Nazia Chaudhary🇵🇰 retweeted
سندھ کے کسانوں کے لیے تو یہ وڈیرے خود کو گویا زمینی خدا سمجھتے ہیں، مگر افسوس کہ ان کی جاگیردارانہ سوچ اور طاقت کا نشانہ صرف کسان ہی نہیں بلکہ سندھ کی غریب اور بے بس خواتین بھی ہیں۔ سید، پیر، بلوچ سردار ہوں یا جاگیردار و وڈیرے، اگر کسی کے نام، منصب یا اثر و رسوخ کی آڑ میں عورتوں پر ظلم و جبر کیا جائے تو ایسے رویے کسی دور کے یزیدیت سے کم نہیں۔ سوال یہ ہے کہ آخر کب تک سندھ کی مظلوم بیٹیاں طاقتور طبقے کے ظلم، خوف اور جبر کا شکار بنتی رہیں گی؟ عورت کی عزت، جان اور آزادی کسی وڈیرے کی جاگیر نہیں، بلکہ اس کا بنیادی حق ہے۔
Nazia Chaudhary🇵🇰 retweeted
فیملی وی لاگنگ کے نام پر مخصوص زاویوں سے ویڈیوز بنا کر جسمانی نمائش کرنا کیا واقعی فیملی وی لاگنگ ہے؟ یا محض سوشل میڈیا پر ویوز اور شہرت حاصل کرنے کا ایک نامناسب طریقہ؟ آزادیِ اظہار اپنی جگہ، لیکن خاندانی مواد اور غیر اخلاقی جسمانی نمائش کے درمیان فرق ہونا چاہیے۔ ایسے مواد کا جائزہ لیا جائے ان لوگوں کے خلاف قانونی کاروائی کی جائے
@OfficialDPRPP
#NCCIA #CyberCrime #PunjabPolice
Nazia Chaudhary🇵🇰 retweeted
آقا جان علیہ الصلوۃ وسلام کے موئے مبارک
یعنی کے وہ مقدس بال جنہیں کبھی آقا جان کا قرب نصیب تھا
صلی اللہ علیہ والہ وسلم
Nazia Chaudhary🇵🇰 retweeted
یا اللہ ! جو بیمار ہیں انہیں شفاء کاملہ عاجلہ عطا فرما جو اس دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں ان کی مغفرت فرما آمین یا ربّ العالمین ! 🤲
السلام علیکم
Good morning
Nazia Chaudhary🇵🇰 retweeted
السلام علیکم 🌺
اے اللہ! ہماری، ہمارے والدین، ہمارے اہلِ خانہ اور اُن تمام لوگوں کی مغفرت فرما جنہوں نے ہمارے ساتھ بھلائی کی۔ اور ہمیں جنت النعیم میں اُن سب کے ساتھ آمنے سامنے تختوں پر بیٹھ کر مل بیٹھنے کی سعادت عطا فرما۔ آمین یا رب العالمین۔ 🤲
Nazia Chaudhary🇵🇰 retweeted
قدرت نے انسانی نسل کی بقا اور کائنات کے فطری نظام کے لیے مرد اور عورت کی صورت میں دو اصناف تخلیق کی ہیں۔ اس فطری نظام سے انحراف معاشرتی توازن اور انسانی بقا کے لیے سوالیہ نشان ہے۔
پاکستانیوں! یہ ویڈیو شیئر کرنے پر معذرت خواہ ہوں، لیکن ایک سوال ضرور بنتا ہے: کیا پولیس کا یہ طریقۂ کار درست ہے؟ قانون نافذ کرنے والوں کو بھی اپنی حدود اور اخلاقی ذمہ داریوں کا خیال رکھنا چاہیے۔ کم از کم ایک عورت کی عزتِ نفس اور پردے کا احترام کرتے ہوئے اسے شلوار پہننے کا موقع تو دیا جاتا۔
آخر ہمارے معاشرے میں فحاشی، بے حیائی، جنسی بے راہ روی اور زناکاری کے بڑھتے ہوئے رجحانات کب ختم ہوں گے؟
UOL Lahore: Less studying, more dating! 😆
#University
#DatingClub
Nazia Chaudhary🇵🇰 retweeted
You have to be permanently living in lala land to tell such fantastic tales and believe that these make you sound popular.
Nazia Chaudhary🇵🇰 retweeted
استغفر اللہ
یہ ہے ہمارا اسلامی معاشرہ جسے تباہ کیا جا رہا ہے
پیسے کے لیے ان لوگوں نے پورے معاشرے کو غلیظ کر دیا ہے ان کی زبان چیک کریں ننگا ہونے کا شوق ہے تو لوگوں کو لعن تان کیوں کر رہی ہے
اور ہمارے ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں
یا تو ان کے خلاف کاروائی ہو یا پاکستان میں ٹک ٹاک بین ہونی چاہیے
فیملی وی لاگنگ کے نام پر مخصوص زاویوں سے ویڈیوز بنا کر جسمانی نمائش کرنا کیا واقعی فیملی وی لاگنگ ہے؟ یا محض سوشل میڈیا پر ویوز اور شہرت حاصل کرنے کا ایک نامناسب طریقہ؟ آزادیِ اظہار اپنی جگہ، لیکن خاندانی مواد اور غیر اخلاقی جسمانی نمائش کے درمیان فرق ہونا چاہیے۔ ایسے مواد کا جائزہ لیا جائے ان لوگوں کے خلاف قانونی کاروائی کی جائے
@OfficialDPRPP
#NCCIA #CyberCrime #PunjabPolice
باقی تو سب کچھ ٹھیک لگ رہا ہے، لیکن خیبر پختونخوا میں مٹن پلاؤ کی ایک پلیٹ کے 2200 روپے؟ 😳 کیا یہ واقعی مناسب قیمت ہے یا پھر ذرا زیادہ ہی ہاتھ صاف کیا جا رہا ہے؟ ذائقہ اپنی جگہ، مگر قیمت بھی تو جیب کے حساب سے ہونی چاہیے! 👇
Nazia Chaudhary🇵🇰 retweeted
پاکستان کی 70 سالہ تاریخ پر نظر ڈالیں تو ایک تلخ حقیقت بار بار سامنے آتی ہے کہ قربانیاں ہمیشہ غریب ہی دیتا ہے۔ خودکشیاں غریب کرتا ہے، پھانسی کے پھندے پر غریب جھولتا ہے، انصاف کے لیے غریب دربدر ہوتا ہے، غریب کی بیٹی کی عزت پامال ہوتی ہے اور غریب کی بچی کو ہی معاشرے کی بے حسی اور ظلم کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ آخر یہ سب کچھ غریب کے حصے میں ہی کیوں آتا ہے؟ اشرافیہ اور حکمران طبقے کے گھرانوں میں ایسے حالات کیوں نظر نہیں آتے؟
آخر حکمرانوں کی بیٹیاں سوشل میڈیا پر اپنے گھریلو حالات دکھا کر روزگار کمانے پر کیوں مجبور نہیں ہوتیں؟ ایک عام گھریلو خاتون جب مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی تنگ دستی سے مجبور ہو کر ولاگنگ کا سہارا لیتی ہے تاکہ اپنے بچوں کا پیٹ پال سکے تو ہمیں صرف اس عورت کو تنقید کا نشانہ نہیں بنانا چاہیے، بلکہ ان حالات کے ذمہ داروں سے سوال کرنا چاہیے جنہوں نے اسے اس نہج پر پہنچایا۔
اصل سوال یہ ہے کہ غریب کب تک مہنگائی، بے روزگاری، ناانصافی اور بے بسی کی چکی میں پستا رہے گا؟ چاہے اقتدار میں زرداری ہوں، شریف خاندان ہو یا عمران خان کی حکومت، حکمران کوئی بھی ہو، عوام کو جواب دہ ہونا چاہیے۔ ریاست کا فرض صرف اقتدار چلانا نہیں بلکہ عام آدمی کو باعزت زندگی، روزگار، تحفظ اور انصاف فراہم کرنا بھی ہے۔
آخر غریب کا قصور کیا ہے کہ ہر دور میں قربانی بھی وہی دے، ذلت بھی وہی سہے اور انصاف کے لیے بھی وہی ترستا رہے؟
سندھ کے کسانوں کے لیے تو یہ وڈیرے خود کو گویا زمینی خدا سمجھتے ہیں، مگر افسوس کہ ان کی جاگیردارانہ سوچ اور طاقت کا نشانہ صرف کسان ہی نہیں بلکہ سندھ کی غریب اور بے بس خواتین بھی ہیں۔ سید، پیر، بلوچ سردار ہوں یا جاگیردار و وڈیرے، اگر کسی کے نام، منصب یا اثر و رسوخ کی آڑ میں عورتوں پر ظلم و جبر کیا جائے تو ایسے رویے کسی دور کے یزیدیت سے کم نہیں۔ سوال یہ ہے کہ آخر کب تک سندھ کی مظلوم بیٹیاں طاقتور طبقے کے ظلم، خوف اور جبر کا شکار بنتی رہیں گی؟ عورت کی عزت، جان اور آزادی کسی وڈیرے کی جاگیر نہیں، بلکہ اس کا بنیادی حق ہے۔









