Pinned Tweet
لاہور ہائی کورٹ میں پنجاب کی اسموگ اور ماحولیاتی آلودگی کے خلاف جوڈیشل ایکٹوازم پینل کی آئینی درخواست
پنجاب میں زہریلی اسموگ کے خلاف جوڈیشل ایکٹوازم پینل کا لاہور ہائی کورٹ سے رجوع
لاہور میں اے کیو آئی 340 جبکہ شاہدرہ میں 500 ریکارڈ ہونے کا دعویٰ
فضائی آلودگی خطرناک حد تک بڑھ گئی، شہریوں کی صحت کو سنگین خطرات لاحق، درخواست
اسموگ پر قابو پانے کے عدالتی احکامات پر عمل درآمد کیوں نہیں ہوا؟ جوڈیشل ایکٹوازم پینل کا سوال
لاہور ہائی کورٹ کے 12 اگست 2026 کے فیصلے کے باوجود اسموگ کی واپسی، حکومتی اقدامات پر سوالات
گاڑیوں کا دھواں، فصلوں کی باقیات جلانا، صنعتی آلودگی اور تعمیراتی گرد اسموگ کی بڑی وجوہات قرار
درختوں کی کٹائی اور سبز پٹیوں کی تباہی ماحولیاتی بحران میں اضافے کا باعث، درخواست
صاف اور صحت مند ماحول شہریوں کا بنیادی حق، آئین کے آرٹیکل 9 اے کے نفاذ کا مطالبہ
اسموگ سے نمٹنے کے لیے چیف سیکریٹری پنجاب کی سربراہی میں خصوصی ٹاسک فورس قائم کرنے کی استدعا
اے کیو آئی کی مقررہ حد عبور ہوتے ہی ہنگامی اقدامات شروع کیے جائیں، لاہور ہائی کورٹ سے استدعا
آلودگی پھیلانے والی گاڑیوں، صنعتوں اور فصلوں کی باقیات جلانے
کہیں پر نگاہیں، کہیں پر نشانہ! @CMShehbaz @MIshaqDar50
اہم ترین
وفاقی کابینہ اجلاس کے2میں سےپہلےسیشن میںارکان نےفوری ایمرجنسی کی بجائےمزیدوقت دینےکاکہا،سب سےپہلےمحسن نقوی نےموقع دینےکاکہاجسکوچند ارکان نےسپورٹ کیا،پہلےسیشن میں فضل الرحمان سےہونیوالی بات چیت کاذکر نہیں کیاگیانا ہیCMکی تبدیلی کی شرط کی بات ہوئی
youtu.be/H0OpvOcIUjM?si=rs38…
M Azhar Siddique retweeted
اہم ترین
وفاقی کابینہ اجلاس کے2میں سےپہلےسیشن میںارکان نےفوری ایمرجنسی کی بجائےمزیدوقت دینےکاکہا،سب سےپہلےمحسن نقوی نےموقع دینےکاکہاجسکوچند ارکان نےسپورٹ کیا،پہلےسیشن میں فضل الرحمان سےہونیوالی بات چیت کاذکر نہیں کیاگیانا ہیCMکی تبدیلی کی شرط کی بات ہوئی
youtu.be/H0OpvOcIUjM?si=rs38…
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ 🌹
🤲 یا اللہ، اے ربِ کریم!
ہمیں اپنی رضا کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق عطا فرما۔ ہمارے دلوں کو ہدایت کے نور سے منور فرما، ہمارے گھروں کو سکون و محبت کا گہوارہ بنا اور ہمارے رزق میں خیر و برکت عطا فرما۔
اے اللہ! ہمیں صبر، شکر، عاجزی اور استقامت کی دولت سے نواز دے۔ ہماری خطاؤں کو معاف فرما، ہمارے والدین کو صحت، تندرستی اور عافیت والی زندگی عطا فرما، اور جو اس دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں، ان کی مغفرت فرما، ان کے درجات بلند فرما اور ان کی قبروں کو نور سے بھر دے۔
یا رب العالمین! ہمیں دنیا و آخرت کی کامیابی اور سرخروئی نصیب فرما۔ ہماری اولاد پر اپنا خصوصی فضل و کرم فرما، انہیں نیک، صالح، فرمانبردار، باکردار اور کامیاب و کامران بنا۔ انہیں علمِ نافع، ایمان کی پختگی اور حلال رزق عطا فرما اور ہمارے لیے آنکھوں کی ٹھنڈک اور صدقۂ جاریہ بنا۔
اے اللہ! ہم سب کو اپنی حفظ و امان میں رکھ اور ہماری زندگیوں کو اپنی رحمتوں اور برکتوں سے بھر دے۔
آمین ثم آمین یا رب العالمین 🤲✨
🌸 صبح بخیر 🌸
اللہ تعالیٰ آپ کا آج کا دن رحمت، برکت، سکون، صحت، سلامتی اور خوشیوں سے بھر دے۔
M Azhar Siddique retweeted
And Fareeha you believe in him? This is what has been done last week trees. CDA is busy 24/7 in arranging environmental disaster for this once beautiful and green city. Never believe their lies.
M Azhar Siddique retweeted
پنجاب میں سی سی ڈی کی کارروائیاں، طالب علم نے حذیفہ رحمان کو لاجواب کر دیا
#HumNews
@AdilNizami10
@HuzaifaRehman_
@ShafqatAwanPTI
@MNAmandokhail
M Azhar Siddique retweeted
ُاس پورے کلپ کے سب سے بہترین جملے۔۔
عون چوہدری: کیا کریں ہم، پی ٹی آئی کو لے آئیں؟؟
ارشاد بھٹی: پی ٹی آئی کو جہاں ہے وہیں چھوڑیں، آپ لوگ اللہ
کا واسطہ ہے ہماری جان چھوڑ دیں🙏
M Azhar Siddique retweeted
جو کام جنرل ایوب، جنرل یحیی، بھٹو، جنرل ضیاء ، بینظیر بھٹو، نواز شریف، جنرل مشرف، ظفراللہ جمالی، چوہدری شجاعت، شوکت عزیز، یوسف رضا گیلانی، عمران خان کے ادوار میں نہ ہوا نہ وہ اس حد تک سوچ ہی نہیں سکتے تھے وہ اکیلا ایک وزیر محسن نقوی جناب شہباز شریف کی پوری حمایت سے کرے گا کیونکہ وہ ہر قیمت پر وزیراعظم رہنا چاہتے ہیں چاہے نقوی صاحب پورے اسلام آباد کی لنکا ڈھا دیں۔
وزیرمخولیات ڈاکٹر مصدق ملک اور سینٹ ماحولیاتی کمیٹی کی چیرمین شیری رحمن بھی محسن نقوی کے رعب دبدبے اور اپنی پوزیشن بچانے کے نام پر اس موقع پر وہ اپنی ڈیوٹی ادا کرنے کی بجائے گونگے بن جائیں گے۔ بلکہ ابھی وہ بزنس کلاس ٹکٹ کٹوا کر روم میں ماحولیاتی کانفرنس پاکستانی میں ماحول کو تھریٹ پر لیکچر دینے نکل جائیں گے، پوری دنیا کو بھاشن دینے والے جناب وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال فورا ناروال کے دورے پر نکل جائیں گے، ہر چھوٹے بڑے ایشوز پر کممنٹ کرنے والے ہمارے پیارے خواجہ آصف کا موبائل فون نقوی صاحب کا سوچ کر ہی جام ہو جائے گا، پارلیمنٹ کے سینٹ/اسمبلی کے ساڑھے پانچ سو ممبران خوف کے مارے منہ میں انگلیاں دبا لیں گے، اس شہر میں دو سپریم کورٹ ہیں کوئی جج جرات نہیں کرے گا کہ سی ڈی اے چیرمین کو بلا کر زرا انہیں ائینی قانونی ڈوز دیں کہ وہ اس شہر کے ساتھ کیا کرنے والے ہیں۔
اس شہر میں بڑے بڑے وکیل ہیں کوئی ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ پیٹیشن نہیں کرے گا اور سب سے بڑھ کر ہمارے بڑے بڑے صحافی /اینکرز محض محسن نقوی صاحب سے تعلق کے نام پر شہر کی تباہی کو نظرانداز کریں گے کیونکہ کسی کو سی ڈی اے ، ایف ائی اے، ائرپورٹ، نادرا یا وزارت میں کام پڑ سکتا ہے۔
ہماری توقعات کے برعکس نقوی صاحب اس شہر کے لیے اچھی خبر بن کر نہیں آئے۔ ایک چھوٹا سا شہر ان کے آئڈیاز اور ان کے ٹھیکداروں کی لالچ کا بوجھ نہیں اٹھا سکتا۔
شہباز شریف، نقوی صاحب اور بابو چیرمین سی ڈی اے سہیل اشرف آج ہیں چند سال بعد نہیں ہوں گے لیکن اگر ایف نائن پارک پر لاڈلے لاہوری ٹھیکداروں کو بلڈوزر سمیت چھوڑ دیا گیا تو یہ شہر پھر شہر نہیں رہے گا۔ جنہوں نے نقوی صاحب کو اس شہر پر لانچ کیا ہے وہ ہی اس طوفان کو روک سکتے ہیں کہ دو سال میں کافی ماحول کی بربادی ہوچکی، ہزاروں درخت کٹ چکے، جنگل تباہ کر چکے، پہاڑوں تک پر بلڈوزر چلوا چکے، ایک پارک بچا ہے اس کی جان چھوڑ دیں۔
حیران ہوں ایک وزیر اکیلا کیسے پورے شہر کی قسمت کا فیصلہ کرسکتا ہے۔ نہ کابینہ نہ عوام نہ پارلیمنٹ صرف اکیلا محسن ںقوی فیصلہ کرے گا؟
شہباز صاحب بڑا آپ کی سپیڈ کی کہانیاں سنتے تھے آپ تو جمالی صاحب اور شوکت عزیز کے برابر بھی کھڑے نہیں ہوئے۔ آپ ایک ہمارے پیارے نقوی صاحب کی مار نکلے۔
افسوس ہے ساٹھ رکنی کابینہ، پارلیمنٹ، سینکروں صحافی اینکرز محسن نقوی صاحب کے ڈر ، رعب دبدے اور ذاتی تعلقات کی وجہ سے اس نئے حیران کن ماحولیات دشمن منصوبے پر گونگے بن گیے ہیں۔ لاہور اور دلی اس وقت الودگی پر ٹاپ ہیں۔ لاہور الودگی ماڈل شہباز شریف صاحب کا تھا اور نقوی صاحب نے ایک سال اس میں اپنا حصہ ڈالا۔ اب اسلام آباد ماحولیاتی بربادی کی سزا بھگتنے کو تیار ہو جائت۔ ان سب نے ایک دن پتلی گلی سے نکل جانا ہے۔ 👎
@CMShehbaz @KhawajaMAsif @sherryrehman @PalwashaKhan18 @AbsarAlamHaider @aniqnaji @AyazSadiq122 @MIshaqDar50 @BilalAKayani @Ali_MuhammadPTI @sherafzalmarwat @AzamNazeerTarar @SyedAliZafar1 @BarristerGohar @SenatorSaleem @AseefaBZ @AAliZardari @BBhuttoZardari @A_Qadir_Patel @AkMashal @MaryamNSharif @DanyalChaudhary @BrSalmanSafdar @BabarAwanPK @salmanAraja @ShaziaAttaMarri @HinaRKhar @naveedqamarmna @ninoqazi @EPA @arabnewspk @BBC @CH_Environment @EnvAgency @UNHumanRights @PakPMO @PakEPAIslamabad @drzarqa @afnanullahkh @AllamaRajaNasir @CDAthecapital @SohailAshrafGor @DFSMQM @DrTariqFazal @RajakhurramNA48 @OfficialDGISPR @GovtofPunjabPK @CS_Punjab @anwaar_kakar @TararAttaullah
M Azhar Siddique retweeted
مجھے در د کا احساس ہے ! خان کا ذکر آتے ہی اسپیکر نے مولانا سے کیا کہا؟ ایوان میں قہقہے لگ گئے
#MaulanaFazalUrRehman #PTI #Khan #ViralVideo #NeoNews
عوام کا جواب!!
پروگرام میں پلانٹڈ طلبہ بٹھائے گئے ہیں، حذیفہ رحمان جواب دینے کے بجائے الزامات پر اتر آئے
#HumNews
@AdilNizami10
@HuzaifaRehman_
@ShafqatAwanPTI
@MNAmandokhail
M Azhar Siddique retweeted
آج کل بہت سے صحافی اپنے جھوٹ اور خوشامد کو اپنے اصلی نام سے بیچ رہے ہیں۔ ڈیجیٹل میڈیا کے اس دور میں اخبارات اور ٹی وی چینلز ایک طرف اپنی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں دوسری طرف آزادیِ اظہار کو درپیش خطرات سے بھی نمٹ رہے ہیں۔ جو صحافی ان خطرات کے سامنے ہتھیار ڈال دیں گے اُن کا نام تاریخ کے اوراق سے بھی غائب ہو جائے گا لیکن جو ان خطرات کا مقابلہ کرنے کی کوشش کریں گے اُنکا نام زندہ رہے گا۔ انقلاب، زمیندار اور چٹان بند ہو گئے لیکن سالک صاحب، ظفر علی خان اور شورش کاشمیری کا نام آج بھی زندہ ہے اور آئندہ بھی زندہ رہے گا۔
jang.com.pk/news/1627730
ماورائے عدالت ہلاکتوں پر ڈان کا آج کا کارٹون — لاہور ہائی کورٹ اور وفاقی آئینی عدالت کے لیے ایک کڑا سوال!
جب پولیس کی گولیاں انصاف کے ترازو کو روندتی دکھائی دیں، شہریوں کے حقِ زندگی اور بنیادی حقوق پر سوالات اٹھیں، اور ماورائے عدالت ہلاکتوں کے الزامات سامنے آئیں، تو انصاف کے ایوانوں کی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے۔
لاہور ہائی کورٹ میں معاملہ زیرِ التوا ہے؛ اگر وہاں سے تاحال مؤثر عملی نتائج سامنے نہیں آئے، تو کیا وفاقی آئینی عدالت بھی خاموش رہے گی؟
کیا شہریوں کے حقِ زندگی، آئینی تحفظ اور قانون کی حکمرانی کے سوالات غیر معینہ مدت تک عدالتی کارروائیوں کے انتظار میں رہیں گے؟ کیا ماورائے عدالت ہلاکتوں کے الزامات کی آزادانہ تحقیقات اور ذمہ داروں کے احتساب کے لیے کوئی مؤثر عدالتی راستہ نہیں ہوگا؟
سوال واضح ہے: جب قانون کی عمل داری خطرے میں ہو، تو آئینی عدالتیں کب اور کیسے اپنا کردار ادا کریں گی؟
عدالتوں کا وقار محض فیصلوں سے نہیں، بلکہ بنیادی حقوق کے مؤثر تحفظ اور آئین کی بالادستی سے قائم ہوتا ہے۔
انصاف میں تاخیر، بنیادی حقوق کا تحفظ اور ماورائے عدالت ہلاکتوں کا احتساب — کیا وفاقی آئینی عدالت اس سوال پر خاموش رہے گی؟
M Azhar Siddique retweeted
عاصمہ شیرازی کے شوہر اس ٹویٹ میں مجھ پر الزام عائد کر رہے ہیں کہ PTI کے کسی رہنما سے بیانیہ نہیں بن پایا تو میں PTI کی ترجمان بن کر سامنے آ گئی۔
انہوں نے میری جو گفتگو لگائی ہے، اسے سن کر خود فیصلہ کیجئے کہ کیا میں نے پاکستان کی 26 کروڑ عوام کے حقوق کی بات کی یا PTI کی؟
جو عقل کی بات کرے، انہیں PTI کا ترجمان لگتا ہے۔
M Azhar Siddique retweeted
"پی ڈی ایم کا ایم پی او 3 اور 16 کے تحت گرفتاری آرٹیکل 10 کے متصادم ہے۔ آرٹیکل 9، 14، 15،16 اور 17 کی خلاف ورزی ہو رہی ہے۔ اور لوگوں کو مجرموں کی طرح پکڑتے ہیں گھر میں گھس کر توڑ پھوڑ کرتے ہیں۔" ایڈووکیٹ اظہر صدیق صاحب
مزمل صاحب! عمران خان صاحب کے نام اور تصویر پر پابندی کس نے لگائی؟
اگر عمران خان صاحب کا نام، تصویر اور تشہیر ٹی وی چینلز پر نشر نہیں کی جا رہی تھی تو واضح کیجیے کہ اس پابندی کا تحریری حکم کس ادارے نے جاری کیا تھا؟ کیا پیمرا نے ایسا کوئی باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کیا تھا، یا یہ ٹی وی چینلز کی جانب سے اختیار کی گئی پالیسی تھی؟
تاریخی حقائق یہ ہیں کہ اکتوبر 2020 میں نواز شریف صاحب کی تقاریر نشر ہونے کے معاملے پر میری شکایت کے بعد پیمرا نے اشتہاریوں اور مفرور ملزمان کی تقاریر، انٹرویوز اور عوامی خطابات نشر کرنے کے خلاف حکم جاری کیا تھا۔ اس کارروائی کا عمران خان صاحب کے نام یا تصویر کی تشہیر پر پابندی سے کوئی تعلق نہیں تھا۔
مزید یہ کہ 11 نومبر 2024 کو لاہور ہائی کورٹ کے سامنے پیمرا نے واضح کیا تھا کہ عمران خان صاحب کا نام نشر کرنے پر پابندی کا کوئی نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا گیا۔
لہٰذا دو مختلف معاملات کو ایک قرار دینے کے بجائے اصل حکم، اس کی تاریخ، قانونی بنیاد اور متعلقہ ادارے کی نشاندہی کیجیے۔ اگر کسی عدالت نے پابندی لگائی تھی تو اس کے فیصلے کا حوالہ بھی دیجیے۔
نواز شریف صاحب کے معاملے میں میری شکایت اور پیمرا کی کارروائی کو عمران خان صاحب کے نام اور تصویر کی تشہیر سے جوڑنا حقائق کی درست ترجمانی نہیں۔ اختلاف ضرور کیجیے، مگر تاریخ اور ریکارڈ کی بنیاد پر۔@MSuharwardy_ @HamidMirPAK
مزمل صاحب! عمران خان صاحب کے نام اور تصویر پر پابندی کس نے لگائی؟
اگر عمران خان صاحب کا نام، تصویر اور تشہیر ٹی وی چینلز پر نشر نہیں کی جا رہی تھی تو واضح کیجیے کہ اس پابندی کا تحریری حکم کس ادارے نے جاری کیا تھا؟ کیا پیمرا نے ایسا کوئی باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کیا تھا، یا یہ ٹی وی چینلز کی جانب سے اختیار کی گئی پالیسی تھی؟
تاریخی حقائق یہ ہیں کہ اکتوبر 2020 میں نواز شریف صاحب کی تقاریر نشر ہونے کے معاملے پر میری شکایت کے بعد پیمرا نے اشتہاریوں اور مفرور ملزمان کی تقاریر، انٹرویوز اور عوامی خطابات نشر کرنے کے خلاف حکم جاری کیا تھا۔ اس کارروائی کا عمران خان صاحب کے نام یا تصویر کی تشہیر پر پابندی سے کوئی تعلق نہیں تھا۔
مزید یہ کہ 11 نومبر 2024 کو لاہور ہائی کورٹ کے سامنے پیمرا نے واضح کیا تھا کہ عمران خان صاحب کا نام نشر کرنے پر پابندی کا کوئی نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا گیا۔
لہٰذا دو مختلف معاملات کو ایک قرار دینے کے بجائے اصل حکم، اس کی تاریخ، قانونی بنیاد اور متعلقہ ادارے کی نشاندہی کیجیے۔ اگر کسی عدالت نے پابندی لگائی تھی تو اس کے فیصلے کا حوالہ بھی دیجیے۔
نواز شریف صاحب کے معاملے میں میری شکایت اور پیمرا کی کارروائی کو عمران خان صاحب کے نام اور تصویر کی تشہیر سے جوڑنا حقائق کی درست ترجمانی نہیں۔ اختلاف ضرور کیجیے، مگر تاریخ اور ریکارڈ کی بنیاد پر۔
M Azhar Siddique retweeted
جس پارلیمنٹیرین کو یہ بنیادی فرق ہی معلوم نہ ہو کہ بے ضابطگی کیا ہے، غیر قانونی عمل کیا ہے اور کرپشن کیا ہے، وہ دوسروں کو کیا سمجھائے گا؟
اگر کسی معاملے میں بے ضابطگیوں کی نشاندہی کی جا رہی ہے تو پھر یہی اصول وفاقی حکومت اور دیگر صوبوں پر بھی یکساں طور پر لاگو ہونا چاہیے۔ احتساب کا معیار سب کے لیے ایک ہونا چاہیے، نہ کہ سیاسی وابستگی کی بنیاد پر مختلف۔
لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ ہمارے بعض صحافی بھی بے ضابطگی، غیر قانونی عمل، کرپشن اور کرپشن کے الزامات کے درمیان فرق کیے بغیر گفتگو کرتے ہیں اور ان اصطلاحات کو ایک دوسرے کا متبادل بنا کر پیش کرتے ہیں۔
یاد رکھیے، بے ضابطگی بذاتِ خود کرپشن کا ثبوت نہیں، غیر قانونی عمل اور کرپشن بھی ہر صورت ایک ہی چیز نہیں، اور محض الزام کسی کو مجرم ثابت نہیں کرتا۔ ہر معاملے کو حقائق، شواہد اور قانون کی روشنی میں پرکھنا ضروری ہے۔
صحافت ہو یا سیاست، تنقید ہو یا احتساب، ذمہ داری کا تقاضا ہے کہ الفاظ کا درست استعمال کیا جائے اور حقائق کو رائے سے الگ رکھا جائے۔
فرق جانیے، حقائق سمجھیے اور پھر بات کیجیے۔
thefridaytimes.com/16-Jun-20…
ثمر! یہ بریکنگ یا انکشاف نہیں بلکہ ڈیڑھ سال پہلے میں اپنے کالم 👆میں ان تمام بے ضابطگیوں کی نشاندہی کر چکا ہوں






















