کررہے تھے بلکہ ان کی لاشوں پر ان قاتلوں کے مسکن تعمیر کررہے تھے۔
میرے حوالے سے ان کے اقدامات نئے نہیں۔ گذشتہ کئی سالوں میں میرے خاندان دوستوں اور ساتھیوں کو اغوا، لاپتہ، تشدد کرنے سے گرفتار کرنے، گھر توڑنے کے متعدد واقعات ہوچکے ہیں۔ کل رات ان جرنیلوں کے مسلط کردہ ٹٹو کا بیان سُنا کے ایک ”مفرور” کے گھر کی خواتین سے دست درازی کرنا جائز ہے۔ میں اس تفصیل میں تو جاتا ہی نہیں کہ اِس ”مفرور“ کا اصل جرم کیا ہے مگر کل پہلی مرتبہ اپنی قوم کی زندگیوں کا سوال کرنے والوں سے ”آہنی ہاتھوں سے نبٹنے والی“ فوج کے آرمی چیف اور ان کی ٹیم کا شکست خوردہ انداز یاد کرکے ہنسی آئی۔ سیاسی مخالفین کے گھر توڑنے والوں، نہتی عورتوں پر ہاتھ ڈالنے والوں کا سامنا بندوقوں والوں سے ہوتا ہے تو اپنے اُن جوانوں کے خون کا بھی سودا کر آتے ہیں جن کی قربانیاں قوم کو ازبر کرا کرا کر اپنے ناجائز قبضے کا جواز ڈھونڈتے ہیں۔ خُدا کسی کو بے غیرت دشمن نہ دے۔
Hamza Khan retweeted
سپریم کورٹ کے حکم پر بھی عمران خان کی ہسپتال منتقلی نہیں کیسسز کی سنوائی نہیں، ملاقاتیں بند،گزشتہ دو ہفتوں سے وزیراعلی اغوا، سپیکر لاپتہ، صوبائی صدر، وزراء، اراکین اسمبلی لاپتہ۔ سینکڑوں کارکنان (یوتھ، آئی ایس ایف سے لے کر ویلیج کونسل لیول تک) لاپتہ، پی ٹی آئی کے ترقیاتی منصوبوں کی تختیوں سے لے کر کارکنان و قیادت کے گھروں، ہجروں تک توڑے جا چکے ہیں۔ اب اگلے مورچوں تک پیش قدمی کرتے ہوئے عوام کو کچلنے کا سلسلہ جاری ہے۔ دہشت گردی کے خلاف آپریشن مارکیٹوں بازاروں سے رکشوں، اور رکشوں سے ہوتا ہوا ریڑھی بانوں تک جا پہنچا ہے۔
ماضی میں جب ہم ”جہاں وسائل ہیں وہاں مسائل ہیں“ کا زکر کرتے تھے تب ڈی جے آئی ایس پی آر فرماتے تھے کہ کیا پختونخواہ کو معدنیات جہیز میں ملے تھے؟ اب قبضہ مافیہ معدنیات نکالنے اور صوبہ لوٹنے کے خفیہ منصوبوں کا کھلے عام اظہار کررہا ہے۔ اپنی ایس آئی ایف سی کی ناکامی کے بعد اب پختونخواہ کے وسائل کو جہیز سمجھ کر جھولیاں بھری جارہی ہیں۔ جہاں بریف کیس بھر کر معدنیات آفر ہوئی تھیں ان کی کمپنیز بلوانے کے ساتھ ساتھ اپنی نئی کمپنیز بنانے کا کام بھی تیزی سے جاری ہے۔
پی ٹی آئی کو کچلنے کے ساتھ عوام کے مسترد کردہ سیاسی یتیموں کو کونسل کے نام پر اختیارات دے کر اگلے الیکشن کے لیے تیاری کی امیدیں دلائ جا رہی ہیں۔ ساتھ ہی انگریز دور کے مَلک نظام کے ریوائیل اور آج کی نسل کو کالے قوانین کے ماتحت کرنے پر کام ہو رہا ہے۔
بے شرمی اور ڈھٹائی کی انتہا دیکھیں کہ جس دہشت گردی کا بہانہ بنا کر ایمرجنسی لگائ، گورنر راج لگایا گیا آج اسی ایمرجنسی کے تحت بنائ، فوج کی خاص الخاص کونسل کا سربراہ فرما رہا ہے کہ ”فتنتہ الہندوستان۔ فتنتہ الخوارج“ محبت کی زبان سمجھتے ہیں۔ پی ڈی ایم حکومت کے بعد افغانستان بھیجے گئے جس وفد کے متعلق ہم سوال کر رہے تھے کہ عوامی نمائندے تو ہم ہیں تو بات چیت کے لیے بھیجا کس کو، شرائط کیا طے ہوئیں اور کس اتھارٹی کی بنیاد پر ہوئیں تو وہ انکشاف بھی بلآخر ہوگیا کہ فوج کے لوگ تھے۔
فاٹا کو وفاق کے ماتحت کرکے ”فتنتہ ال ہندوستان و خوارج“ کی آبادکاری کے وقت کا ایک اور مطالبہ بھی پورا کر دیا گیا۔ فاٹا کو وفاق کے ماتحت کرنے کا مطالبہ انہی کے لائے ہوں کا تھا۔ ڈھٹائی و بے شرمی سے پختونخواہ کو بھی بلوچستان بنایا جارہا ہے اور نام نہاد میڈیا ڈھول بجا رہا ہے۔
ہمارے لوگوں کو بھی سمجھنا چاہئے کہ جس پیمانے پر آپ کا نام مٹانے کی کاروائیاں ہوئیں اور ہو رہی ہیں آپ کا کیا خیال ہے کہ آپ کو واپس آنے دیا جائے گا؟ حکومت بحال ہوگی؟ نہیں
آپ کو جس بحث میں الجھایا گیا ہے یا جس میں آپ الجھ گئے ہیں یہ آپشن ٹو ہے۔ یعنی جیسے آپ نے اپنے مینڈیٹ کا تحفظ کیا تھا ویسا اگر ابھی بھی کر سکے تو زیر بحث پلان لاگو ہوگا ورنہ کوئی واپسی نہیں۔ ایک بار انہیں آپ کی جانب سے یہ اطمینان ہوجائے تو اگلا اقدام ہمیں، آپ کو اور عمران خان کو دہشت گردی سے جوڑ کر پارٹی پر پابندی لگانے کا ہے۔ آپ خود کو مزید کسی مغالطے میں رکھنا چاہتے ہیں، آپ کی مرضی ہے لیکن وہ اپنے اہداف میں کلئیر ہیں۔ عمران خان کو جیل رکھنا اور ان کی جماعت کو کرش کرنا اور بیرونی آقاؤں کی خوشنودی سے اپنی طاقت کو دوام دیتے چلے جانا چاہے۔ اس کے بدلے پورا ملک برباد ہو جیسے ہماری نظروں کے سامنے ہو رہا ہے۔ وہ کلئیر ہیں، ہم کتنے کلئیر ہیں؟
میرا کام ایک مخلص دوست کی طرح آپ کو بروقت آگاہ کرنا تھا، جیسے پہلے بھی کیا تھا، بارہا کیا تھا۔ آج بھی کردیا۔
میں اس پروپیگنڈے، افواہوں اور گمراہ کن خبروں کی شدید مذمت کرتا ہوں۔
@BeterPak بھائی، طیب ٹویٹر ٹیم کنوارے کے تاحیات چیئرمین رہیں گے اور اپنے فرائض ادا کرتے رہیں گے۔
باقی معلومات آپ @GKamranKhan سے لے سکتے ہیں۔
طیب آپ کے جانثار، بے شمار بے شمار!
Hamza Khan retweeted
آخر کب تک عمران خان کو اپنے بنیادی حقوق سے محروم رکھا جائے گا؟ 💔
کیا وہ انسان نہیں؟
کیا اُن کے دل میں احساسات نہیں؟
کیا اُن کے اپنے نہیں ہیں جو اُن سے ملنے کے منتظر ہیں.
#AllowToAccessImranKhan
#ReleaseImranKhan
Hamza Khan retweeted
قیام پاکستان کے بعد ضلع لدھیانہ کے دیہاتوں میں مسلمانوں کا قتل عام:
ریاست پٹیالہ کے بعد مسلمانوں کی سب سے ہولناک تباہی لدھیانہ کے دیہاتوں میں دیکھنے کو ملتی ہے ۔ یہاں پر سکھ اور ہندو اکثریت میں تھے اس کے ساتھ ہی ان علاقوں کے ساتھ ہی سکھوں کی نابھہ فریدکوٹ اور پٹیالہ کی ریاستیں تھیں جن کی فوجیں مارچ 1947 کے بعد ہی لدھیانہ کے دیہاتوں میں لوٹ مار کرنے لگیں تھیں ۔
تقسیم کا وقت آنے تک ہر طرف سکھ جھتے منظم ہو چکے تھے جن کے پاس پٹیالہ ریاست کی مدد سے سٹین گنوں اور مشین گنوں جیسے جدید ہتھیار بھی آ چکے تھے انہی ہتھیاروں کی مدد سے انھوں نے مسلمانوں کے دیہاتوں اور پھر پناہ گزین کیمپوں کو گھیر کر ان میں مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلی ۔
ڈاکٹر اشتیاق احمد نے اپنی کتاب میں ایک سکھ اجیت سنگھ کا انٹرویو درج کیا ہے جو خود مسلمانوں کے قتل عام میں ملوث رہا تھا ۔
وہ پیال میں قائم پناہ گزین کیمپ پر حملے کے متعلق بتاتا ہے کہ "35 لوگ ہم تھے اور 400 لوگ دوسرے سکھ جھتوں سے ہمارے ساتھ موجود تھے ، ہم نے جہاں پر 5 گھنٹے تک قتل عام کیا کسی عورت اور بچے تک کو نہیں چھوڑا سب کرپانوں پر چڑھا دئیے میرے خیال میں ہم نے جہاں پر 20 ہزار کے قریب مسلمان قتل کیے ہونگے البتہ کچھ نوجوان مسلمان لڑکیوں کو زندہ بھی اغواء کر کے اپنے ساتھ لے آئے تھے"
مسلمانوں کے قافلے پر حملہ 2 ستمبر کو شروع ہوا جو پوری شدت سے مسلسل چار روز تک جاری رہا۔ سکھ جتھوں کے پاس گھوڑوں پر تیزی سے ایک جگہ سے دوسری جگہ نقل و حرکت کرنے کی سہولت موجود تھی۔ مسلمانوں کے 25 سے 35 ہزار افراد کے ایک قافلے پر بھی ہم نے دھاوا بول دیا۔ میرا خیال ہے کہ بیشتر کو جان سے مار دیا گیا البتہ کچھ نے کھیتوں میں چھپ کر جان بچائی۔ میرا اندازہ ہے کہ مشرقی پنجاب میں 5 لاکھ کے لگ بھگ مسلمانوں کو موت کے گھاٹ اتارا گیا۔ حملوں کی منصوبہ بندی کرنے والے سرغنوں سے میرا رابطہ تھا۔ ان کا اندازہ تھا کہ 5 سے 7 لاکھ مسلمانوں کو ذبح کیا گیا۔البتہ ملیر کوٹلہ کی حدود میں داخل ہونے والے کسی مسلمان کو ہم نے قتل نہ کیا۔ اس نے پنجابی میں یہ الفاظ استعمال کیے ”باؤ جی جیہڑا مسلمان ملیر کوٹلہ جاون والی سڑک دے دوسرے پاسے انگریز علاقے وچ سی اوہنوں اسی چھڈیا نہیں تے جیہڑا ایس پاسے آ گیا سی، اسی اوہنوں ہتھ نہیں لایا“ (جو مسلمان ملیر کوٹلہ جانے والی سڑک کے دوسری طرف انگریز انتظامیہ کے علاقے میں تھے اسے چھوڑا نہ گیا اور جو اس طرف تھا اسے ہم نے ہاتھ تک نہیں لگایا)۔ سڑک پر پکڑے جانے والوں کو بھی کاٹ دیا گیا۔
ہم نے سرہند اور رائے کوٹ میں قائم کیمپوں" کی طرف نقل مکانی کرنے والوں کو بھی نہ چھوڑا۔ البتہ جو وہاں پہنچنے میں کامیاب ہو گئے وہ بچ گئے۔ بدترین قتل عام اگست اور ستمبر میں ہوا۔ میں نرنجن سنگھ کے جتھے سے تعلق رکھتا تھا۔ جاگیر سنگھ اور کرتار سنگھ بھی اسی جتھے کے رکن تھے۔میں سمجھتا ہوں کہ جو ہوا غلط ہوا۔ کسی انسان کو جان سے مارنا پاپ ہے لیکن ہم نے اس کو مذہبی لڑائی (دھرم یودھ) سمجھا۔ ہم نے اپنے گاؤں کے مسلمانوں کو کچھ نہیں کہا۔ خود میں نے 3 ہزار مسلمانوں کو قتل کیا، اکثریت نوجوانوں کی تھی۔ گجر، آرائیں، جاٹ، فقیر، تیلی۔۔۔ ہر برادری کے مسلمان ہمارا جائز ہدف تھے۔"
لدھیانہ میں مسلمانوں کے دیہاتوں کے دیہات لاشوں میں بدل دیے گئے تھے انہی میں سے ایک گجر وال کا گاؤں بھی تھا جہاں سے چند ایک عورتیں اور بچے ہی چھپ چھپا بلوچ رجمنٹ کی مدد سے نکلنے میں کامیاب ہوئے تھے جبکہ یہاں کے تمام مرد پہلے ہی تہہ تیغ کیے جا چکے تھے حتی کہ ہرمائل سنگھ اور عجائب سنگھ کے انٹرویو کے مطابق کچھ مسلمان قتل عام سے بچنے کے لیے انکے گھروں میں بھی چھپ گئے تھے یہ میراثی ذات کے مسلمان تھے ایک دو دن یہ ان کے گھر رہے لیکن پھر انھوں نے سکھ مت قبول کر لی ۔ لیکن کچھ دنوں بعد ایک سکھ جھتے کا سردار بندا سنگھ رائے پور کے سکھوں کے ساتھ انکے گھر آیا اور کہا کہ یہ مسلمان جو سکھ ہوئے ہیں حالات ٹھیک ہوتے ہی پھر سے مسلمان ہو جائیں گے لہذا انکا خاتمہ بھی ضروری ہے ۔ ان لوگوں نے ہر مائل سنگھ اور عجائب سنگھ کے والد کو قابو کر لیا۔ انہوں نے انکے گھر میں گھس کر تمام مسلمان مردوں، خواتین اور بچوں کو چھت کی منڈیر پر قطار میں کھڑا ہونے کا حکم دیا۔ پھر انہیں نیزوں اور بھالوں کے وار کر کے نیچے گرا دیا گیا۔ نیچے دیگر بدمعاش نیزوں کی انیاں اوپر اٹھائے کھڑے تھے۔ بچوں کو ہوا میں اچھالا گیا اور لاشوں کے گرد بھنگڑے ڈالے گئے۔ ایک لڑکا صدیق جسے میں جانتا تھا کے کئی ٹکڑے ہوئے۔ سکھ یہاں پر لاشوں کے گرد بھنگڑے ڈالنے لگے ۔
#الف_نگری
Hamza Khan retweeted
گناہوں سے معافی،
مذہبی پیشواؤں نے جنت کی چابیاں بیچیں!
یورپ کے قلب میں قرونِ وسطیٰ کے آخری حصے میں،
جب جہالت نے عوام پر اپنا گہرا سایہ ڈال رکھا تھا اور کیتھولک چرچ لوگوں کی روحوں، ذہنوں اور بادشاہتوں تک قابض تھا اس وقت ایک ایسا کاروبار پروان چڑھا جس کی بنیاد انسان کے ایمان، خوف اور نجات کی امید پر تھی۔
گناہوں سے معافی کا کاروبار۔
نجات کا کاروبار۔
جنت کا کاروبار۔
اس کاروبار کا ایک ذریعہ تھیں انڈلجنسز (Indulgences) جن کی فروخت کے ذریعے لوگوں کو گناہوں کی سزا سے نجات کے بارے میں امید دلائی جاتی تھی۔ یہ مذہبی عقیدے اور مالی مفادات کا امتزاج تھا۔
ان اسناد کی تشہیر کرنے والے مذہبی مبلغ جوہان ٹیٹزل (Johann Tetzel) سے ایک مشہور جملہ منسوب ہے:
"جیسے ہی سکے کی کھنک صندوق میں سنائی دیتی ہے، روح عذابِ برزخ سے نکل کر سیدھی جنت میں پہنچ جاتی ہے!"
لوگوں نے اپنی تمام جمع پونجی لٹانی شروع کر دی تاکہ اپنے پیاروں کی معافی کروا سکیں۔
انڈلجنسز کی فروخت سے حاصل ہونے والی آمدنی سے 'سینٹ پیٹرز باسیلیکا' تعمیر کیا جا رہا تھا جبکہ مذہبی پیشوا "خدائی حق" (divine right) کی آڑ میں انتہائی عیش و عشرت کی زندگی گزار رہے تھے۔
لیکن پھر ایک جرمن راہب "مارٹن لوتھر" نے اس نظام کے خلاف آواز اٹھائی۔
سن 1517 میں اس نے چرچ کی روایات، بالخصوص انڈلجنسز کی فروخت کے خلاف اپنے 95 نکات پیش کیے۔ روایت کے مطابق اس نے انہیں وٹنبرگ کے چرچ کے دروازے پر بھی آویزاں کیا۔
یہ ایسا اقدام تھا جو صرف انقلابی ہی کر سکتے ہیں، اور اسی ایک لمحے نے پورے یورپ کو ہلا کر رکھ دیا!
لوتھر کے اس اقدام نے پروٹسٹنٹ اصلاحِ مذہب (Protestant Reformation) کی راہ ہموار کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ مغربی عیسائیت تقسیم ہوئی، مذہبی اقتدار کو چیلنج کیا گیا اور یورپ نے طویل مذہبی تنازعات اور جنگوں کا سامنا کیا۔
لیکن ذرا ٹھہریے!
کیا مذہب کے نام پر استحصال کا سلسلہ واقعی ختم ہو چکا ہے؟
کیا مذہب کا سودا کرنے والوں کی آوازیں دب گئی ہیں؟
شاید جنت کی چابیاں اب کاغذی اسناد کی صورت میں نہیں بکتیں، مگر ایمان کو منڈی اور نجات کو کاروبار بنانے والے آج بھی موجود ہیں۔
چہرے بدل گئے، نعرے بدل گئے، مگر افسوس کہ کھیل آج بھی وہی ہے، افسوس کہ روح آج بھی بک رہی ہے!
#الف_نگری
#تاریخ
Hamza Khan retweeted
Someone keep these people away from Islamabad FGS! F9 park is home to awesome birds! Pura islamabad deforestation say tabah kr dia hai!
Hamza Khan retweeted
ایمرجنسی کے بعد کہا گیا تھا کہ صوبے کو تقسیم نہیں کیا جا رہا، نیا ایڈیشنل چیف سیکریٹری (ACS) چیف سیکریٹری (CS) کو رپورٹ کرے گا، اور ان ہنگامی اضلاع کی انتظامیہ جنوبی پنجاب سیکریٹریٹ کی طرز پر ہوگی۔
تاہم، اب یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ بارہ اضلاع گورنر، گورنر کی مشاورتی کونسل، نئے چیف سیکریٹری اور خیبر پختونخوا انتظامیہ کے دائرہ اختیار میں نہیں آتے۔ اس سے کئی سوالات جنم لیتے ہیں۔ ان 12 اضلاع کے لیے نئے اے سی ایس (جو گریڈ 20 کے ڈی ایم جی افسر ہیں) تنِ تنہا حکومت کے تمام اختیارات کے مالک ہوں گے۔ وہی دراصل حکومت ہیں۔
اس سے کئی سوالات پیدا ہوتے ہیں:
* اگر پی ٹی آئی کے خلاف کارروائی کی بنیاد یہ تھی کہ موجودہ گورنر اور ان کی ٹیم منتخب حکومت کے مقابلے میں صوبہ چلانے کی بہتر صلاحیت رکھتے ہیں، تو پھر ایسا کیسے ممکن ہے کہ گورنر پورا صوبہ چلانے کے تو اہل ہیں، مگر انہیں اپنے آبائی ضلع ڈیرہ اسماعیل خان اور اپنے ہی خطے کے 12 اضلاع کے معاملات سونپنے کے قابل نہیں سمجھا گیا؟
* اسی طرح، اگر 11 رکنی ٹیکنوکریٹ کابینہ اتنی ہی باصلاحیت ہے، تو وہ ہنگامی اضلاع میں اپنے اپنے محکمے کیوں نہیں چلا سکتی؟ اگر ایک گریڈ 20 کا افسر ان سے بہتر ہے، تو پھر باقی خیبر پختونخوا کا انتظام بھی چیف سیکریٹری کے حوالے کیوں نہیں کر دیا جاتا؟ کسی ٹیکنوکریٹ یا سیاست دان کی ضرورت ہی کیوں باقی رہ جاتی ہے؟
* کیا 48 رکنی کونسل کے غیر منتخب ارکان (جن میں سے ایک کا انتقال ہو چکا ہے، 6 مستعفی ہو چکے ہیں، اور ایک جنہوں نے طالبان سے مذاکرات کا مطالبہ کیا ہے اور وہ اتفاق سے کونسل کے وائس چیئرمین بھی ہیں) اپنے اپنے اضلاع سے منتخب شدہ اراکینِ صوبائی اسمبلی (MPAs) کا متبادل بن سکتے ہیں؟ ان میں سے بیشتر وہ لوگ ہیں جنہوں نے انتخاب تو لڑا مگر محض چند سو ووٹ حاصل کر سکے۔ وہ اس علاقے کی نمائندگی کیسے کر سکتے ہیں جس نے انہیں مسترد کر دیا تھا؟
* اگر مقصد صرف ہنگامی اضلاع پر توجہ مرکوز کرنا ہے، تو محض پانچ یا چھ افسران کو 40 محکموں کا چارج کیسے دیا جا سکتا ہے؟
* اگر مقصد حکومت کو عوام کی دہلیز تک لانا ہے، تو یہ انتظامیہ اور اے سی ایس ڈیرہ اسماعیل خان یا بنوں میں بیٹھنے کے بجائے پشاور میں فاٹا سیکریٹریٹ میں کیوں بیٹھیں گے؟ اور وہ پشاور کے بجائے اسلام آباد کو کیوں رپورٹ کریں گے؟
اتنے سارے سوالات... اور کوئی جواب نہیں...
کوئی حسینی نہ نکلا میرے رفیقوں میں
دیا بجھا کے جلایا تو اکیلا تھا میں
#مائنس_عمران_خان_نامنظور























